سچ کو جھوٹ نہیں کہا جاسکتا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ تحریر خاص طور میڈیا اور سوشل میڈیا کے چھوٹی ذہنیت، خود ساختہ دانشوروں اور اخلاقی، مذہبی، سیاسی، سماجی تعلیم سے دور منفی سوچ والی شخصیات کے نام ہے۔ گزشتہ دنوں وزیراعظم کی میزبانی میں ٹیلی تھون ٹرانسمیشن کے اختتام میں معروف عالم دین مولانا طارق جمیل نے چند جملے کہے، جن کا مختصراً مفہوم یہ ہے ہم جھوٹ بولتے ہیں، بے حیا ہیں۔ اس سب میں مولانا صاحب نے کچھ غلط نہیں بولا۔

میرے لئے مولانا صاحب قابل احترام ہیں لیکن میری ان سے کوئی مذہبی عقیدت نہیں۔ لکھ اس لیے رہا ہوں کہ کیسے کیسے چہرے میڈیا اور سوشل میڈیا پہ تنقید کررہے ہیں۔ اور یقین جانیے ان میں سے زیادہ تر توفیق ملنے پہ صرف مولانا طارق جمیل ہی کو سنتے ہیں۔ کیونکہ وہ کڑوی باتیں میٹھے انداز میں کرتے ہیں۔ اس بار کڑوی باتیں سیدھی منہ پہ کردیں۔

مولانا صاحب نے انصاف، جھوٹ، بے حیائی، سود، حرام کا ذکر کیا۔ بصد احترام! بس مولانا صاحب کی غلطی صرف یہ ہے کہ ان کا ہر دور میں ہر بادشاہ کے دربار میں بغیر کسی مقصد آنا جانا بہت لگا رہتا ہے۔ جس کی وجہ ان کو ان حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ اور معافی مانگنی پڑی۔

یہاں ڈیم کے نام پہ ”چونا“ لگایا جاتا ہے۔ ایک قاضی سارے انصاف کے نظام کو گندا کردیتا ہیں۔ مرنے کے بعد بھی انصاف مل جائے تو خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے۔ میں ایک وکیل ہونے کی حیثیت سے بھی اپنی معزز ججز صاحبان کے بارے بات نہیں کرسکتا۔ کیسے ایک بھی نہیں، پانچ پانچ قتل کرنے والوں کو ضمانتیں مل جاتیں ہیں۔ یہاں کسی قاضی کے رشوت خور ہونے کا نام لکھو تو یقین جانیے ادارہ بھی بند اور میں بھی۔ میری رائے میں تو یہاں تو قاضی کی بھرتی بھی سیاسی ہوتی ہے۔ جو الیکشن جیت جائے، وہ قاضی بن جاتا ہے۔

اب میڈیا کی بات کرتے ہیں کہ یہاں جھوٹ بولا جاتا ہے۔ صرف چند نام لکھوں گا، جن کا ریاست بھی احترام کرتی ہے اور ہر سیاسی جماعت بھی، چاہے وہ جتنی بھی تنقید کریں کیونکہ وہ امکان، ذرائع اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی بجائے حقائق پہ مبنی خبر عوام تک پہنچاتے ہیں۔ لیگل نوٹس بھجوانا ریاست کے تمام اداروں اور شہریوں کا حق ہے۔ کیونکہ کبھی خبر غلط بھی ہوسکتی ہیں لیکن ہر وقت توقع پہ عوام کو گمراہ کرنا بہت برا فعل ہے۔

محترم سہیل وڑائچ، حامد میر، کاشف عباسی، شاہ زیب خانزادہ، کامران شاہد، نسیم زہرہ، کامران خان، ندیم ملک، جاوید چوہدری، وسیم بادامی وغیرہ یہ وہ صحافی ہیں جن کی رائے سے اختلاف کرسکتے ہیں۔ لیکن یہ سب جج نہیں بنتے۔ کسی نہ کسی پہلو سے صحافتی دائرہ کار میں رہتے ہیں۔ اور کچھ ایسے ہیں ایسے جھوٹ بولتے ہیں کہ جھوٹ سچ لگتا ہے۔ اور یہی وہ وجہ ہے جس کے نرغے میں سب آجاتے ہیں۔ اور صاف بھی گندا لگتا ہے۔

منافع خوروں کا ذکر ہوا، تو صرف اتنا ہی لکھا جا سکتا ہے کہ کرونا کی وبا میں لوگوں نے جراثیم کش محلول تک مہنگے کردیے۔

بحیثیت ایک معاشرہ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ جب یہ خبر دنیا تک پہنچی تو کیا وہ یہ سوچے گی کہ کراچی، لاہور، اسلام آباد میں منافع خور لوگ ہیں یا یہ کہے گی کہ پاکستانی قوم کتنی ظالم قوم ہے۔ یقیناً پاکستان کا ہی برے الفاظ میں ذکر ہوگا۔ بحیثیت قوم بے حیائی اور کردار کا ذکر ہوا، تو یقین جانیے! میں ایسے لوگوں کو جانتا ہوں، کہ وہ عورت مارچ پہ خواتین کے حقوق کا راگ الا پتے رہیں، لیکن نام لئے بغیر ہی کہوں گا کہ ایک تو ایسے ہیں جو پانچ سال لڑکی کے ساتھ ریلیشن میں رہے اور عین نکاح کے وقت جہیز کی ڈیمانڈ کردی جو لڑکی والے پوری نہیں کرسکتے تھے۔ اور جناب سوشل میڈیا پہ لیکچر دیتے ہیں۔ یہاں روز حرام پینے والے سوشل میڈیا پر خطبات دیتے ہیں۔ اور ان کی منطق یہ ہوتی ہیں میرا اور رب کا معاملہ ہے۔

مان لیا پر عقل کے اندھوں کیا یہ معلوم نہیں کہ آپ ایک عہدے پہ ہیں لوگ آپ کو فالو کرتے ہیں۔ معاشرے میں کتنا آپ بگاڑ پیدا کررہے ہوں۔ آج یقیناً کسی مولانا طارق جمیل یا کسی اور مولوی کی ضرورت نہ پڑے اگر ہم حرام کھانا، بولنا، کرنا اور پینا چھوڑ دیں!


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments