آپا فردوس کی یاد میں


جب ہر طرف نالائقی کے گہرے باد ل چھائے تھے اور میڈیا صبر کا پیما نہ لبریزہوجا نے کے بعد حکومتی مثبت رپورٹنگ کے حکم کی دھجیاں اُڑا رہا تھا۔ حکومتی اہلکاروں کے چہروں پر اس میڈیائی چا ند ما ری نے تفکرات کے نشانات ثبت کر دیے تھے اور جواباً محترم فواد چوہدری صحافیوں کو لاتیں اور گھونسے مار کر اُن کے ”کھنے سجا“ رہے تھے۔ تبھی پردہ غائب سے حکو متی مدد کو ”فردوس عاشق اعوان“ نامی فر شتہ نمودار ہوا جس نے آتے ہی ٹی وی چینلز اور حکومتی محافل کو کشتہ زعفران بنا دیا۔

بڑ ے بڑ ے جغادری آپا کی با توں اور چٹکلوں کے سامنے ڈھیر ہو جاتے۔ آ پا کا کمال یہ تھا کہ آپا اینکرز اور صحافیو ں کو سوال کا موقع دینے کی بجائے الٹا انہیں جواب دینے پر مجبور کر دیتیں اور محفل کا رنگ ہی بدل جاتا۔ کوئی اینکر حکومتی کارکردگی کا پو چھتا تو آپا جواباً پو چھتی ”اپوزیشن لیڈر کہاں ہے؟“ اور ہمیں یوں محسوس ہو تا کہ آپا ”ٹارزن کی واپسی“ کا ٹائم پوچھ رہی ہیں۔

کرونا لا ک ڈاؤن میں جب لوگ پنجابی تھیٹر کی جگتوں سے محروم تھے آپا نے انہیں یہ کمی محسوس نہ ہونے دی اور آئے روز ایسا ایسا چٹکلہ چھوڑتی کہ عوام کئی کئی روز تک کرونا کا غم بُھلا کر سوشل میڈیا اور بازاروں میں ہنستے اور اچھلتے کودتے رہتے۔ کبھی آپا کورونا کو نیچے سے داخل ہونے کی جان لیوا خبر ہنستے مسکراتے دیتیں تو کبھی غریب عورتوں سے بچے پیدا کرنے کے علاوہ ان کے خاوندوں کی مصروفیات کا جائزہ لیتے نظر آتیں یعنی سوشل اور روایتی ہر دو میڈیا پر، ہر وقت آپا ہی چھائی ہوئی تھیں۔

کابینہ میں یوں تو دیگر خواتین بھی موجود ہیں جیسا کہ ثانیہ بی بی لیکن اُن کا رنگ و ذمہ داری ہی سنجیدہ منہ بنا کر رکھنا ہے جس وجہ سے اکثر شک گزرتا ہے جیسے کوئی مریضہ ابھی ابھی ہسپتال ایمر جنسی سے نکل کر قوم کے غم میں سنگین ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اپنی صحت و جان کی بھی پروا نہیں کر رہی۔

حکومتی ماحول تو ایسا ہے جہاں گمان گزرتا ہے کہ وزیراعظم سے لے کر کابینہ کے جونئیر ترین رکن تک سب نے سنجیدہ منہ بنا کر رکھنے اور ماتھے پر تفکرات کی لکیریں گہری سے گہری ظاہر کر نے کے لیے با قاعدہ میک اپ کا سہارا لیا ہے۔ اس سارے تشویشی ماحول میں واحد آپا ہی تو تھی جو سب کو اپنی موجو دگی سے ریلیکس رکھتی تھیں۔

اب آپ آپا کے متبادل ہی دیکھ لیں کابینہ اجلاس مزید سنجیدہ اور ٹینس ہو جائیں گے۔ جہاں کوئی چٹکلہ سننے کو نا ملے گا اور صرف ”یس سر اور نو سر“ کے آوازے بلند ہو تے رہیں گے۔ میڈیا کو آپا کی طرح حکمت سے کنٹرول کرنے کی بجا ئے ففتھ جنریشن وار سمجھ کر نپٹایا جا ئے گا ”رک جاؤ“ ، ”آگے بڑھو“ ، ”جھک جاؤ“ ، ”پیچھے آؤ“ کے کاشنز سے فضا مزید آلودہ و سنجیدہ ہو جا ئے گی۔

یعنی کابینہ کا اجلاس نا ہو ا ”مرگ والا گھر“ ہو گیا جہاں سب منھ پیڈے کر کے بیٹھے رہیں گے اور ہم سب آپا فردوس کو مس کریں گے۔

Facebook Comments HS