ڈُوبتی اُبھرتی یادیں


سردیوں کی راتیں تھیں۔ نیو کراچی میں بجلی نہیں تھی لیکن شاید سڑک کے ساتھ بجلی کے کھمبے تھے۔ جانے کہاں سے راتوں کو کھمبے بجانے کی آوازیں آتیں ساتھ، ہوشیار، جاگتے رہو، پٹھان آرہے ہیں کے آوازے لگتے۔ گلیوں میں پہرے دیے جاتے۔ نکڑ پر الاؤ روشن کرکے پہرہ داری کی جاتی۔ افواہوں کا بازار گرم رہتا۔ فلاں بستی پر حملہ ہوگیا، فلاں جگہ ہنگامے ہورہے ہیں۔ فلاں سڑک سے پٹھانوں کے ٹرک گزرتے دیکھے گئے۔

اور آج اتنے سال گزر جانے کے بعد مجھے احساس ہوتا ہے کہ گوہر ایوب نے فتح کے نشے میں چور نہ صرف کراچی والوں کا جی جلایا تھا بلکہ پٹھانوں کے ساتھ بھی بڑا ظلم کیا تھا۔ ایوب خان پٹھان نہیں تھا لیکن عوام میں یہی مشہور تھا۔ ٹرکوں کے جلوس میں زیادہ تر ہزارئیے تھے جو کہ ایوب خان بھی تھا۔ یہ ہزارئیے بھی مزدور تھے، کراچی میں شاید ان کا ووٹ بھی نہیں تھا۔ ان غریبوں کو تو کچھ خبر نہ تھی۔ ملوں کو بند کرکے اور پانچ پانچ دس دس روپے دے کر یا زور و جبر سے انہیں جلوسوں میں شامل کیا گیا تھا۔

سیدھے سادھے اور معصوم پٹھان تو کراچی والوں کے محافظ تھے۔ یہ جفاکش لوگ وہ کام کرتے تھے جو کراچی کے نازک مزاج لوگ سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ صرف پیاز اور روٹی کھاکر، جلتے سورج کے نیچے سڑکیں اور نالے کھودتے، پتھر توڑتے، گھنٹوں رکے بغیر محنت اور ایمانداری سے کام کرنے والے، وفاداری اور جاں نثار ی کی علامت یہ پٹھان کراچی والوں کے بنگلوں، بنکوں، دکانوں اور محلوں کی چوکیداری کرتے۔ یہ سب نفرت کا نشانہ بنے۔ سیاست نے اپنا مکروہ چہرہ دکھایا تھا۔

کس طرح بھلائیں ہم اس شہر کے ہنگامے
ہر درد ابھی باقی ہے ہر زخم ابھی تازہ ہے
یہ راکھ مکانوں کی ضائع نہ کرو ساغر
یہ اہل سیاست کے رخسار کا غازہ ہے

نفرت کی جو پنیری ان موقع پرست سیاستدانوں نے لگائی تھی وہ آج تک کسی نہ کسی صورت اپنا زہر آلود پھل دے رہی ہے۔ شہر بھر میں کرفیو تھا۔ لالوکھیت، ناظم آباد، گولی مار، برنس روڈ نیو کراچی اور کورنگی لانڈھی سب سے زیادہ متاثرہ علاقے تھے اور آنے والے دنوں میں بھی یہی علاقے ہر حکومت کے خلاف مزاحمت اور حریت کا استعارہ بنے رہے۔ مزہ تو یہ آتا کہ اگر لالوکھیت میں کسی وجہ سے ہنگامہ ہو اور نیو کراچی میں خاموشی ہو تو یہاں والوں کی غیرت جگانے کے لیے چوڑیاں بھیجی جاتیں۔

اور اگر کورنگی یا برنس روڈ میں بدامنی ہے اور لالوکھیت اور ناظم آباد والے پرسکون ہیں تو انہیں چوڑیاں بھیجی جاتیں۔ اللہ جانے یہ چوڑیاں کون لاتا تھا اور کس کو دی جاتی تھیں لیکن ہم یہ سنتے ضرور تھے کہ ”ابے گولی مار میں بلوہ ہوریا ہے اور تم گھر میں اماں کے کولھے سے لگے بیٹھے ہو۔ چلو بے، باہر نکلو“ اور کوئی پہلوان جی انگڑائی لے کر اٹھ کھڑے ہوتے اور آس پاس کی دکان والوں کو غیرت دلاتے۔

خیر جی وہ وقت بھی گزر ہی گیا اور اتنا بڑا شہر کتنے دن بند رہ سکتا تھا؟ پیٹ کی آگ سب کچھ بھلا دیتی ہے اور پھر مہاجر، سندھی، پٹھان، پنجابی سب شیرو شکر ہوکر جہاد زندگانی میں مصروف ہوجاتے۔

یہ مشق سخن اور چکی کی مشقت جاری تھی یعنی اس ساری اکھاڑ پچھاڑ کے باوجود پڑھائی بھی چلتی رہی اور پانچویں جماعت کے امتحان بھی ہوگئے۔ اب یاد آیا کہ یہ شاید ”بورڈ“ کے پہلے امتحان تھے کہ یہ ہمارے اسکول میں نہیں بلکہ ”فائیو جی ایریا“ کے ایک گورنمنٹ اسکول میں لیے گئے تھے۔ میں اپنی جماعت میں اندھوں میں کانا راجہ تھا۔ یا یوں کہیے کہ دوسرے لڑکے مجھ سے بھی گئے گزرے تھے، یہاں بھی میں اپنی کلاس میں اوّل آیا اور یہ حیرت کی بات تھی کہ یہاں دادی اور چچا کا ڈنڈا سر پر نہیں تھا اور میں سارا دن گلیوں میں آوارہ گردی کرتا یا کھیل کود میں مصروف رہتا کیا بتاؤں کہ وہ اسکول کیا تھا۔

نیو کراچی جیسے علاقے میں ایک وسیع وعریض رقبے پر ایک جدید ترین اسکول حیرت میں مبتلا کرتا تھا۔ حکومتیں جیسی بھی تھیں، اکثر محکمے ایمانداری سے اپنا کام کرتے تھے۔ اپوا بوائز اور ٹاؤن کمیٹیز رہبر ملت یہ دو اسکول شاید امریکی امداد کے تحت تعمیر کیے گئے تھے۔ یا شاید ایسا نہ ہو اور یہ میرا صرف گمان ہو، کہ ان اسکولوں کی عمارتیں اتنی شاندار تھیں کہ شہر کے بڑے بڑے نجی اسکولوں کو ایسی جدید عمارتیں میسر نہیں تھی۔

 میرے ساتھ گھر کا کوئی بڑا نہیں تھا جو ماسٹر وں سے بات کرتا۔ میں مایوس ہوکر واپس آیا اور سوچا کچھ دن بعد کسی بڑے کو ساتھ لاکر دوبارہ قسمت آزمائی کروں گا۔ کوئی بڑا تو ساتھ نہیں آیا البتہ مجھے سمجھا دیا گیا کہ ماسٹر وں سے کیسے بات کرنی ہے، چنانچہ ایک دن اپنی پانچویں جماعت کی مارک شیٹ اور اسکول کے سرٹیفیکیٹ کے ساتھ دو نمبر کے بس اسٹاپ کی جانب روانہ تھا کہ اپنے محلے والے اسکول کی دیوار پر کپڑے کا ایک بینر لٹکا نظر آیا جس پر لکھا تھا ”رہبر ملت بوائز اینڈ گرلز سیکنڈری اسکول“ ۔

گورنمنٹ اسکول کی خالی عمارت میں کسی ”ٹاؤن کمیٹیز نے رہبر ملت“ اسکول قائم کیا تھا۔ سوچا چل کر دیکھتے ہیں۔ یہاں ایک برآمدے میں ایک میز کرسی ڈالے چند ثقہ صورت حضرات بیٹھے تھے۔ ڈرتے ڈرتے ایک صاحب سے پوچھا کہ کیا یہاں چھٹی جماعت میں داخلہ مل جائے گا؟

وہاں تو گویا دل کی کلی کھل گئی۔ صبح سے اب تک یہاں کوئی نہیں آیا تھا۔ میں پہلا ضرورتمند تھا جس نے یہاں جھانکا تھا اور وہ سب مجھ سے بھی زیادہ ضرورتمند۔ پوچھا ”کون سی کلاس میں داخلہ چاہیے؟“ جی میں آئی کہ ساتویں کلاس کا کہہ دوں کہ سوال ہی ایسا تھا کہ ”بولو جی تم کیا کیا خریدو گے؟“ لیکن فطری شرافت اور ابا کا ڈر آڑے آیا اور انہیں بتایا کہ پانچویں کا امتحان میں نے امتیازی نمبروں سے پاس کیا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی پوچھا کہ فیس کتنی ہے۔ یہ شاید تین یا ساڑھے تین روپے تھی۔ دل ہی دل میں حساب لگایا تو یہ چار نمبر سے کم پڑ رہی تھی جہاں جانے کے لئے روز بس کا کرایہ بھی دینا پڑتا۔

ایک استاد جو بعد میں میرے کلاس ٹیچر بھی بنے اور جن کا میری زندگی میں ایک بہت اہم مقام ہے یعنی ”شیخ تاج الدین صاحب“ نے میری تاریخ پیدائش پوچھی جو کہ مجھے یاد نہیں تھی البتہ امی کہتی تھیں کہ میں اب گیارہ سال کا ہوگیا ہوں۔ ایثار صاحب نے انگلیوں پر حساب لگایا۔

” یعنی انیس سو چون میں پیدا ہوئے ہو؟“ ماسٹر صاحب نے پوچھا۔
” جی“ میں نے کچھ سوچے بغیر جواب دیا۔

ایثار صاحب نے داخلہ فارم بھرا اور تاریخ پیدائش، 23 اگست انیس سو چون، لکھ دی جس کا میں نے کوئی نوٹس بھی نہیں لیا اور اس کے بعد کئی سالوں تک اس پر غور ہی نہیں کیا۔ ہم کون سی سالگرہ وغیرہ مناتے تھے نہ ہمیں معلوم تھا کہ پیدائش کی سالگرہ بھی منائی جاتی ہے۔ یہی تاریخ پیدائش میٹرک کے سرٹیفیکٹ سے ہوتی ہوئی میرے قومی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ پر منتقل ہوئی اور اب لوگ بڑی حیرت سے کہتے ہیں کہ واہ بھئی تم پہلی جنوری کو پیدا ہوئے تھے۔ ساری دنیا میری سالگرہ کی خوشی میں چھٹی مناتی ہے اور مجھے بھی یقین ہوچکا ہے کہ میری ولادت باسعادت 23 اگست کی ہی ہے۔

داخلہ فارم بھر کر میرے حوالے کیا گیا کہ گھر کے کسی بڑے کے دستخط لیتا آؤں ساتھ ہی داخلہ فیس یعنی پانچ روپے بھی لاؤں جس میں پہلے ماہ کی فیس یعنی ساڑھے تین روپے بھی شامل ہیں۔

گھر آکر امی کو بتایا کہ مسجد کے سامنے والے اسکول میں داخلہ مل رہا ہے۔ امی نے اللہ کا شکر ادا کیا کہ میں دور جانے سے بچ گیا۔ اس میں روز کے دو آنے کی بچت سے زیادہ یہ اطمینان تھا کہ ان کا لاڈلا بس کے خطرناک سفر سے بچ گیا اور اب تو قریب ہی پڑھنے جائے گا جہاں اک ذرا گردن جھکا کر مجھے دیکھ سکتی ہیں۔ امی نے باجی کو بھی یہیں بھیج دیا اور یوں میں ”رہبر ملت بوائز اینڈ گرلز سیکنڈری اسکول“ کا پہلا طالبعلم بن گیا۔

اس اسکول میں فرنیچر نام کی فی الحال کوئی چیز نہیں تھی۔ کلاسوں میں ٹاٹ بچھے ہوئے تھے لیکن یہاں عزت بڑی تھی کہ میں ان کا پہلا گاہک۔ یعنی پہلا طالبعلم تھا۔ اور یقین جانئیے کچھ فیصلے ایسے جی کو لگتے ہیں کہ ان کے صائب ہونے پر مہر ثبت ہوجاتی ہے۔ چار نمبر کا سرکاری اسکول جس کی عمارت شاندار تھی اور جدید ترین سہولیات سے مزین تھا۔ اس کے مقابلے میں رہبر ملت اسکول ایک بے سروسامان، اجاڑ سا اسکول تھا لیکن وقت نے ثابت کیا کہ قدرت نے میرے حق میں بہترین فیصلہ کیا تھا۔

مجھے اس درسگاہ میں بہترین استاد میسر آئے مشاریق صاحب کا نام سرفہرست ہے۔ ایثار صاحب ہمیں اردو، اسلامیات اور ڈرائنگ پڑھاتے تھے۔ اردو اور اسلامیات جس طرح انہوں نے پڑھائی اس کے اسباق آج تک ازبر ہیں کہ وہ پڑھاتے کم اور قصے کہانیاں زیادہ سناتے جو اسی سبق سے متعلق ہوتے۔ اردو اور اسلامیات کی کلاس میں وہ جس قدر شفیق ہوتے، ڈرائنگ کی کلاس میں اسی قدر جلاد بن جاتے اور بعض اوقات چڑیا کی چونچ یا لوٹے کا پیندا غلط بنانے پر کھال بھی ادھیڑ دیا کرتے تھے۔

دوسرے شفیق اور مہربان استاد اسلام اعجاز صاحب تھے جو ہمیں فارسی پڑھاتے اور روزانہ چھ مصادر کی گردان کراتے۔ کلاس میں آتے ہی پہلے بلیک بورڈ پر، آمد، آمدہ، آمدہ ای، آمدہ او، آمدیم اور آمدید قسم کے الفاظ لکھتے پھر سبق شروع کرتے۔ غلطی کرنے پر اپنی مختصر سی چھڑی سے ہماری ہتھیلیوں پر اتنی نرمی سے ضرب لگاتے کہ جی چاہتا پھر غلطی کریں اور ان کی چھڑی کھائیں۔

لیکن یہ معین کمالی صاحب تھے جو ہردلعزیز تھے۔ یہ ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب تھے۔ دبلے پتلے، پستہ قد لیکن خوبصورت اور نرم خو۔ معین صاحب ہیڈ ماسٹر یا پرنسپل سے زیادہ میٹرک کے طالبعلم لگتے۔ لڑکے ان سے ڈرتے نہیں تھے لیکن عزت بہت کرتے اور کوئی لڑکا ان سے کسی قسم کی بدتمیزی نہیں کرتا۔

اسکول کے دوسرے اساتذہ بھی مشنری جذبے کے تحت پڑھاتے۔ پڑھائی کے ساتھ پی ٹی اور کھیل کود کی سرگرمیاں بھی جاری رہتیں اور بہت جلد ہمارے اسکول کی فٹبال ٹیم لانڈھی نارتھ کراچی کے اسکولوں کی بہترین ٹیم بن گئی۔ سالانہ کھیلوں کے مقابلے اور قومی دنوں یعنی چودہ اگست وغیرہ پر جلسے اور تقریری مقابلے ہوتے۔

دوسری طرف نیوکراچی اپوا بوائز اسکول جہاں مجھے داخلہ ملا اس کے بارے میں عجیب عجیب باتیں سننے میں آتیں۔ چار نمبر اسکول کے لڑکے بدتمیز مشہور ہوگئے۔ مزے کی بات یہ کہ جب بھی ہمارے غریب سے اسکول کا فٹبال میچ گورنمنٹ اسکول چار نمبر سے ہوا، جیت ہمیشہ ہماری ہوئی اور چار نمبر کی برتری کا خیال ہمیشہ کے لئے دل سے نکل گیا۔ ملت اسکول نے بہت نام کمایا اپوا بوائز اسکول کے طالب علم ڈاکٹر آفاق عمر صدیقی اور ڈاکٹر شمیم احمد کامیاب ڈاکٹر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔

معین کمالی کی سربراہی میں ملت اسکول کے اساتذہ نے جس خلوص، نیک نیتی اور جانفشانی سے اپنے فرائض ادا کیے اس کی مثال کم کم ہی ملے گی۔ ان اساتذہ اور مجلس تعمیر ملت کے اراکین نے ثابت کیا کہ اصل چیز جذبہ اور نیت ہوتی ہے جو کسی مشن کو کامیاب بناتی ہے نہ کہ وسائل اور سازوسامان۔

فی الحال یہیں تک، باقی پھر کبھی، بشرط زندگی۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

انوار زیدی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments