کس ٹاسک کے لئے ”حکوُمت“ کو زرداری، نواز شریف سے بیک ڈور چینل رابطے کرنا پڑے؟


اسٹیبلشمنٹ نے اٹھارہویں آئینی ترمیم کے ”دانت“ نکالنے کا حتمی فیصلہ کر لیا، اس ضمن میں خفیہ رابطہ کاروں کو ملک کی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ سودے بازی کے لئے بیک ڈور چینل سے در پردہ جاری گفت و شنید تیز کرنے کا ٹاسک دے دیا گیا ہے تاکہ بجٹ سے پہلے اٹھارہویں ترمیم میں ”ضروری“ رد و بدل یا اس کی جزوی واپسی کا پارلیمانی عمل مکمل ہو سکے۔ ذرائع کے مطابق اصل ہدف این ایف سی ایوارڈ سمیت مرکز اور صوبوں میں وسائل کی تقسیم سے متعلق آئینی شقوں میں اہم رد و بدل کرانا ہے تاکہ فوج کے بجٹ کے لئے وفاق خاطرخواہ رقوم فراہم کرسکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس ہدف کے حصول میں ”تعاون“ کے حوالے سے نیب کو بھی دونوں بڑی اپوزیشن جماعتوں کی قیادت پر دباؤ بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لئے کہہ دیا گیا ہے تاکہ اس مقصد کے لئے پارلیمنٹ میں درکار دو تہائی عددی اکثریت حاصل کرنے کی غرض سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے ساتھ آنے والے ہفتوں میں بارگینگ فائنل کی جاسکے۔

ذرائع کے مطابق مقتدر قوتوں کے ”مذاکرات کار“ بیک ڈور چینل استعمال کرتے ہوئے پیپلز پارٹی اور ”نوُن لیگ“ کی اعلیٰ قیادت کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ ساتھ کی ساتھ نیب کو بھی دونوں بڑی اپوزیشن پارٹیوں، خاص طور پر قدرے زیادہ مزاحمت دکھانے والی ”نوُن لیگ“ کی قیادت کے خلاف کرپشن کے الزامات کے تحت کارروائی تیز کرنے کے لئے متحرک کر دیا گیا ہے، ذرائع کا کہنا ہے کہ نیب کی یہ نوٹس بازی، طلبی اور کسی بھی مقدمے میں اشتہاری قرار دلوانے جیسی کوئی بھی کارروائی اگرچہ محض ”کارروائی“ ہی رہے گی اور اس کا مقصد ”اڑی“ کرنے والوں کو ”لائن پر لانا“ ہی ہوگا تاہم ہدف کے حصول تک متوازی عمل کے طور پر نیب کے ذریعے ”اڑیل“ گھوڑوں پر مسلسل دباؤ بڑھایا جاتا رہے گا۔

اس ضمن میں تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آئین کی اٹھارہویں ترمیم کی جزوی یا کلی واپسی سے نہ تو حکمران جماعت PTI کو کوئی دلچسپی ہے، نہ پیپلزپارٹی کو اور نہ ”نون لیگ“ کو، بلکہ اس کے خاتمے یا اسے toothless بنا دیے جانے میں صرف مقتدر حلقے گہری دلچسپی رکھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ آنے والے قومی بجٹ سے پہلے پہلے یہ کام کروا لینا چاہتے ہیں تاکہ وفاق کے پاس فوج کو اس کی ڈیمانڈ (یا ضرورت) کے مطابق دینے کے لئے وافر فنڈز دستیاب ہوں کیونکہ مقتدر قوتوں، بالخصوص اعلیٰ عسکری شخصیت کا خیال ہے کہ سعودی عرب اور یو اے ای سے لے کر چین تک، ہر طرف سے ملک کے لئے مالی امداد یا قرضہ انہوں نے اپنی ذاتی کوششوں اور اثر و رسُوخ سے لا کر دیا اور انہی کے ادارے کے لئے قومی بجٹ میں ضروری فنڈز نہیں ہوتے کیونکہ 18 ویں ترمیم کی وجہ سے صوبے اپنا اپنا حصہ لے جاتے ہیں اور وفاقی حکومت کے پاس مہیا کرنے کے لئے وافر رقوم ہی نہیں بچتیں۔

مبصرین کے مطابق ایک عرصے سے، بالخصُوص موجودہ سیٹ اپ میں ملک کی خارجہ پالیسی کلی طور پر مقتدر حلقے چلا رہے ہیں اور بیرونی ممالک سے مالیاتی امداد یا فوری امداد کے طور پر قرضے موجودہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی efforts سے مل پائے ہیں ”جو کبھی ترکی جا کر بات چیت کر رہے ہیں تو کبھی یو اے ای، کبھی چائنہ جارہے ہیں تو کبھی سعودیہ، پھر قومی سلامتی کے اداروں کو درکار وسائل کے لئے قومی خزانے میں فنڈز بھی نہ بچیں تو یہ صورتحال ’ان‘ کے لئے کس طرح قابل قبول ہو سکتی ہے“

مبصرین کے نزدیک مقتدر حلقے یہ محسوس کرتے ہیں کہ انٹرنیشنل loaning اور بیرونی قرضے تو وفاقی حکومت حاصل کرتی ہے لیکن اٹھارہویں ترمیم کے تحت انہی رقوم سے صوبائی حکومتیں اپنا اپنا حصہ وصول کرکے چلتی بنتی ہیں جو بالعموم کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے اور ان سے کوئی حساب بھی نہیں لے سکتا کہ اس پر صوبائی خود مختاری پر حملے کا شور مچا کر ہنگامہ کھڑا کردیا جاتا اور سیاسی عدم استحکام سے قومی سلامتی کے لئے خطرہ پیدا کردیا جاتا ہے جبکہ یہی غیر ملکی قرضے واپس اکیلی وفاقی حکومت کو کرنا پڑتے ہیں

Facebook Comments HS