پہاڑی شاعر۔ محمد حمید کامران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہرچیز کی ایک کہانی ہوتی ہے، چاہے وہ چیز چھوٹی ہو کہ بڑی۔ جیسے ہرجسم ایک اپنی ساخت بھی رکھتا ہے اور پرچھائی بھی۔ کچھ چیزیں ایسی بھی ہیں جو کہانی نہیں بلکہ داستان رکھتی ہیں۔ ان چیزوں میں قلم بھی ایک ہے۔

جہاں شمشیر ہار جاتی ہے وہاں قلم کام کرجاتا ہے۔ جب شہنشاہیت ختم ہوئی، جمہوریت عام ہوئی تو تلوار تاریخ کا حصہ بن گئی اورقلم منظر عام پر آگیا۔ ویسے قلم کی اہمیت آج کی نہیں ہے بلکہ عرصہ دراز کی ہے۔ ادیب قلم کا تصور نہ جانے کہاں کہاں تک کر لیتا ہے۔

ایک عظیم شخصیت کی سب سے بڑی پہچان یہ ہوتی ہے کہ ان کے افکار ونظریات کے اقرار واعتراف کا دائرہ تغیر زمانہ کے ساتھ ساتھ مزید وسیع تر ہوتاجاتا ہے اور اس شخصیت کے نکتہ چین بھی اس حقیقت کو قبول کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ ان کا نظریہ حیات وفن ان کے پیش روؤں اور ہم عصروں سے منفرد ہے۔

قلم ایک یسا ذریعہ ہے جس کے ذریعے انسان معاشرے کے اندر اپنے الفاظ کی خوشبو بکھیرتا ہے۔ یہی خوشبو ہے جس کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی رونما ہوتی ہے اور ایک اچھا معاشرہ پروان چڑھتا ہے۔

ایسا ہی ایک پھول ہمارے آنگن میں بھی کھلا ہے جس نے اپنی ذور قلم سے پہاڑی زبان و ادب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ اُن کی پہاڑی زبان میں لکھی گئی دو شعراء آفاق عوام میں بے حد مقبول ہوئی ہیں۔ اور اُردو شاعری کا مجموعہ بھی پبلش ہو چکا ہے جس کو عوام میں بے پناہ پذیرائی مل چکی ہے۔

دوستوں میری مراد مشہور پہاڑی شاعر جناب محمد حمید کامران سے ہے۔ جنہوں نے اپنی ذور قلم سے پہاڑی زبان و آدب میں ایک منفرد مقام حاصل کیا ہے۔ اپنی بساعت کے مطابق میں نے کوشش کی ہے کہ تھوڑا بہت جو مجھ سے ہو سکے میں آپ کی خدمت میں عرض کر سکوں۔

محمد حمید کامران کا تعلق دریک نکراں سے ہے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم ہائی سکول دریک سے حاصل کی ہے۔ میٹرک تعلیمی بورڈ میرپور سے پاس کرنے کے بعد اپ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے اپنی تعلیم جاری رکھی۔ حمید کامران شروع سے ہی قائدانہ و شاعرانہ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو مقام و مرتبہ آج حمید صاحب کو ملا ہے یہ سب اُن کے والدین کی محنت و تربیت کا نتیجہ ہے جس کی وجہ سے وہ آج یہ مقام حاصل کر پائے ہیں۔

جہاں پہاڑی نثر میں ڈاکٹر محمد صغیرخان صاحب نے ”آخان“ اور ”پہاڑی لوک گیت“ کی صورت میں ماں بولی کوعمدگی کے ساتھ محفوظ کیا اور پہلی دفعہ پہاڑی کو کتابی شکل دی تو وہاں پہاڑی شاعری کو اظہار خیال کا ذریعہ بناتے ہوئے اس علاقے کے کلچر کو جس عمدگی کے ساتھ حمید کامران صاحب نے پہاڑی زبان و ادب میں بیان کیا وہ قابل ستائش ہے۔ حمید کامران صاحب کے پہاڑی شاعری مجموعے ”خوشیاں سانویں رکھ“ اور ”حالاں کہ تو اُوے دیں“ پہاڑی سے محبت کرنے والوں کے لئے شاہکار شاعری مجموعے ہیں۔

پہاڑی کے ساتھ ساتھ حمید کامران نے اُردو میں بھی تخلیقی ہنر مندی کا مظاہرہ کیا اور اُن کا بہترین اُردو شاعری مجموعہ ”تجھے کیسے بھول جاؤں“ منظر عام پر آ چکا ہے۔ جو کہ پہاڑی مجموعوں کی طرح بے حد مقبول ہوا ہے۔

حمید کامران صاحب نے اُردو شاعری مجموعے ”تجھے کیسے بھول جاؤں“ میں تین موضوعات مادر وطن، ماں اور محبت کے موضوع کو اپنی شاعری کا موضع سخن بنایا ہے۔

حمید صاحب کی شاعری کے موضع سخن مادر وطن سے ان کی بے پناہ محبت کا اظہار ہیں۔ دیکھنے میں تو حمید صاحب جیسا انسان آپ کو ایک کمزور اور لاچار لگے گا مگر ان کی سوچ اور ان کے افکار کا آپ بخوبی اندازہ ان کی شاعری سے لگا سکتے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بیجا نہ ہو گا کہ ہمارے ہاں حمید صاحب کی شاعری کو بے پناہ مقبولیت ملی ہے۔ اُن کے کلام سانگ کی صورت میں بھی آچکا ہے۔ اور حال ہی میں اُن کی اُردو کے شاعری میں سے بھی کچھ گیت کمپوز ہو رہے ہیں۔ معاشرے میں ایسے ادبی انسان بہت کم پیدا ہوتے ہیں جن کی ہمارے نزدیک تو کوئی اہمیت نہ ہو گی مگر ایسے لوگ ہمارے معاشرے اور قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ ہمیں ان کی قدر کرنی چاہیے۔

حمید کامران ہمارے معاشرے کے لیے روشنی کی ایک کرن ہے جو قلم کے ذریعے ہمارے معاشرے میں خوشبو بکھیر رہے ہیں۔ مذہبی پروگرامات جیسے سیرت النبی کانفرنسز ہوں یا اُسوہ رسول ﷺ حمید کامران صاحب ہمیشہ اسٹیج کی زینت بنے رہے۔ پونچھ ادبی سوسائٹی کے زیر اہتمام کو مشاعرہ ہو یامحفل مشاعرہ حمید صاحب ہمیشہ اپنا جلوہ دکھاتے نظر آتے ہیں۔

جناب ڈاکٹر صغیر خان صاحب اور دیگر رفقاء نے پہاڑی زبان کو اُجاگر کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ایسے محب وطن لوگ بہت کم ملتے ہیں جو اپنی زبان و کلچر کو دنیا میں متعارف کرواتے ہیں۔ حمید صاحب کی کتاب ”خوشیاں سانویں رکھ“ کو پڑھنے کا موقع ملا۔ پہاڑی چونکہ لکھنے کے ساتھ ساتھ پڑنا بھی ایک مشکل کام ہے۔ مگر الفاظ کا ایسا تال میل رکھا ہے کہ جیسے آپ اُردو پڑھ رہے ہوں پہاڑی کو پڑھنے کا یہ میرا پہلا موقع تھا انتہائی نفاست کے ساتھ حمید صاحب نے اس کو نبھایا ہے بہت مزاحیہ نظمیں ہیں جو پڑھنے کو ملی جس میں سے دو تین عوام میں بے حد مقبول ہیں ایک ”لاری مہاڑے پاسیے نی“ اور دوسری ”جنگت مہاڑے محلے نے“ میری بھی پسندیدہ ہیں۔ حمید صاحب کی شاعری کو آوازدی ہے جناب سردار آفتاب لیاقت صاحب نے۔

حمید کامران صاحب حُب الوطنی کا جذبہ لیے اس سفر کو جاری وساری رکھے ہوئے ہیں۔ معاشرے کے اندر ویلفئیر کے کاموں اور دیگر محلے کے سوشل کاموں میں حمید صاحب ایک رول ماڈل رہی ہیں۔ ہر کام میں نوجوانوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہے۔ اور ہر موقع پر نوجوانوں کو آگے بڑھنے کا حوصلہ و ہمت دی۔ اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک حمید صاحب کو صحت و تندروستی دے تاکہ وہ قلم کے ذریعے یونہی خوشبو بکھرتے رہیں۔ اللہ پاک ان کے اس عظیم مشن میں ان کو کامیابیاں عطا کرے۔ آمین

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply