کرونا میں جنازہ: ایسا سوچا تھا کبھی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یا اللہ! یہ کیسا وقت آ چکا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کو مرنے کے بعد دیکھنے کے لے ترسیں گئے، رہیں گی تو صرف یادیں یا صبر کے جملے، اگر یہ ہمارے گناہوں کا نتیجہ ہے تو اس بابرکت مہینے کے صدقے ہماری جان اِس وبائی مرض سے چھڑوا دے۔ ہم تو اپنے پیاروں کے مردہ جسم کو اپنے ہاتھوں سے غسل دیا کرتے تھے۔ یہ کیسا عذاب ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے کہ ہاتھ تو دور کی بات دیکھنا تک احتیاطی تدابیر کے ساتھ ہے۔

ہم تو اپنوں کو دفناتے وقت بہت احترام سے دفنایا کرتے تھے لیکن یہ کبھی نہ سوچا تھا کہ ایک مرض ایسا بھی آئے گا ہم اپنوں سے ہی دور بھاگنے کی کوشش کریں گے اور مردہ جسم اپنوں کو تلاش کرے گا اور ہم اپنوں کو ہی ایک مخصوص ٹیم کے حوالے کر دیں گے وہ جراثیم کش سپرے کے ساتھ ایک تابوت میں بند کر کے رسیوں سے باندھ کر قبر میں اتاریں گے۔

یا اللہ وہ لوگ جنہوں نے اپنے خاندان کے بہت سے افراد اجتماعی قبر میں سپرد خاک کر دیے کیا اُن کے دل کی کوئی دعا نہیں سنے گئیں۔ دنیا بھر میں اِس وقت 2 لاکھ سے زائد لوگ اِس وبائی مرض سے مر چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی دوا کیوں نہ تیار ہوئی؟

اگر یہ اللہ کی طرف سے عذاب ہے تو ہم سب کو مل کر دعا کرنا ہو گی اور توبہ کرنی ہو گی ہر اُس کام سے جس سے اللہ پاک ناراضگی کا اظہار اِس طرح کی بیماریاں بھیج کر کرتے ہیں۔ اللہ پاک نے اپنے گھر کے دروازے رمضان المبارک جیسے مہینے میں ہمارے لیے بند کر دیے ہیں۔

جو مولانا اِس بات کی تلقین کیا کرتے تھے کہ کندھے سے کندھا ملا کر باجماعت نماز ادا کریں آج وہی علمائے کرام یہ کہہ رہے ہیں کہ ایک دوسرے سے دور ہو جائیں اور گھروں میں نمازیں ادا کریں۔ ایسا کبھی سوچا تھا کہ اپنوں کو ہی ہاتھ ملانے سے ہچکچاہٹ محسوس ہو گی اور ہر شخص دوسرے شخص کو ایسی نظر سے دیکھے گا جیسے یہی کورونا کا مریض ہے۔

کیا اِس بحران کے خاتمے کے بعد زندگی وہیں سے شروع ہو گی جہاں رکی تھی یا زندگی کو معمول پر آنے میں وقت لگے گا۔ اللہ پاک تمام انسانیت کو محفوظ فرما اور جو لوگ انسانیت کی مدد کے لئے کمر بستہ ہیں اِن کی حفاظت فرما۔ جو لوگ اس جنگ میں فانی دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں اللہ پاک اُن کی مغفرت فرما اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرما آمین۔

جب تک اِس وائرس کا خاتمہ نہیں ہو جاتا ہم سب کو حکومت کی جانب سے بتائی گئی احتیاطی تدابیر پر سختی سے عمل کرنا ہو گا کیونکہ ہم نے خود کو اور اپنے عزیز و اقارب کو اِس وبا سے محفوظ رکھنا ہے۔ اُس دن کے لیے دعا کریں جب ڈاکٹرز یہ اعلان کر دیں کہ آج پاکستان سے یہ وائرس ختم ہو چکا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply