لاک ڈاؤن کے دوران بچوں سے برتاؤ کیسا رکھیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کینڈا کی انتہائی تیز رفتار زندگی میں صبح سویرے بھاگ دوڑ کرکے ملازمت پر پہچنے اور دن بھر شدید جسمانی اور ذہنی مشقت کی بجائے ہلکی سردی میں بستر میں بیڈ ٹی کے مزے لیتے، آن لائن ٹیچنگ کرتے اور موسیقی سنتے ہوئے کھڑکی میں سے ہری ہری گھانس پر بارش کے قطروں کی نمی دیکھنے کو میسر آئے تو عابدہ پروین کی آواز میں گائی ہوئی ضیاء جالندھری کی غزل ”رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے“ کے معنی کتنے حسین محسوس ہوتے ہیں۔

میں ٹورنٹو کے ایک گورئمنٹ اسکول میں بطور سپیشل ایجوکیشن ریسورس فسیلی ٹیٹر کام کرتی ہوں۔ کویڈ نائنٹین کی وجہ سے اسکول بند ہیں اور میں پچھلے کئی ہفتوں سے آن لائن ٹیچنگ کررہی ہوں۔ اس دوران جب دل چاہا کام روک کر بریک لے لیا اور باہر چہل قدمی کرنے چلے گئے یا پھر بچے اور شوہر کی محبت میں سرشار ہوکر انہیں کوئی پکوان پکا دیا۔

اکثر کھانا پکاتے ہوئے کمپیوٹر کو کچن کاؤنٹر پر ہی رکھ لیا اور کانوں میں ہیڈ فون لگا کر آن لائن اسٹاف میٹنگ یا پروفیشنل ٹریننگ کا حصہ بن گئے یا پھر اپنے شاگردوں کے والدین کو ویڈیو کال کرکے کچھ مفید مشورے دے ڈالے کہ زمانہ وائرس میں بچوں کو پیار سے کس طرح ڈسیپلن کریں اور اسکول کے سپورٹ سسٹم کو کیسے موثر طریقے سے استعمال کریں۔

والدین سے بات چیت کے دوران جو ایک بات میں شدت سے محسوس کررہی ہوں کہ ہم اس عہد میں زندہ ہیں جہاں والدین کہ پاس نہ تو ٹائم ہے اور ناہی وہ اس بات میں دلچسپی رکھتے ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کو کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ حتی کے کچھ والدین تو یہ بھی نہیں جانتے کہ اپنے ہی بچوں کے ساتھ پورا دن کیسے گزاریں۔

اسکول میں جہاں بچوں کو پڑھنے میں مدد دینے کے علاوہ اور بہت سے دوسرے کام میری ذمے داریوں میں شامل ہیں۔ انہی میں سے ایک کام بچوں میں خوف اور پریشانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے منفی جذبات اور ان کے تشدد آمیز رویے کی روک تھام بھی ہے۔

میرا کام بچوں کو وہ طریقے سکھانا ہے جس سے وہ اپنے مثبت یا منفی جذبات کو پہلے پہچانیں اور پھر پھرانہیں قابو میں رکھیں تاکہ وہ خود کو اور دوسروں کو اپنے منفی رویوں سے نقصان نہ پہنچائیں۔ اس کے علاوہ والدین کو ایسے طریقے سکھانا کہ جن کے استعمال سے بچے بغیر مار پیٹ کے آپ کی بات سمجھ بھی جائیں اور مان بھی جائیں۔

اب وبا کے موسم میں خوف اور بے یقینی کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال میں ایک عام انسان کو زندگی پر اپنی گرفت کمزور پڑتی نظرآرہی ہے جس سے اس کے غم اور غصے میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ اس بات کا ثبوت کرونا وائرس کی وبا کے دوران دنیا بھرمیں لاک ڈاؤن یا پھر خود کو تنہائی میں رکھنے پر مجبور افراد میں بڑھتی ہوئی گھریلو تشدد کی وارداتوں سے بھی لگایا جاسکتا ہے۔

جھنجھلائے ہوئے والدین اکثر ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔ وہ گزشتہ اورآئندہ آنے والی معاشی پریشانی کے لئے فکرمند ہوں یا پھر شاید سماجی دوری کی وجہ سے دوستوں اور رشتے داروں سے ملنے سے قاصر ہوکر بور ہورہے ہوں۔ وجہ کچھ بھی ہو مگر اکثر ان کی فرسٹریشن کا شکار بنتے ہیں گھر میں خوش وخرم شور مچاتے کھیلتے کودتے معصوم بچے۔

والدین کی پریشانی کا احوال واٹس پر گردش کرتے اس ایک لطیفے سے بھی بخوبی لگایا جاسکتا ہے ”اگر اسکول اسی طرح مسلسل بند رہے تو سائنسدان وائرس کی ویکسین بنائیں یا بنائیں والدین نے ضرور بنالینی ہے“

سوال یہ ہے کہ دوران وبا جب ہم اپنے گھروں میں وبا سے محفوظ ہونے کی کوشش کررہے ہیں اس وقت منفی جذبات سے کیسے بچا جائے؟ اور اگرلاک ڈاؤن کے دوران ہم کسی طرح سے اپنے بچوں پر گھریلو تشدد یا تذلیل کا مرتکب ہورہے ہوں تو آپنے آپ کو کیسے روکا جائے۔ خاص کر پاکستان جیسے ملک میں جہاں بچوں پر گھریلو تشدد اور تذلیل کو کوئی مسئلہ سمجھنے کے بجائے والدین کا حق سمجھا جاتا ہے اور اسی لئے اس سے بچاؤ کے لئے کوئی قوانین بھی نہیں ہیں۔

اس وقت بحثیت اسکول کاونسلر میں بچوں کو ڈسیپلن کرنے اور ان کے منفی رویوں کو روکنے کے لئے والدین کو جو لسٹ دے رہی ہوں اس میں سب سے اہم بات یہ کہ ماں باپ بچوں کو ڈسیپلن کرنے اور اپنی ذہنی صحت برقرار رکھنے کے لئے خود اپنی زندگی میں نظم و ضبط برقرار رکھیں۔

مثال کے طورپر اپنے اور بچوں کے رات کو سونے کا وقت وہی رکھیں جو اسکول جانے کے زمانے میں تھا۔
صبح نہانا دھونا، کپڑے تبدیل کرنا اور ناشتہ کرنا سب اس ہی وقت پر ہو جو اسکول کے زمانے میں تھا۔
ناشتے کے بعد روزانہ ایک مقررہ وقت اور مقام کو بچوں کی پڑھائی کرنے کے استعمال کریں۔

ایک سے دو گھنٹے پڑھائی کے بعد بچوں کو دوپہر کے کھانے تک جسمانی کھیل کھیلنے کا وقت دیں اور پھر دوپہر کے کھانے کے بعد ان کو ایسی سرگرمیوں میں ملوث کریں جو کہ خاموشی سے بیٹھ کر کھیلی جاسکیں۔ جیسے کہ ڈرائنگ بنانا، کلرنگ کرنا، مطالعہ کرنا یا موسیقی سننا۔

شام کی چائے کے بعد بچوں کو زیادہ سے زیادہ ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ ٹی وہ دیکھنے یا کمپیوٹر پر ایجوکیشنل گیمز کھیلنے کی اجازت ہو اور پھر ان سے گھر کے چھوٹے موٹے کاموں میں ماں باپ کی مدد طلب کی جائے۔ تاکہ وہ اپنے آپ کو گھرا کا اہم فرد سمجھتے ہوئے گھریلوذمہ داریوں میں ہاتھ بٹاکر خوشی حاصل کرسکیں اور انہیں ان کاموں کو سیکھنے کا موقع بھی مل جائے۔

رات کے کھانے کے بعد ماں باپ یا گھر کے دوسرے بزرگ مل کر بچوں کے ساتھ لیڈو یا کیرم بورڈ جیسے بورڈ گیمز کھیلیں اور رات کو سونے سے پہلے بچوں کو اپنے بچپن اور اسکول کے دنوں کے قصے سنائیں۔

اس کے علاوہ بچوں سے اپنی بات منوانے کے لئے ان کے ساتھ مل کر ریوارڈ سسٹم بنائیں جس میں اگر بچہ وہ کام کرے جس کی ہدایت آپ نے دی ہو تو کام کے اختتام پر اسے اسکا من پسند انعام دیا جائے۔ جیسے کہ دن کے متعین کیے گئے ٹی وی یا اسکرین ٹائم کے علاوہ 10 منٹ کمپیوٹر یا موبائل پر گیم کھیلنے کی اجازت یا کوئی اور پسندیدہ چیز جیسے کسی کھلونے سے کھیلنا یا کچھ کھانا۔ اور اگر بچہ آپ کی بات نہ مانے تو وہی چیز یا رعایت نہ دی جائے۔

بہت دفعہ بچوں کو غیر پسندیدہ کام جیسے اسکول کا کام پر آمادہ کرنے کے لئے ”فرسٹ اینڈ دین“ سسٹم کو بھی استمال کیا جاسکتا ہے مثال کے طور پر اگر بچے کو آئس کریم پسند ہے تو کہیں پہلے کام کرو پھر آئس کریم ملے گی۔

کرونا وائرس کے پھیلنے کے بعد یہ انکشاف بھی کیا جا رہا ہے کہ اس کے خاتمے کے بعد دنیا کا طرز عمل بہت سارے معاملات میں بدلنے جا رہا ہے اور ساتھ ساتھ یہ امید ہے کہ شاید اب نفسیاتی تعلیم کا آغاز پرائمری سطح سے ہی شروع کیا جائے گا۔

بچوں پر اس وقت گھریلو تشدد کی ایک بہت اہم اور بڑی وجہ گھریلو تربیت اور اسکول میں دی گئی تعلیم میں نفسیاتی تعلیم سے شناسائی کا فقدان بھی ہے۔ ہم والدین جب بچے تھے تو ہمیں گھر یا اسکول کہیں نہیں سکھایا جاتا تھا کہ اپنے ہی مثبت اور منفی جذبات کو کیسے پہچانا جائے، ان کا مناسب اظہار کیسے کیا جائے اور جب جذبات قابو سے باہر ہونے لگیں تو انہیں لگام دے کر کیسے رکھا جائے۔

آپ کے بچے آپ کا مستقبل ہیں۔ اپنے مستقبل کو پیارسے سنچیں، انہیں اپنے غصے سے محفوظ رکھیں اور بچوں کی بہتر پرورش کے لئے کتابیں پڑھ کر اور انٹرنیٹ کے ذریعے خود کو بہتر والدین بنے کی تربیت لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply