مولانا طارق جمیل نے کیا غلط کہا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کوئی آٹھ نو ماہ یا شاید کچھ زیادہ پرانی بات ہے، مولانا طارق جمیل نے حضرت یوسفؑ کے حوالے سے ایک بیان میں فرما دیا کہ ’جیل بھیجنے سے قبل ان کا منہ کالا کیا گیا، انہیں گدھے پر بٹھا کر شہر میں پھرایا گیا‘ ، (نقل کفر کفر نباشد) اس پر ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔

یہ کوئی پہلی بار نہیں تھا، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم نے بھی ایک بار قرآن کی تفسیر بیان کرتے ہوئے جب اس آیت کہ نماز کے قریب مت جاؤ جب تم نشے کی حالت میں ہو، کا پس منظر بیان کیا تو اس پر طوفان آ گیا تھا، ایک مخصوص فرقہ ڈاکٹر اسرار کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا، ان پر کفر کے فتوے لگائے گئے، گستاخ قرار دیا گیا، پھر بات صرف مخصوص مکتبِ فکر تک محدود نہیں رہی بلکہ اپنے پرائے سبھی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے چلے آئے، ان دنوں ڈاکٹر اسرار کا تفسیری بیان ایک ٹی وی چینل سے نشر ہو رہا تھا، ٹی وی چینل کو پریشر میں آ کر وہ پروگرام بند کرنا پڑ گیا، لیکن معاملہ بڑھتا رہا۔

اس وقت سوشل میڈیا نے ”میڈیا“ کا روپ نہیں دھارا تھا سو بات مخصوص حلقوں تک ہی محدود رہی۔ بعد ازاں ڈاکٹر اسرار نے اپنا وضاحتی بیان ریکارڈ کروایا اور کوئی درجن بھر کتب، وہ کتب جن کے بغیر قرآن کی تفسیر مکمل نہیں ہو سکتی، کا حوالہ دیا اور پھر ہر مسلک کے کسی نہ کسی مفسر کی تفسیر کا حوالہ دیا جس میں یہ واقعہ درج تھا۔ جو اہلِ علم تھے، انہیں تو پہلے ہی علم تھا کہ یہ واقعہ بالکل ایسے ہی بیان کیا گیا اور اس آیت کا شانِ نزول یہی ہے مگر جہاں عقیدتوں کے مینار تعمیر کرنا ہی کل عبادت ہو وہاں دلیل، منطق یا پس منظر کو کون پوچھتا ہے۔

مولانا طارق جمیل کے باب میں بھی ایسا ہی ہوا۔ ایک طوفان برپا ہو گیا، باقی مسالک تو دور، خود دیوبندی مکتبِ فکر سے مولانا شیخ مکی الحجازی (مدرس مسجد الحرام) ، مفتی زرولی خان، مولانا منظور مینگل، مفتی محمد سعید (دار الندوہ اسلام آباد) سمیت کئی علما نے نہ صرف مولانا طارق جمیل کو گستاخِ پیغمبر کہا بلکہ کئی نے تو کفر کا فتویٰ بھی جڑ دیا۔ ”طارق جمیل کے بیان کو سننا گناہ ہے“ اس کے علاوہ مفتی زر ولی صاحب نے جو فرمایا شاید وہ ان کے لئے مسجد کے منبر پر بیٹھ کر کہنا تو درست ہو، میری تحریر اس کی تاب نہیں لا سکتی۔

اس پر مولانا طارق جمیل نے ایک جوابی وڈیو ریکارڈ کروائی جس میں بتایا کہ میں نے جو واقعہ سنایا اس میں یہ میری جانب سے غلو ہو گیا کہ ”منہ کالا کیا گیا“ باقی جو گدھے پر بٹھا کر شہر پھرانے والی بات ہے وہ تو تفسیرِ قرطبی اور تفسیرِ رازی میں بیان ہو چکی ہے۔ پھر سب سے اہم بات، شریعت میں کسی بھی شخص پر فتویٰ لگانے سے پہلے اس کا موقف لینے کے احکامات دیے گئے ہیں، مگر طارق جمیل پر کفر اور گستاخی کا فتویٰ لگا دیا گیا، اس کی رائے جانے بغیر۔ مولانا سب سے زیادہ مفتی زرولی کی باتوں پر رنجیدہ نظر آئے مگر پھر کہا کہ بات چونکہ میری ذات کی، اور اللہ کے کام میں ذات نہیں ہوتی، اس لیے میں یہ معاملہ بھی ختم کرتا ہوں۔

ہمارے ہاں شاید چلن ہی یہ ہے، ہم اگلے کے الفاظ پکڑتے ہیں اور پھر اپنی ”ریٹنگ“ کے چکر میں اسے خطِ اسلام سے باہر دھکیل دیتے ہیں۔ منہ سے کلمہ کفرنکل جانا کوئی بڑی بات نہیں، اس پر ایک نہیں کئی احادیث موجود ہیں، کفر یہ ہے کہ کلمۂ کفر پر اصرار کیا جائے، بقائمی ہوش و حواس اس کا اعادہ کیا جائے، اس کے جواز تراشے جائیں۔ شریعت میں کسی پر فتویٰ لگانے کی جس قدر وعید ہے، شاید ہی کسی اور کام پر ایسی وعید ہو مگر ہمارے ہاں اسے ذرہ بھر بھی اہمیت نہیں دی جاتی۔

یہ تو خیر تمہیدی گفتگو تھی، اب پھر اپنے بیگانوں کی توپوں کا رخ مولانا طارق جمیل کی جانب ہے، جو میں سمجھنے سے قاصر ہوں کیونکہ کوئی ایک بات نہیں، بلکہ ہر کسی کو کسی نہ کسی نئی بات پر اعتراض ہے۔

کسی کو اعتراض ہے کہ میڈیا کو جھوٹا کیوں کہا، دو سطری جواب ہے کہ زبانِ خلق، نقارۂ خدا۔ آپ سروے کرا کے دیکھ لیں، رزلٹ پتا چل جائے گا۔ کیا صرف طارق جمیل ایسا کہتا ہے یا باقی قوم بھی۔

جو میڈیا خود مولانا طارق جمیل سے متعلق جھوٹی تو دور، من گھڑت خبریں چلاتا رہا، وہ مولانا کی جانب سے خود کو جھوٹا کہنے پر سیخ پا نظر آتا ہے۔

زیادہ دور نہ جائیں، پاناما ہنگام کا ذکر ہے، مولانا طارق جمیل نواز شریف سے ملاقات کے لیے گئے، ہر چینل نے اپنی اپنی خبر بنا کر چلائی، کسی نے کچھ وجہ بتائی تو کسی نے کچھ۔ ایک چینل نے تو یہ کہا کہ مولانا نواز شریف کو وظیفہ بتانے گئے تھے تاکہ وہ اس ایشو سے بہ آسانی نکل سکیں۔ کچھ دن بعد مولانا جب دوبارہ ملاقات کے لیے گئے تو خصوصی طور پر اس چینل کے نمائندے کو بلا کر کہا کہ اب جو میں کہہ رہا ہوں، وہ ضرور چلانا، پچھلی بار جو خبر چلائی تھی، وہ کہاں سے بنائی تھی؟

کوئی چینل، کوئی اخبار، کوئی میڈیا پلیٹ فارم ایسا نہیں جہاں غلطی نہ ہوئی ہو، جہاں جھوٹی خبریں نہ نشر؍ شائع ہوئی ہوں، روزگار ہے، ہوتا ہے، چلتا ہے۔

کیا میڈیا سے وابستہ افراد اپنی ذاتی خواہشات کو اپنے کالموں، تحریروں میں خبر کے طور پر شائع نہیں کرتے؟

کیا ایک معروف اینکر نے ٹی وی چینل پر بیٹھ کر وزیراعظم اور خاتونِ اول میں طلاق کی خبر نہیں دی تھی؟ جس پر وزیراعظم نے مذکورہ اینکر پر کیس بھی کر رکھا ہے او رجس کا کچھ دن پہلے گلہ بھی کیا کہ ملک کے وزیراعظم کو بھی ابھی تک انصاف نہیں ملا۔

کیا میڈیا میں ایک بھی ایسی مثال پیش کی جا سکتی ہے کہ کسی رپورٹر، کسی اینکر کو خبر غلط ہونے پر اخبار یا چینل سے فارغ کر دیا گیا ہو؟

کیا ایک چینل سے نکالے گئے، پٹ چکے اینکرز کو دوسرے چینل والے ہاتھوں ہاتھ نہیں لیتے؟

کیا اینکرز اپنی نجی محافل میں بیٹھ کر یہ باتیں نہیں کرتے کہ فلاں اینکر، فلاں کالم نگار تو اتنے جھوٹ بولتا، لکھتا ہے؟

میں نے بار بار مولانا کا کلپ دیکھا، مولانا نے جب حدیث کی شرح بیان کرتے ہوئے جھوٹ کا ذکر کیا تو ان کے الفاظ تھے۔ ”مجھے بتائیں۔ سارے یہ اینکرز بیٹھے ہیں، ہمارے وزیراعظم بیٹھے ہیں۔ ہم کتنا جھوٹ بول رہے ہیں، ہم کس قدر جھوٹی قوم ہیں۔ ہم اس جھوٹ کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں کوئی مقام نہیں لے سکتے“ ۔

اگر مولانا نے مجموعی طور پر کوئی بات کر دی تو اس پر اتنا ہنگامہ کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ جو مولانا سے معافی منگوا کر خوش ہیں، کیا انہوں نے کبھی اپنی کوئی خبر، کوئی تجزیہ غلط ثابت ہونے پر قوم سے معافی مانگی؟ پھر جب مولانا نے چینل کے مالک والی بات کی تو اس سے قبل انہوں نے آن سکرین ہاتھ جوڑے پھر کہا۔ ”اینکر بیٹھے ہیں، میں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگ کر بات کر رہا ہوں۔“

لیکن اس کے بعد بھی مولانا کو نہیں بخشا گیا، مولانا کو کہا جاتا رہا کہ وہ نام بتائیں، کون سا چینل، کون سا مالک تھا تاکہ سب پر الزام نہ آئے۔ اور اسے اخلاقیات سے منافی قرار دیا گیا۔ حالانکہ وہ تمام اینکر حضرات جو اس پر شور مچا رہے تھے، کے پرانے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہیں، جن میں وہ کبھی مختلف وزیروں اور کبھی مختلف سیاستدانوں کے حوالے سے اسی طرح باتیں کر رہے تھے، مثلاً ایک اینکر نے کہا۔ ”مجھے نون لیگ کے کافی لوگوں نے ذاتی طور پر کہا کہ ہمیں پتا ہے نواز شریف کرپٹ ہے“ اب جو اینکر مولانا سے مطالبہ کر رہا ہے کہ وہ چینل مالک کا نام بتائیں، کیا ان پر خود یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ان سیاستدانوں کے نام بتائیں؟

پھر سب سے بڑھ کر، مولانا نے پاکستانی نہیں، دنیا بھر کے میڈیا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر کا میڈیا جھوٹا ہے۔ اب سی این این، بی بی سی، الجزیرہ یا دوسرے چینلز کے کن کن جھوٹوں کا ذکر کیا جائے، اس پر تو کئی فلمیں بن چکی، کئی کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔

میڈیا پرسنز کے علاوہ دوسرا طبقہ وہ ہے جسے مولانا کی فحاشی والی بات سے اختلاف ہے اور وہ لٹھ لے کر مولانا پر پَل پڑا ہے، اس میں زیادہ تر این جی او زدہ خواتین ہیں جن کا ”عورت مارچ“ بھی اس بارخلیل الرحمٰن قمر نے ”سپوئل“ کر دیا تھا۔ ان کو یہ گلہ ہے کہ مولانا نے فحاشی کی بات کیونکر کی، اگر کی بھی تو خواتین کو کیوں رگیدا۔ اگر بات منطق، جواز اور دلیل سے کرنی ہے تو ان کے پاس بھی کوئی ”چج“ کی چیز نہیں ہے۔ وہی پرانی باتیں کہ صرف عورتوں کو کیوں کہا، کیا فحاشی صرف عورتیں پھیلاتی ہیں، مدارس میں جو کچھ ہوتا، اس بارے کیوں نہیں لب کشائی کی، وغیرہ وغیرہ

مجھے تو پورے بیان میں کہیں نہیں لگا کہ صرف عورتوں کی بات ہو رہی ہے، بائیس کروڑ عوام کی بات ہی ہوتی رہی، مولانا نے مجموعی طور پر سب کو کہا۔ بلکہ مولانا کے الفاظ تھے۔ ”میرے دیس میں حیا کو کس نے تار تار کیا، میرے دیس کی بیٹیوں کو کون نچا رہا ہے، ان کے کپڑے، لباس مختصر کون کروا رہا ہے، کس کی گردن میں مَیں یہ گناہ ڈالوں، میں مجرم ہوں کہ میں نے اپنی قوم کو نہیں سمجھایا۔ میں اللہ سے معافی مانگتا ہوں“ ۔

مولانا نے تو سارا الزام اپنے سر لیا مگر کچھ خواتین ٹی وی پر آکر مطالبہ کر رہی ہیں کہ ”مولانا مجھ سے معافی مانگیں“ جملہ تو تھوڑا سخت ہے، مگر خلیل الرحمٰن قمر کے الفاظ میں یہاں اس بات کا یہی جواب بنتا ہے کہ۔ ”اؤ بی بی تم ہو کون؟“

کیا مولانا نے آپ کو، آپ کے گروہ کو، آپ کی کسی جماعت کو، آپ کی کلاس کو مخاطب کرکے بات کی کہ آپ سے معافی مانگیں؟ انہوں نے پوری قوم کا ذکر کیا تھا، بعد ازاں پوری قوم سے معافی مانگ لی، حالانکہ اس کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں تھی، بہرحال اس حوالے سے اُن کا اپنا نقطۂ نظر ہے۔

مولانا نے بے حیائی کی بات کی تو ساتھ اپنی مثال دے کر یہ واضح کیاکہ ڈنڈا انسان کو انسان نہیں بناتا، جب تک بندہ خود اندر سے کوشش نہ کرے۔ لیکن یہاں تو چور کی داڑھی میں تنکا والا معاملہ ہے، ہر کسی کو یہی لگ رہا ہے کہ مولانا نے اسے مخاطب کیا۔

پھر کچھ لوگوں کو اس بات پر اعتراض ہے کہ ”عمران خان کو اجڑا چمن ملا، کہاں تک آباد کرے گا“ بغضِ عمران میں اندھے افراد نے یہ تو سن لیا لیکن اس سے پہلے جب مولانا نے یہ کہا کہ ”ہم اجڑے چمن کے مالی ہیں“ وہ نہیں سنا، مولانا نے عمران خان کا بطور تحریک انصاف سربراہ نہیں، بطور وزیراعظم، بطور پدرِ قوم ذکر کیا کہ قوم کسی فرد کی ذاتی اصلاح و کوشش سے ٹھیک نہیں ہوتی جب تک وہ بحیثیت ِ مجموعی اپنی حالت نہ بدلے۔

اگرچہ میں مولانا کی غلو پر مبنی ضعیف ترین روایات کا سخت ناقد ہوں اور پریشانی کی بات یہ ہے کہ مولانا کو زیادہ شہرت ملتی ہی ان ضعیف روایات کی وجہ سے ہے۔ ایسی روایات ہی ہمارے معاشرے میں پسند کی جاتی ہیں جن میں بس خوش کن باتیں اور خوش خبریاں ہوں، ہمیں بیٹھے بٹھائے جنت مل جائے، کوئی مشقت، عبادت نہ کرنا پڑے۔ صرف مولانا طارق جمیل ہی نہیں، ہمارے ہاں بیشتر مبلغ حضرات ایسی ہی روایتیں پیش کرتے ہیں جن کا شریعت سے کوئی تعلق واسطہ نہیں، پھر ان روایات کو عام مجمع میں بیان کرتے کرتے وہ کئی ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جنہیں سنبھالنا مشکل ہو جاتا ہے، مولانا طارق جمیل، جنید جمشید مرحوم سمیت کئی مبلغین ایسی فاش غلطیاں کر چکے ہیں جن پر بعدازاں معذرت کرنا پڑی۔ لیکن مولانا کا حالیہ 16 منٹ کا بیان میں نے بار بار دیکھا، مجھے کہیں کوئی ایسی بات نہیں ملی جس پر مولانا کی گرفت کی جا سکے، سوچتا ہوں ایسی کیا بات ہو گئی کہ سبھی مولانا کے پیچھے پڑ گئے۔

میرے ذہن میں صرف ایک ہی بات آتی ہے اور وہ یہ کہ مولانا نے ایک ساتھ کئی طبقوں کو چھیڑ دیا ہے، میڈیا والی بات سے میڈیا ناراض ہوا، بے حیائی کا اڑتا تیر لبرل آنٹیوں نے اپنی بغل میں داب لیا، عمران خان کو ایماندار کہنا نون لیگ، جمعیت علمائے اسلام کو سخت ناگوار گزرا، باقی جو مذہب بیزار طبقہ بیٹھا تھا، اس نے بھی سوچا کہ اس بہتی گنگا سے ہاتھ دھو لیے جائیں، وہ بھی کھل کر سامنے آ گیا، حالانکہ اس سارے قضیے میں یہ طبقہ محض اپنی جہالت عیاں کر رہا ہے۔

یہ جا بجا سوال اٹھا رہا ہے کہ کورونا اللہ کا عذاب کیسے ہے، اس سے مسلمان کیوں مر رہے ہیں، تبلیغی جماعت کو کورونا کیوں ہوا؟ یہ قرآن سے مثالیں پیش کر رہا ہے کہ جب قوموں پر عذاب آتا ہے تو اللہ نیک لوگوں کو بچا لیتا ہے، حالانکہ یہ سب باتیں پچھلی قوموں کے بارے میں تھیں، اگر ان لوگوں نے کتاب اللہ اور حدیث کی محض 6 کتابوں کا درست طریق پر مطالعہ کیا ہوتا تو انہیں علم ہوتا کہ خاتم الانبیاﷺ کی بعثت کے بعد اب امتِ محمدیہ پر مجموعی طور پر عذاب نازل نہیں ہو سکتا۔ اب عذاب، آزمائش، فتنے کے بارے میں اللہ کا اصول ہے کہ یہ محض گنہگاروں پر نہیں اتریں گے، یہ مجموعی طور پر سب کو اپنی لپیٹ میں لیں گے، قرآن میں ارشاد ربانی ہے کہ ”ڈرو اُس فتنے (عذاب) سے جو تم میں سے صرف گنہگاروں ہی کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے گا“ ۔ (سورۃ الانفال:آیت 25 )

اسی طرح ایک حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک لشکر نکلے گا جو خانہ کعبہ پر چڑھائی کا ارادہ رکھتا ہو گا، جب وہ ”بیداء“ کے قریب پہنچے گا تو اللہ اسے زمین میں دھنسا دے گا۔ (شاید دین سے متنفر طبقہ اس وقت بھی یہی گہے گا کہ یہ تو زلزلہ تھا، جو قدرت کے نظام کے تحت زمین کی پلیٹیں ہلنے سے آیا، اس میں مذہب یا دین کا کیا سروکار) سیدہ عائشہ صدیقہؓ جو اس حدیث کی راوی ہیں، نے بیداء کا نام سن کر پوچھا کہ وہاں تو بازار بھی ہے، یعنی بہت سے لوگ اپنے اپنے کاموں سے بھی وہاں موجود ہوں گے، اس پر رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ قیامت کے دن وہ اپنی اپنی نیتوں پر اٹھائے جائیں گے ”۔ (بخاری: 2118 )

جہاں تک کورونا کے عذاب یا آسمانی آفت ہونے کی بات کا تعلق ہے تو اس کے لیے دلیل یہ ہے کہ سنن ابن ماجہ کی حدیث 4019 کا مطالعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جب کسی قوم میں علانیہ فحش (فسق، فجور اور زناکاری) ہونے لگ جائے تو ان میں طاعون اور ایسی بیماریاں پھوٹ پڑتی ہیں جو ان سے پہلے لوگوں میں نہ تھیں۔ اب شریعت کی روشنی میں کورونا سمیت تمام تر نت نئی بیماریوں کو اسی تناظر میں دیکھا جائے گا۔ اس پر جن لوگوں کو اعتراض ہے، وہ دراصل اسلام کا نام لے کر اپنا غصہ نکال نہیں سکتے، سو مولوی کا نام لے کر اس کے پیچھے پڑ جاتے ہیں۔

پھر یہ لاعلم طبقہ سوال کرتا ہے کہ ایک طرف کورونا کو اللہ کا عذاب کہتے ہو اور دوسری جانب کہتے ہو کہ اس سے مرنے والے شہید ہیں تو کیا یہ کھلا تضاد نہیں؟

اب جو نینڈرتھال سے ڈنیو سوون تک، ہومو اسپیئنز سے ہیومو نوئید تک، پلاٹونزم سے مارکسزم تک سب پڑھ لے اور دین کی چند کتابوں کے علم سے محروم رہے اسے کیا کہیں؟ پھر وہ اپنا میدان بھی دین اور دینی تشریحات کو ہی رکھے تو ایسوں پر صرف افسوس اور ان سے اظہارِ ہمدردی ہی کیا جا سکتا ہے۔ اللہ ہمیں اور انہیں، سب کو ہدایت دے اور درست راہ دکھائے، آمین!

ان کے سوال کا جواب بھی حدیث شریف میں کھلے لفظوں میں دیا گیا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ سے طاعون سے متعلق سوال کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ عذاب تھا اور اللہ جس پر چاہتا تھا، اسے بھیجتا تھا۔ پھر اللہ نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنا دیا، کوئی بھی بندہ اگر کسی ایسے شہر میں ہے جہاں طاعون کی وبا پھوٹ پڑی ہے اور وہ اس میں ٹھہرا ہوا ہے اور اس شہر سے بھاگا نہیں، اس پر صبر کیے ہوئے ہے اور اس پر اجر کا امیدوار ہے اور یقین رکھتا ہے کہ اس تک صرف وہی چیز پہنچ سکتی ہے جو اللہ نے اس کی تقدیر میں لکھ دی ہے (یعنی موت) تو اسے شہید کے برابر ثواب ملے گا۔ (صحیح بخاری: 6619 ) اس حدیث شریف کے بارے میں یہ اجماع ہے کہ یہاں طاعون سے مراد تمام اقسام کے وبائی امراض ہیں۔

اب ہمارے لیے تو اس مرض سے مرنے والا مسلمان شہید ہی ہے کیونکہ ہم اس دورِ ابتلا میں صبر کے ساتھ اجر کی بھی امید رکھتے ہیں۔ اور صرف کورونا ہی نہیں، دین اسلام میں حادثاتی موت کا شکار ہر بندہ شہید کا درجہ رکھتا ہے۔ ہمیں تو دین نے ایک ایک گوشے، ایک ایک دور کے بارے میں رہنمائی فرما دی، آپ اپنے بارے فرمائیں، آپ کہاں کھڑے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *