اٹھارہویں ترمیم اور کیک کا سائز


ایک بار پھر تاریخ اپنے آپ کو دوہرانے کے لئے اتاؤلی ہوئی جا رہی ہے۔ ایک بار پھر سیاسی پارٹیوں کا بازار مصر سجنے والا ہے۔ پھر ارکان اسمبلی کو ڈرایا دھمکایا اور للچایا جائے گا۔

ای بار پھر تین سال والی توسیع کی طرح کا پارلیمینٹیرینز کا جمعہ بازار لگنے کی تیاریاں ہو رہی ہیں۔ پھر نیب اپنی آئی پر لایا جائے گا۔ پگڑیاں اچھلنے اور اچھالنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ زور زبردستی دھونس و دھاندلی سے ارکان کو مجبور کیا جائے گا۔ پارلیمنٹ کی مزید بے توقیری کی جائے گی۔ وجہ صرف یہ ہے کہ ایک ایسی آئینی ترمیم کی تبدیلی ناگزیر ہو چکی ہے جس کو پارلیمنٹ 2010 میں متفقہ طور پر منظور کر چکی ہے۔ تین سال کی دن رات محنت شاقہ سے تیار کی گئی ترمیم میں، ترمیم کی ضرورت آن پڑی ہے۔ ضرورت بھی ایسی کہ جس کی وجہ سے پچھلے دس سال پاکستان کے معاشی اور سیاسی نظام کو تلپٹ کیے رکھا۔ کبھی کوئی سرکاری ادارہ بندوق لے کر سیاسی نظام کی بیخ کنی کرنے آن کھڑا ہوا تو کبھی کوئی آئینی ادارے کو قانون و انصاف کا ہتھوڑا پکڑا کر نظام حکومت کو مفلوج کرنے کے لئے بھیج دیا گیا۔

عوام کا امتحان ایک بار پھر لیا جائے گا۔ صوبوں کے حقوق ایک بار پھر غصب کیے جائیں گے۔ ایک بار پھر صوبوں کی طرف سے ندا آنے کو ہے کہ پنجاب ہی اصل پاکستان ہے۔ کیک بڑا نہیں کیا گیا اور نہ ہی ہونے دیا گیا مگر وفاق اور اس کے ماتحت اداروں کو کیک کا سب بڑا حصہ درکار ہے۔

اٹھارہویں ترمیم سے پہلے وسائل کے کیک کی تقسیم بھی کچھ عجب ہی تھی کہ صوبوں کے حقوق در خور اعتنا ہی نہیں سمجھے جاتے تھے۔ 2010 میں مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ کیا کہ اٹھارہویں ترمیم کے ساتھ صوبوں کو ان کے جائز حقوق دیے جائیں۔ دونوں سیاسی پارٹیوں نے اپنے اتحادی سیاسی پارٹیز کو قائل کیا اور تمام کی متفقہ قراداد لائی گئی اور مہینوں اس پر پارلیمنٹ میں بحث ہوتی رہی آخر کار منجملہ تمام پارٹیز نے متفقہ طور پر یہ عظیم آئینی ترمیم منظور کی۔

اس ترمیم کا فیض تھا کہ پنجاب نے اپنے وسائل اور محاصل سے چھ سالوں میں ریکارڈ ترقیاتی کام کیے۔ جن میں تین شہروں میں میٹرو بس سروس، لاہور کی اورنج ٹرین منصوبہ، کئی بجلی کے منصوبے پورے کیے۔ وفاق کا کام یہ تھا کہ اگر ترقیاتی منصوبوں کے لئے کسی صوبے کو بین الاقوامی گارنٹی چاہیے تو وفاق اس کو مہیا کرے۔

جیسا میں نے عرض کیا کہ یہ ترمیم ”دل یزداں“ میں کانٹے کی طرح کھٹکتی رہی ہے۔ ایک سرکاری اہل کار نے تو اس ترمیم کو مشرقی پاکستان سے بھی بڑا سانحہ قرار دے ڈالا تھا۔ پچھلے دس سال اس ترمیم کے پیچھے بہت سے محکمے اور ادارے اپنا اپنا کام نہیں بلکہ دوسروں کا کام کر رہے تھے۔ گمان ہے کہ مقتدر حلقوں کی طرف سے موجودہ رجیم کو لانے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ اٹھارہویں ترمیم سے جان چھڑوائی جائے گی۔ آج بظاہر تو ایک جمہوری وزیر اعظم کام کر رہے ہیں مگر اس سے پہلے بھی اس طرح کے وزیر اعظم کہ جن کو جمہوریت کی بس کا ڈرائیور ہونا چاہیے وہ کنڈکٹری کرتے رہے ہیں اور موجودہ وزیراعظم تو اس سے بھی زیادہ بے اختیار ہیں کہ وہ ہاکر کے رینک تک محدود کر دیے گئے ہیں۔ ان کو ارشاد مقام معلی سے پہنچا دیا گیا ہے کہ ترمیم میں ترمیم لانی ہے، سو تیاری شروع ہو چکی ہے۔

میڈیا کی فوج ظفر موج کو ہلا شیری دے دی گئی ہے۔ اٹھارہویں ترمیم کے نقصانات پر بڑے بڑے نام نہاد اینکرز جن کا لحن و دہن کبھی بگاڑ سے باہر نہیں نکل سکا اور قیامت تک کی خبریں لانے والے ڈاکٹرز حضرات اس کار خیر میں جوت دیے گئے ہیں۔ جب اٹھارہویں ترمیم متفقہ طور پر منظور ہوئی تھی اس وقت تحریک انصاف کا کوئی رکن پارلیمنٹ میں موجود نہیں تھا مگر موجودہ حکمران پارٹی کے بے شمار ارکان اس ترمیم کی منظوری میں شامل حال رہے ہیں کیونکہ ان کو ابھی تک تحریک انصاف کی طرف ہانکا نہیں لگایا گیا تھا۔

بظاہر شہباز شریف کو انکم سے زیادہ اثاثے رکھنے پر عنقریب گرفتار کر لیا جائے گا۔ اسی طرح خورشید شاہ صاحب کی ضمانت ابھی تک نہیں ہونے دی جا رہی۔ ڈیل و ڈھیل کے تمام ہنر آزمائے جائیں گے۔ جن کو دین و دل عزیز ہو گا وہ اس گلی کی طرف نظر بھی نہیں اٹھائے گا۔ جس ترمیم پر ساری قوم مطمئن و مامون تھی اس کو قومی سطح پر متنازعہ بنایا جائے گا۔ ایسے ایسے کیڑے نکالے جائیں گے کہ ساری قوم دو دھڑوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ میڈیا اپنا کام کر رہا ہوگا۔

انصافی یوتھ فوج اپنی اپنی ڈفلی بجا رہی ہوگی۔ ہانکے گئے سیاستدان اس کی مین میخ نکال رہے ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا جائے گا کہ حضور آپ تو اس کی منظوری میں شامل تھے۔ آپ اس وقت غلط تھے یا اب غلط ہیں؟ جواب میں وہ قومی مفاد کا چورن بیچیں گے۔ طرح طرح کے جواز پیش کریں گے۔ ہو سکتا ہے اٹھارہویں ترمیم کے نقصانات کو مذہبی لبادہ پہنانے کے لئے درباری علما کو بھی استعمال کیا جائے۔ آپ جانتے ہیں جب کسی بھی چیز کے حق میں یا مخالفت میں مذہبی تاویل پیش کر دی جائے تو بڑے بڑے دانشوروں کی سٹی گم ہو جاتی ہے۔ کوئی کیوں چاہے گا کہ اپنے پیچھے بلائیں لگائی جائیں۔

موجودہ حکومت میں کیک بڑا کرنے کی نہ صلاحیت ہے اور نہ ہی خواہش۔ اس چھوٹے سے کیک کو ہی بانٹنا ہے وفاق میں بھی اور صوبوں میں بھی۔ اس ترمیم کے مابعد الترمیم کیک کی تقسیم کا جو نقشہ میرے ذہن میں آ رہا ہے وہ کچھ یوں ہو گا۔

یہ میرا حصہ ہے۔
یہ میرا حصہ اس لئے ہے کہ میں وفاق ہوں۔
یہ بھی میرا حصہ ہے کیونکہ اگر ہمت ہے تو لے کر دکھاؤ۔

Facebook Comments HS