عمر نہ سہی ابو جعفر منصور ہی بن جائیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بہت پاپڑ بیلنے کے بعد بالآخر وہ بادشاہ کے دربار تک پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہو کیسے آنا ہو ا؟ اس نے کہا اگر اجازت ہو تو مدعا بیان کرنے سے پہلے ایک مثال بیان کر دوں؟ تاکہ اپنا مدعا بیان کرنے میں اور حضور کی خدمت میں اس مقدمہ کو پیش کرنے میں آسانی ہو۔ بادشاہ نے کہا بہت اچھا پہلے مثال بیان کر لو۔

اجازت ملنے کی دیر تھی اس غریب لاچار مگر تہذیب یافتہ شخص نے کہا: حضور! بچہ جب چھوٹا ہوتا ہے تو اس کی تمام دکھ، درد اور شکایات کا مرکز اس کی ماں ہوتی ہے۔ وہ اپنی ماں کو سب سے زیادہ محبت کرنے ولا پاتا ہے، لیکن جب کچھ بڑا ہوتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا میں اک اور ہستی بھی موجود ہے جو اس پر بڑی مہربان ہے، جسے وہ باپ کے نام سے جانتا ہے۔ پس وہ اپنی فریادیں ماں کے بعد باپ کی خدمت میں پیش کرتا ہے۔

لیکن جب وہ اور بڑا ہوتا ہے تو ماں، باپ کے بعد اس کی شکایات کو جس مقام پر سنا جاتا ہے وہ عدالت ہوتی ہے۔ جو قانونی طور پر سب سے قوی ادارہ ہے۔ لیکن اگر وہاں بھی حاکم انصاف فراہم کرنے سے قاصر ہو تو پھر یہ شخص بادشاہ کے دربار تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔ اور بادشاہ تک پہنچنا بھی کوئی آسان کام نہیں، کبھی بادشاہ کے رعب سے ڈرایا جاتا ہے، تو کبھی بادشاہ کی بے انتہا مصروفیت آڑے آجاتی ہے، اور بالآخر اس شخص کو انصاف سے مایوس کر کے اس کی ہمت کا جنازہ نکال دیا جاتا ہے۔

پس جب بادشاہ بھی اس کی بات نہیں سنتا تو یہ مظلوم اپنی آہیں، فریادیں لے کر ایک ایسے بادشاہ کے دربار کی طرف رخ کر لیتا ہے جس کی بادشاہی لا زوال ہے۔ جو کسی کی آہ کو رد نہیں کرتا۔ اس کے نزدیک کوئی فرق مراتب نہیں ہے۔ وہ کسی کے رعب و دبدبے کو دیکھتا ہے نا ہی کسی کے اعلی رتبے کو۔ وہ صرف اعمال کو دیکھتا ہے۔ اگر کسی کے اعمال اچھے رہے، کسی کا دل نہیں دکھایا، نا انصافی نہیں کی تو وہ قرب خدا وندی ضرور حاصل کرے گا۔ لیکن اگر کوئی بادشاہ بھی ہے لیکن اس کی حکومت اور جاہ و جلال نے اسے تکبر میں مبتلا کر رکھا ہے۔ دولت کو عیش و عشرت میں اڑاتا رہا، اور غریب رعایا پر ظلم کرتا رہا، تو وہ خدا کے نزدیک ایک چوہڑے چمار جو برائی نا کرتا ہو اس سے بھی بدتر ہے۔

اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ کہتا، بادشاہ نے کہا بس کرو! میں اس کو سننے کی مزید سکت نہیں رکھتا۔ بتاؤ کیا ظلم ہوا تمہارے ساتھ؟ اس نے کہا اے امیر المومنین! میری ملکیت میں زمین کا ا یک بہت ہی سر سبز و شاداب حصہ تھا۔ جس پر آپ کے گورنر کی نظر تھی، اس نے مجھ پر ستم ڈھائے پھر اپنے ماتحت افراد کی مدد سے اس وسیع رقبہ اپنا قبضہ جما لیا۔ میں ایک سال سے در بدر پھر رہا ہوں، لیکن شنوائی نہیں ہو رہی۔ اب بڑی مشکل سے آپ تک پہنچا ہوں، کیا آپ میری مدد کریں گے؟ یا پھر میں اس بادشاہ کے دربار کا رخ کروں جو مظلوموں کی آہ کے استقبال کو اپنے مقبولیت بھیجتا ہے۔

خلیفہ نے اسے اطمینان دلایا کہ آپ کو انصاف ضرور ملے گا۔ اور فوراً اس گورنر کو حکم دیا کہ اس شخص کی زمین اس کے حوالے کی جائے۔ یہ خلیفہ خاندان عباسیہ کا دوسرا بادشاہ خلیفہ ابو جعفر منصور تھا جس کی مدت خلافت 754ء سے 775ء تک رہی۔ جو نہایت بخیل تھا لیکن اس کے باوجود نہایت ہی منصف مزاج انسان تھا۔ اگر اس کا کوئی قریبی عہدے دار بھی کوئی ظلم کرتا تو وہ اس پر ایکشن لینے میں کسی قسم کی حیل و حجت نہیں کرتا تھا۔

لیکن آج کے اس دور میں ہم کیا دیکھتے ہیں آئیے اک نظر اس پر ڈالتے ہیں۔ پچھلے دنوں کی بات ہے سننے میں آیا ہے کہ غریبوں کے منہ سے چینی، آٹا چھننے والوں کے خلا ف کوئی تحقیقی رپورٹ آئی ہے۔ جس میں باقاعدہ لوگوں کے نام بھی درج ہیں۔ لیکن کچھ مصلحتیں بڑھتے قدموں میں زنجیر ثابت ہو گئی تو ماضی کی طرح غریب پھر متوقع نتائج سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ جس کے نتیجے میں مستقبل قریب میں وہی لوگ جن کے نام رپورٹ میں سنہرے حروف میں لکھے گئے ہیں، وہ ملک پاکستان کے غریب کا خون چوستے نظر آئیں گے۔

اس لئے کہ جس نظام میں ہم جی رہے ہیں اس میں تمام تر ظلم کا نشانہ بننے والا واحد طبقہ غریب ہے۔ کیا ہم دیکھتے نہیں جب بھی کوئی زمینی یا آسمانی آفت آتی ہے ہمیں سب سے پہلے غریب روتا اور فریاد کرتا نظر آتا ہے۔ نا جانے کیوں ہر مصیبت کا اوّل شکار یہ غریب ہی ہوا کرتا ہے۔ نا اس کی بات میں دم ہے نا اس کے ہاتھ کوئی عہدہ ہے کہ یہ اپنا حق لے سکے۔ اور باتیں اور خواہش ہماری یہ کہ ریاست مدینہ بن جائے۔ حالات کے اس تناظر میں ہم اپنے محترم وزیر اعظم صاحب سے درخواست کریں گے، آپ صدیق و عمر، عثمان اور علی کی باتیں چھوڑیں ہمیں آپ سے کوئی گلہ نا ہوگا۔

بس اک گزارش ہو گی کچھ عرصہ کے لئے خلیفہ ابو جعفر منصور ہی بن جائیں، تو ملک پاکستان کی تقدیر بدل سکتی ہے۔ یقین جانیے آپ کو ایسے ایسے لوگ نظر آئیں گے جنہوں نے غریب کے کمزور ہاتھوں سے سر سبز و شاداب زمین بھی چھینی، اور اس کے منہ سے نوالہ بھی چھینا، اور اس کی روز مرہ کی ضروریات بھی چھینی، اگرکوئی سنجیدہ قدم نا اٹھایا گیا تو وہ اس کی چلتی سانسوں پر بھی قبضہ کرنے میں کوئی دریغ نہیں کریں گے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply