نامردوں کا معاشرہ

میرا شوہر نامرد ہے اور مجھے خُلع چاہیے۔ وہ تنسیخِ نِکاح کا عام سا کیس تھا۔  اچھی پڑھی لکھی فیملی تھی دو پیارے سے بچے تھے لیکن خاتون  بضِد تھی کہ اُسکو ہر حال میں خُلع چاہیے، جبکہ میرا موکل مُدعا علیہ (شوہر)  شدید صدمے کی کیفیت میں تھا، ِجج صاحب اچھے آدمی تھے اُنہوں نے کہا کہ آپ میاں بیوی کو چیمبر میں لے جا کر مصالحت کی کوشش کرلیں شاید بات بن جائے۔ مُدعا علیہ (شوہر) کا وکیل

Read more

ڈُوبتی اُبھرتی یادیں

سردیوں کی راتیں تھیں۔ نیو کراچی میں بجلی نہیں تھی لیکن شاید سڑک کے ساتھ بجلی کے کھمبے تھے۔ جانے کہاں سے راتوں کو کھمبے بجانے کی آوازیں آتیں ساتھ، ہوشیار، جاگتے رہو، پٹھان آرہے ہیں کے آوازے لگتے۔ گلیوں میں پہرے دیے جاتے۔ نکڑ پر الاؤ روشن کرکے پہرہ داری کی جاتی۔ افواہوں کا بازار گرم رہتا۔ فلاں بستی پر حملہ ہوگیا، فلاں جگہ ہنگامے ہورہے ہیں۔ فلاں سڑک سے پٹھانوں کے ٹرک گزرتے دیکھے گئے۔ اور آج اتنے

Read more