اجل، ان سے مل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملتان کے جنوب میں کوئی 30 میل کے فاصلے پر دریائے چناب کے مشرقی کنارے پر شجاع آباد واقع ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے پاکستان کے قریب قریب مرکز میں واقع اس زرعی قصبے کو پہلے پہل صلاح الدین صاحب کے طفیل جانا۔ پیرانہ سالی میں فکری دیانت اور سیاسی بیدار مغزی کا لائق احترام نمونہ ہیں۔ متوسط طبقے میں جنم لینے والے نوجوان ذیشان ہاشم نے انہی سے فیض پایا۔ معاشیات میں درک پا کر چھوٹی عمر میں ورلڈ بینک تک جا پہنچا۔ ’غربت اور غلامی‘ کے عنوان سے ایک عمدہ کتاب لکھی۔ اب لندن میں ڈاکٹریٹ کر رہا ہے۔ افسوس کہ ایسے سرسبز نہال ہماری زمیں سے سر نکالتے ہیں، جب برگ و بار آتا ہے تو مغرب میں داخل دفتر ہو جاتے ہیں۔ ہم اپنے بچوں کو کیوں دوش دیں۔ ہم نے اجتماعی طور پر علمی اور تخلیقی صلاحیت کو جذب کرنے کی صلاحیت کھو دی۔ قوم چوری کی بائیسکل نہیں جسے کسی اندھیری گلی میں اونے پونے فروخت کر دیا جائے۔ علم، اصول اور کردار کی ناقدری سے قوم کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ عزیزم ذیشان ہاشم نے سوال اٹھایا ہے کہ ’پاکستان میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد کورونا کو سنجیدگی سے کیوں نہیں لے رہی… کچھ کو تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ آیا یہ بیماری پائی بھی جاتی ہے یا محض ایک پروپیگنڈا ہے؟ کچھ لوگ اسے بیرونی امداد کی کمائی کا ذریعہ سمجھ رہے ہیں تو کچھ لوگوں کے نزدیک بیماری موجود ہے مگر لاک ڈاؤن نہیں ہونا چاہئے‘….

بیرون ملک بیٹھے احباب کو شاید مکمل اندازہ نہیں، ہم باقاعدہ لوگوں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔ دنیا میں شاید ہی کہیں کورونا کے ردعمل میں حکومت نے اپنے ہی لوگوں سے خیرات مانگی ہو۔ ایک طبی مسئلے کو اخلاقی میزان میں تولا ہو۔ ممکنہ طور پر بڑی تعداد میں شہریوں کی زندگیاں خطرے میں دیکھتے ہوئے بھی نظام صحت پر کسی سنجیدہ بحث کی ضرورت محسوس نہ کی ہو۔ حفاظتی لباس مانگنے والے ڈاکٹروں کو لاٹھیوں پر رکھ لیا ہو۔ کورونا کی ممکنہ تباہ کاری کو گزشتہ دو برس کی حکومتی ناکردہ کاری کی جواب دہی سے بچ نکلنے کی غیبی مدد جانا ہو۔ وہ جو دو ہاتھ دیے گئے تھے، ’رہن دعا‘ کر دیے گئے۔ جو وسائل موجود تھے، انہیں اٹھارہویں ترمیم کے نوحے میں اوجھل کر دیا۔ طبی سائنس اور انتظامی امور کے ماہرین سے استفادے کا دماغ نہیں، ملائے مکتب کی للو پتو ہو رہی ہے۔

جانتے ہیں کہ عالمی سطح پر ایسی قیامت اٹھی ہے کہ انسانی سفر برسوں پیچھے جا پڑا ہے۔ معیشت کا پہیا رک گیا ہے۔ سیاست کا نقشہ پلٹ رہا ہے۔ ہم نے مگر کوئی مربوط لائحہ عمل مرتب کرنے کی بجائے لطیفہ غیبی سے امید باندھ رکھی ہے۔ مقامی احوال یہ ہے کہ مئی کے مہینے میں اس طبی بحران کے خدوخال کسی حد تک واضح ہوں گے۔ پایاب پانیوں کے سر سے گزرنے کا اندیشہ موجود ہے۔ ہم مگر حیلہ سازی کی مشق میں ہیں۔ وبائیں بتا کے نہیں آتیں لیکن ان سے نمٹنے کے رنگ ڈھنگ سے ماضی کا شجرہ اور مستقبل کا زائچہ ضرور نکل آتا ہے۔ ایک بات تو واضح ہو چکی کہ ہماری اجتماعی تقویم میں رہنما اور پیروکار، تعلیم یافتہ اور ناخواندہ، شہری اور دیہاتی، پیشہ ور ماہر اور اہل حرفہ کی تمیز اٹھ چکی۔ اب لئے پھرتا ہے دریا ہم کو۔ ہم نے دہائیوں کی محنت شاقہ سے ایک ایسا اپاہج ذہن تشکیل دیا ہے جو روز مرہ کے معاملات سے لے کر بحرانی صورت حال تک قابل عمل اور قابل تصدیق ردعمل دینے سے قاصر ہے۔ مناسب ہو گا کہ مہلت کے اس وقفے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستان کے اجتماعی ذہن کا جائزہ لیا جائے۔ شاید ہماری مسلسل فکری ناکامی کے کچھ اجزا دستاویز ہو سکیں۔

 مسافر جادہ زہد سے تعلق نہیں رکھتا۔ منطقہ تقدیس کا سالک نہیں۔ البتہ یہ معلوم ہے کہ کتاب مبین میں بار بار تفکر کی ہدایت کی گئی۔ افلا تتفکرون (سورہ انعام)۔ طالب علم کی رائے میں بارہویں صدی میں معتزلہ فکر پر اشاعرہ فلسفے کے غلبے سے تعقل کی روایت شکست کھا گئی۔ مسلم ذہن تحقیق اور جستجو کے میدان سے بے دخل ہو گیا۔ انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب سے براہ راست واسطہ پڑا تو احیا اور بازیافت کے دو مکتب سامنے آئے۔ متحدہ ہندوستان میں مسلمان معاشی، تعلیمی اور سیاسی اعتبار سے پسماندہ تھے۔ تقسیم ہند کا نصب العین بالادست گروہ سے نجات پا کر آزادی اور ترقی کا خواب تھا لیکن حوادث، خطا اور جرائم کی بھینٹ چڑھ گیا۔ 1947ءمیں ملنے والی آزادی 1951 میں چھن گئی اور پھر بازیاب نہیں ہو سکی۔

ستر برس کی اس مسافت میں آزادی کے غصب کو استقرار دینے کے لئے فکر پر زنجیر ڈالی گئی۔ ناخواندگی کی شرح حادثہ نہیں، دانستہ منصوبے کا حصہ ہے۔ پے در پے آمریتوں میں قوم کی فکری دیانت اور جرات کردار کو مسخ کیا گیا۔ تعلیم کو تنقیدی شعور سے محروم کیا گیا ہے۔ غربت اور تفرقے کو نوآبادیاتی مقاصد کے حصول کے لیے پالیسی کے طور پر برقرار رکھا گیا ہے۔ بد دیانتی اور بدعنوانی ہمارے جسد اجتماعی کے اجزائے تشکیلی نہیں ہیں، انہیں پیوستہ مفادات کے آلات کے طور پر فروغ دیا گیا ہے۔

ارادہ ہے کہ اس غیر منصفانہ بندوبست کے نتیجے میں ظہور پذیر ہونے والے پاکستانی ذہن کا تجزیہ کیا جائے۔ کالم در کالم ایک موضوع پر اظہار مسافر کا شیوہ نہیں لیکن مشکل یہ آن پڑی ہے کہ کالم کا ظرف پہلے سے تنگ ہو گیا ہے۔ وہ دن نہیں رہے کہ خیال کو آبجو کی روانی دستیاب تھی۔ اب احیتاط سے گنے اور آنکے گئے لفظوں میں بساط لپیٹنے کا حکم ہے۔ سو اگلی صحبت تک بات اٹھا رکھتے ہیں۔ ابھی ن م راشد کی نظم کا ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیے۔ شاعر نے نصف صدی پہلے وبا کے موسم میں بستی کی افتاد بیان کی تھی۔

اجل، ان سے مل

کہ یہ سادہ دل

نہ اہل صلوٰة اور نہ اہل شراب

نہ اہل ادب اور نہ اہل حساب

نا اہل کتاب

نہ اہل کتاب اور نہ اہل مشیں

نہ اہل خلا اور نہ اہل زمیں

فقط بے یقیں

اجل، ان سے مت کر حجاب

اجل، ان سے مل!

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *