پاکستانی عوام کا پولیٹیکل ڈیمینشیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم پاکستانی عوام پولیٹیکل ڈیمنشیا کا شکار ہیں۔ ڈیمنشیا علامات کے ایسے مجموعے کا نام ہے جو سیدھا انسان کے دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ انسان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے، یاداشت آہستہ آہستہ کام کرنا چھوڑ جاتی ہے، تجزیاتی اور تخلیقی صلاحیتیں جامد ہو جاتی ہیں اور آہستہ آہستہ دماغ کام کرنا بالکل ہی بند کر دیتا ہے۔ مرض بتدریج بڑھتا چلا جاتا ہے، دماغی خلیات خراب ہو جاتے ہیں اور آخر کار انسان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔ ہم لوگوں کا ڈیمینشیا سیاسی نوعیت کا ہے اور اپنی طرز کا ایک منفرد مرض ہے۔

تو میں یہ عرض کر رہا تھا کہ ہم پاکستانی عوام پولیٹکل ڈیمنشیا کے بدترین شکار ہیں اور رہنا چاہتے ہیں۔ ہماری سیاسی یاداشت اس موذی مرض کا شکار ہو چکی ہے۔ اور شاید اب ہم اس مرض کی چھٹی سٹیج پر ہیں۔ اس ظالم مرض کی کل سات سٹیجز ہیں۔ گزشتہ پندرہ سال کی سیاسی ہسٹری کھول کر دیکھیں۔

چلیں سن دو ہزار پانچ سے شروع کرتے ہیں ( اگر آپ کی یاداشت آپ کا ساتھ دے تو) ۔ سب سے پہلے پاکستان کے خوش رنگ اور بھلے نعرے آپ کی یاد سے اب تک محو ہیں ہوئے تو یاد کریں وہ سنہرا دور جب ترقی کو ماپنے کا انڈیکیٹر، بقول ایک سٹی بینک کے ماہر اور ہمارے ایکس پرائم منسٹر، یہ تھا کہ ہر گھر میں موبائل فون آ گیا تھا۔ چینی سرمایہ کاری کا بہاؤ شروع ہو چکا تھا اور گوادر پورٹ اور گوادر سٹی کی تعمیر و ترقی عروج پر تھی (آج بھی جاری و ساری ہے ) ۔

ملک پر اعتماد کی یہ حد تھی کہ ہمارے اپنے (اسی) وزیراعظم کی سرمایہ کاری ہمارے نارنجی رنگ والے ہمسایہ ملک میں تھی۔ پھر وہ تمام کیریکٹرز اچانک سے غائب ہو گئے۔ اس دور کی چند ایک لوکل نشانیاں ابھی بھی پوری آب و تاب سے موجود ہیں۔ بے چارے سولجر صدر کو یہ باور کروانے والے تمام تر پرندے اڑ کر دوسری شاخوں پر جا بیٹھے کہ سر آپ اس ملک کی ضرورت ہیں۔ اور یہ پرندے ان شاخوں کے مکینوں کو یہی کہانی سنانے لگے۔

پھر اگلے صدارتی دور کی بنیاد خون آلود تیر بن گیا۔ خون کبھی رایئگاں نہیں جاتا یہ تو سنا ہے مگر کسی کسی کو اتنا فائدہ دیتا ہے، یہ پہلی مرتبہ اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا۔ جمہوریت یقیناً بہترین انتقام ہے۔ جمہور کے ساتھ اس انتقام کو پانچ سالوں تک ہوتے دیکھا۔ بجلی، پانی، آٹے اور روزگار کے مارے عوام کو شدت پسندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ برین ڈرین کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع ہوا اور طول پکڑ گیا۔ ملکی صنعت کو بنگلہ دیش تک وسعت مل گئی، اگر اپنے ملک میں نہ رہی تو کیا غم تھا۔ مفاہمت کی سیاست اور شخصی مفادات کی برتری کون ٹاپ پر رہی، وثوق سے کچھ کہنا مشکل ہے۔ قوم اس مشکل وقت کو بھی جھیل گئی اور ہمارا پولیٹیکل ڈیمنشیا اس کو بھی کھا گیا۔ آج یقیناً مجھ سمیت آپ میں سے کسی کو وہ خوف میں سہمی راتیں اور میریٹ ہوٹل کی طرح زمین ہلانے والا دن کسی کو بھی یاد نہیں۔

پھر یکایک وقت نے پلٹی کھائی اور ایک آزمودہ وزیر اعظم کی آمد کے ساتھ ہم اپنی تمام تر امیدیں تیسری مرتبہ اس آس پر لگا بیٹھے کہ تاریخ رقم کرنے والے، سابقہ ہیوی مینڈیٹ والے وزیر اعظم اس ملک کو لاحق تمام مسائل کا حل اپنے تجربے اور بیرون ممالک اپنے تعلقات کو استعمال کرتے ہوئے نکال لیں گے۔ ان کی باتوں سے کم از کم لگتا بھی یہی تھا۔ لیکن تاریخ میں زندہ رہنے کے لیے صرف (شدید خوا ہش کے ساتھ) تیسری مرتبہ وزیر اعظم بننا ہی کافی نہیں ہوتا ”ڈیلیور“ بھی کرنا پڑتا ہے۔

تجارت ان کی ترجیح رہی، خصوصاً اپنے ہمسایہ نارنجی رنگ والے ملک کے ساتھ اور وہاں سے ایک ”گجراتی صاحب“ یہاں طیارے میں تشریف لائے بھی، چاہے وہ پاکستان کے ساتھ کچھ بھی کرتے رہے، ڈیم بنانا اور ہمارا پانی روکنا اور اقوام عالم میں ہمیں تنہا کرنا وہاں سے جاری رہا مگر آلو اور تجارت ہمیشہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے اہم ہوتی ہیں۔ وہ عجیب سے انداز سے رخصت ہوئے۔ مگر ان کی واپسی کا سفر بھی ہمارے ڈیمنشیا نے کھا لیا۔

پھر دور آ گیا ”یو۔ ٹرن“ کے ماہر کا۔ خوبصورت ترانوں اور رنگارنگ نغموں سے ( کپ کی جھلک سے بھی) عوام الناس کو مسحور کرنے سے لے کر مرغیاں پالنے تک اور ڈیری کی مصنوعات کر فروغ دینے تک کے اس سفر میں سب کچھ گزشتہ حکومت کی وجہ سے خراب رہا ہے۔ کنٹینر سے اتر کر اختیارات سنبھالنے کے سفر نے چہرے پر جتنی جھریوں کا اضافہ کر دیا ہے وہ بجائے خود اس کی گواہ ہیں کہ تیرے گھر کے راستے میں کوئی کہکشاں نہیں ہے۔ مگر شوق کا کوئی۔

آئی۔ ایم۔ ایف سے قرضہ، معیشت کی تباہی اور اقوام عالم میں تنہائی بھلے ہوئی ہوں مگر پی۔ ایس۔ ایل کا پاکستان میں کامیاب انعقاد اس بات کا گواہ ہے کہ یہ ملک ٹھیک سمت میں جا رہا ہے، روزگار، صحت اور تعلیم مہیا کرنا ویسے بھی حکومت کی ذمہ داری نہیں ہوتی۔ ابھی یہ دور اپنی تمام تر ترتابانیوں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔ اور ابھی سال بھی تو تقریباً دو ہی ہوئے ہیں۔ مگر ہم اس دور کی بھی زیادہ تر باتیں بھول چکے ہیں ( مجھے خود کچھ یاد نہیں آ رہا ہے ) ۔

وقت کا پہیہ جلد ہی چکر کھائے گا اور یہ وقت بھی گزر جائے گا اور یہ سب کچھ ہماری یاداشت سے محو ہو جائے گا۔ ہم اپنے ڈیمنشیا کی اگلی سٹیج میں چلے جائیں گے اور اگلے حکمران شاید پھر شیر جیسے ہوں، تیر والے ہوں یا پھر دوبارہ ( ویسے مشکل ہے ) کرکٹ کا کھیل شروع ہو جائے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply