باسٹھ فیصد پاکستانی اب بھی سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ دراصل مبالغہ آرائی ہے


پاکستان میں کورونا وائرس سے 300 سے زائد ہلاکتوں اور چودہ ہزار سے زائد مریضوں کے باوجود پاکستانیوں کی کثیر تعداد کورونا وائرس کے خطرے کو حقیقی نہیں سمجھتی۔

گیلپ اینڈ گیلانی پاکستان کے ایک حالیہ سروے کے مطابق مارچ کے بعد ہر پانچ میں سے تین پاکستانیوں کو لگتا ہے کہ کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

سروے میں ملک بھر سے شماریاتی طور پر منتخب خواتین و حضرات سے یہ سوال پوچھا گیا تھا کہ "برائے مہربانی بتائیں کہ آپ کس حد تک متفق یا غیر متفق ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ اتنا نہیں ہے جتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے؟”

گیلپ اینڈ گیلانی سروے کے مطابق باسٹھ فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ وہ اس بات سے متفق ہیں کہ کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ جبکہ اڑتیس فیصد نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کورونا وائرس کا خطرہ بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کیا گیا بلکہ یہ اتنا ہی خطرناک ہے۔

رپورٹ میں صوبوں کے نتائج میں فرق بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سندھ اور بلوچستان میں سے ہر چار میں سے تین جواب دہندگان کے مطابق کورونا کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

پنجاب سے اٹھاون فیصد، سندھ سے چوہتر فیصد، خیبرپختونخوا سے ستاون اور بلوچستان سے اناسی فیصد جواب دہندگان کے مطابق کورونا وائرس کے خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔

Facebook Comments HS