کورونا وبا کی وجوہات اور بڑھتے ہوئے مسائل
اس وقت ( 28 اپریل) تک کورونا سے کل 3,064,147 افراد متاثر ہو چکے ہیں، جبکہ 211,533 افراد اس موزی مرض کا شکار ہوکر اپنی زندگیوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کل 922,276 خوش قسمت افراد صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کسی کو بھی اندازہ نہیں تھا کہ چین کے شہر ووہان سے دسمبر کے وسط میں شروع ہونے والا کوڈ۔ 19 اس تیزی کے ساتھ پوری دنیا کو اپنے
لپیٹ میں لے گا۔
کورونا وائرس کے شروعات کے حوالے سے متعدد قیاس آرا یاں پائی جاتی ہیں۔ سائنسی نقطہ نظر سے کہا جا رہا ہے کہ یہ وائرس جنگلی جانوروں سے خاص کر چمگادڑ سے پھیلا ہے۔ اس سلسلے میں 2 مارچ 2019 کو یونیورسٹی آف چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے سائنسدانوں نے ایک سائنسی جریدے میں چھپے اپنے آرٹیکل میں لکھا ہے کہ ایس آر اے ایس اور ایم ای آر ایس کی طرح کورونا وائرس کا پھیلاؤ چمگادڑ سے ہوگا اور یہ چین سے شروع ہوگا۔ یہی اب تک کی اصل سائنسی حقیقت ہے۔
متعدی بیماریوں کے پھلاؤ میں موسمیاتی تبدیلی ایک اہم وجہ ہے۔ ہم نے قدرتی ماحول کو اپنی ضروریات کے لئے یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ 4 جولائی 2018 کو انیتا افیلٹ اور ساتھی تحقیق کاروں نے ایک سائنسی آرٹیکل چھاپا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں کہ پچھلی دہائی کے دوران، چمگادڑوں کو نئے وائرس کے ایک بڑے ذرائع کے طور پر دکھایا گیا ہے۔ ان میں ایس آر اے ایس یا ایم ای آر ایس بلکہ ایبولا جیسے خطرناک کورونا وائرس شامل ہیں۔
یہ خطرہ ممکنہ طور پر موجود ہے اور انسانی پیدا کردہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے محرکات کو تلاش کی جانی چاہیے۔ انتھروپائزڈ (تبدیل شدہ) ماحول ایسے ہی موزیک مناظر ہیں جو ایک ہی جگہ پر ہوں، مختلف چمگادڑوں کو اپنی طرف راغب کرتے ہیں، جو عام طور پر مختلف نسلوں کے چمگادڑ ایک ساتھ نہیں مل پاتی ہیں۔ انتھروپائزڈ زمین چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس کو تیزی سے بڑھنے کا ذریعہ بن جاتی ہے۔ حالیہ
برسوں میں انتہائی تیزی کے ساتھ ہونے والے جنگلات کی کٹائی کے عمل کے دوران نئے چمگادڑ سے پیدا ہونے والے وائرس پھیلنے کا خطرہ بہت بڑھ گیا ہے۔ ممکنہ طور پر متعدی وائرسوں پر مشتمل چمگادڑوں کے ساتھ مویشیوں اور انسانوں کے کثرت سے ہونے والے رابطوں کی وجہ سے وائرس ایک دوسرے میں منتقل ہو جاتا ہے۔
شروع میں جب یہ وبا چین میں پھیلا اور چین میں اس نے تباہی مچا دی، لوگ مرنے لگے اور چین کے تجارتی مراکز بند ہوگئے تب تمام ممالک نے چین کے ساتھ اپنے روابط ختم کر دیے اور ایک لحاظ سے چین تنہا ہو گیا تو ایک طبقے کا خیال تھا کہ یہ چین کے خلاف ایک سازش ہے اور چین کی ابھرتی ہوئی معیشت سے خوفزدہ امریکہ نے حیاتیاتی جنگی ہتھیار کے طور پر یہ وائرس چین پر مسلط کیا ہے۔ اس مفروضے کے حامی لوگ چین سمیت، روس اور پاکستان میں بھی پائے جاتے تھے /ہیں۔
چین نے اپنے موثر حکمت عملی اور بہترین انتظامات اور کارکردگی سے ووہان شہر سمیت پورے چین کو لاک ڈاؤن میں رکھا اور مارچ کے وسط تک اس وبا پر قابو پا لیا۔ باقی ملکوں نے اس کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ وبا دوسرے ملکوں میں پھیلنا شروع ہو گیا جس میں اٹلی، ایران، سویڈن، امریکہ، جرمنی سمیت کم و بیش 200 ممالک لپیٹ میں آگئے اور ابھی تک بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ چین نے جب اس وبا پر قابو پا لیا اور یہ امریکہ میں خطرناک حد تک پھیلنا شروع ہوا تو ایک طبقہ اس کو چین کا پیدا کردہ حیاتیاتی ہتھیار کہنے لگا اس مفروضے کے حامی لوگ امریکا سمیت دوسرے یوروپی ممالک کے ہیں۔ خود صدر ٹرمپ نے ایک پریس کانفرنس کے دوران اسے چائنیز وائرس کہ کر پکارا تو بہت سے سوالات نے جنم لینا شروع کیا۔ امریکہ سمیت کچھ یوروپی ممالک اب ووہان میں موجود تجربہ گاہوں کو بین الاقوامی ماہرین کے لئے کھولنے کا تقاضا کر رہے ہیں۔ جسے چین نے یکسر مسترد کر دیا ہے۔
کورونا وبا کی وجہ سے نہ صرف انسانی جانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ اسے اور بہت سارے معاشرتی و ذہنی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ تمام ممالک کے معیشت کو شدید دھچکہ لگا ہے۔ اب صورت حال سنگین تر ہوتی جا رہی ہے۔ کورونا سے امیر و غریب ہر نسل و ذات کے لوگ متاثر ہو رہے ہیں۔ لیکن غریب لوگوں کو دو طرفہ خطرات لاحق ہیں۔ ایک طرف کورونا اور دوسری طرف بھوک و افلاس جینے نہیں دے رہا ہے۔ کورونا سے اگر بچ بھی جائے تو بھوک سے مرنے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہوتا ہے۔ کیوں کہ روزگار کے تمام ذرائع اب مفقود ہو چکے ہیں۔ اس وجہ سے بہت سے لوگ آج کل ذہنی صدمے اور پریشانی کا شکار ہیں۔
کورونا وبا کی وجہ سے تمام تعلیمی ادارے بند ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے تحتیق او ر تدریس کا عمل بری طرح متاثر ہو کر رہ گیا ہے۔ پاکستان میں کچھ یونیورسٹیز نے آن لائن کلاسیس کا اعلان کیا ہے اور یہ پاکستان کے بڑے شہروں مثلاً اسلام آباد، لاہور، کراچی، پشاور اور فیصل آباد میں ممکن ہوسکتا ہے، جہاں پر بجلی اور انٹرنیٹ کی سہولیات میسر ہیں لیکن یہ سہولیات گلگت۔ بلتستان میں نہ ہونے کی وجہ سے کثیر تعداد میں بچے تعلیم سے محروم ہیں اور ذہنی اذیت کا شکار ہیں۔
اس وقت بھی گلگت۔ بلتستان میں بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ جاری ہے اور انٹرنیٹ مہیا کرنے والا صرف ایک ہی ادارہ اسپیشل کمیونیکشن آرگنائزیشن کے ہاتھ میں ہے اور دوسرا کوئی ادارہ میدان میں نہیں۔ انٹرنیٹ کی رفتار انتہائی سست ہونے کی وجہ سے طلبہ کو آن لائن کلاسز لینے یا ویڈیو لیکچرز سننے میں بہت دشواری کا سامنا ہے۔ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ کورونا وبا کے اس مشکل وقت لوگوں کو بجلی اور انٹرنیٹ کی تیز رفتار سہولیات بہم پہنچائے اور لوگو ں کو اس ذہنی کوفت سے نکالے۔
اس وقت کورونا بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور ابھی تک کوئی ویکسین مارکیٹ میں نہیں آئی ہے۔ کچھ لیبارٹریز میں ویکسین پر کام ہو رہا ہے۔ لیکن یہ نہیں معلوم کہ کب تک انسانی استعمال کے لئے دستیاب ہوں گی۔ اس وقت حکومت اور عوام کو چاہیے کہ وہ بہتر حکمت عملی اور دانشمندی کا مظاہرہ کریں۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ عوام کو ضروری سہولیات بہم پہنچائے اور عوام پر لازم ہے کہ وہ حکومت کے بنائے ہوئے قوانین پر عمل کریں۔


