موب مینٹیلٹی یاہجومی نفسیات کیا ہوتی ہے؟


ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں پر گروہی چلن بہت زیادہ ہے، خیالات و تصورات پر غوروفکر کرنے کی بجائے شخصیت پرستی کو عین ایمان تسلیم کیا جاتا ہے۔ سوچنے اور غوروفکر کرنے والے شخص کو ذہنی مریض جیسے القابات سے نوازا جاتا ہے۔ سوچنا ایک ایسی بیماری کا نام ہے کہ جس کو بھی اس کی لت پڑ جاتی ہے وہ ایمان و یقین اور سنی سنائی باتوں کے تنگ دائرہ سے نکل کر تحقیق و جستجوکے وسیع و عریض دائرہ میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ جستجوکی ایک ایسی لیب میں داخل ہو جاتا ہے جہاں پر اسے ہر روز نئے سے نئے جہان دانش سے آگہی ہونا شروع ہو جاتی ہے شعوری پختگی کا یہ مچان عقیدت و احترام کے تمام بتوں کے پرخچے اڑاتا چلا جاتا ہے۔

ہمارے سماج میں شخصیت پرستی کی بہت ساری اقسام پائی جاتی ہیں۔ ان میں سر فہرست پیر پرستی، فرقہ پرستی، مذہبی راہنما کی پرستش، سیاسی راہنما کی پرستش اور مخصوص نظریات کی پرستش وغیرہ اہم ہیں۔ پرستی کی یہ تمام اقسام ہجومی نفسیات کو تشکیل دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں اور ایک انسان کی تخلیقی صلاحیتوں کا تیا پانچہ کردیتی ہیں۔ یہ ایک ایسا ناسور ہے جو ایک طرح سے intellectual terrorism کو فروغ دیتا ہے ان سب آئیڈیالوجیزکے پرچارک اپنی زبان میں ایک سحر کی سی کیفیت رکھتے ہیں اور ضرورت کے وقت اپنے اپنے ہجوم کو اکٹھاکر کے تقریرو تحریر کے ذریعے سے اپنے لفظوں کا جال بن کر لوگوں پر ایک سحر طاری کر کے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو معطل کر دیتے ہیں اور اپنے مخصوص مائنڈ سیٹ کو فروغ دیتے ہیں۔

اس قسم کی شخصیات کو Cultish personality کہا جاتا ہے۔ لوگوں کی اکثریت ایسے لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آجاتی ہے اور اپنی سمجھ بوجھ کو ان لوگوں کے سامنے سرینڈر کر دیتے ہیں اور اپنی عقل و فہم کو گِروی رکھ کر ایک ہجوم نفسیات کا حصہ بن جاتے ہیں۔ یہ نفسیات بہت خطرناک اثرات رکھتی ہے اور معاشرے میں کوئی مثبت کردار ادا نہیں کرتی ہے اس ہجوم نفسیات کے پیچھے ایسے نام نہاد راہنما ہوتے ہیں جنہیں کسی بھی طرح سے اپنی طاقت کو بڑھانے کا ایک طرح سے نشہ ہوتا ہے۔

معاشرے میں دھونس کے ذریعے سے اپنی مفاداتی طاقت کو ملٹی پلائی کرنے کے لیے وہ اپنی آئیڈیالوجیز کو مذہب کا تڑکالگا کر پیش کرتے ہیں تاکہ لوگوں کے جذبات کو بھڑکا کر اپنی طاقت کے Vicious circle کو مزید وسیع کر کے ایک منفرد مقام حاصل کر سکیں۔ اس قسم کی ہجوم نفسیات نے بڑے بڑے عالی دماغوں کو بڑی بے دردی کے ساتھ تشدد یا موت کے گھاٹ اتارا ہے۔ مشعال خان جیسا روشن ستارہ ہجوم نفسیات کا شکار ہوا اس کے علاوہ گلیلیو، برونو، سقراط، منصور حلاج اور سلمان تاثیر جیسے لوگ بھی اس قسم کی ذہنیت کا شکار ہوئے۔

یہ وہ خطرناک ذہنیت ہے جو جنت اور حوروں کا خواب دکھا کر حال کی موجودہ دنیا سے بے زار کر کے مرنے کے بعد والی تصوراتی زندگی کے سحر میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے لوگ کس طرح سے معاشرے میں ایک مفید کردار ادا کر سکتے ہیں جن کی اصل زندگی کا آغاز ہی مرنے کے بعد ہو؟ جیسے انگریزی کا ایک محاورہ ہے جو کہ بڑا ہی قابل غور ہے A wonder lasts but nine days۔ طلسماتی سوچ انسانی دماغ کی وہ کیفیت ہے جس میں انسانی دماغ کی تخلیقی صلاحیت ماؤف ہو جاتی ہے اور وہ ایک طرح سے حقائق کی دنیا سے نکل کر معجزاتی اور غیر عملی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔

اس قسم کا انسان زندہ تو ہوتا ہے مگر اس کی عقلی مہارکسی اور کے ہاتھ میں ہوتی ہے وہ اپنی زندگی کے چھوٹے چھوٹے فیصلے کرنے میں بھی اپنے گرو کا محتاج ہوتا ہے۔ ہجومی نفسیات کا دھندہ کرنے والے استحصالی گروہ اپنی چال چلن ور زبان میں بہت ہی دھیمے اور میٹھے ہونے کا ڈھونگ رچاتے ہیں اور لاکھوں کے مجمع میں اپنی سریلی آواز کا استعمال کر کے لوگوں کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو معطل کر کے ان کا ذہنی استحصال کرتے ہیں، ضرورت پڑنے پر اپنے ان ذہنی غلاموں کو اپنی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

یہ نفسیات سوال کرنے والے کی دشمن بن جاتی ہے اگر کوئی ان کے قائم شدہ نظریات پر کوئی سوال اٹھا دے تو اس کو مختلف قسم کے القابات سے نواز کر اس کی اچھے سے درگت بنا دی جاتی ہے یا اس کو نسل انسانی سے ہی دیس نکالا دے کر شیطان کا خاص دوست ڈکلئیر کر دیا جاتا ہے۔ ہماری تاریخ ایسے القابات سے بھری پڑی ہے جو کہ اس ذہنیت نے ایسے لوگوں کو عطاء کیے تھے جنہوں نے روایتی راستوں کو خیر آباد کہہ کر ایک غیر روایتی طرز فکر کو پروان چڑھانے کی کوشش کی تھی۔

روایتی اور گھسے پٹے راستوں پر روایتی اکثریت چلتی رہتی ہے مگر غیر روایتی لوگ اپنے الگ راستوں کا تعین کرتے ہیں اور پھر وقت کے بہاؤ کے ساتھ ساتھ یہی غیر روایتی اقلیت اکثریت میں بدل جاتی ہے اور تاریخ کا دھارا اپنے وسیع دامن میں تبدیلی کے ان دھاروں کو سمیٹتا رہتا ہے اور نئی سوچوں کا تسلسل غیر محسوس طریقے سے معاشرے میں پنپتا رہتا ہے۔ آج کا دور ریشنل تھنکنگ کا ہے، سائنس نے ہر قسم کی میجیکل تھنکنگ کو ننگا کر کے رکھ دیا ہے اور سائنسی حقائق نے ہر قسم کی متھالوجی کو ڈی کوڈ کر دیا ہے۔ یقین رکھیے آنے والی دنیا آج کی دنیا سے بہت مختلف ہو گی۔ وقت کا ساتھ دینے والی حقیقتیں ہی زندہ رہتی ہیں کیونکہ حقائق کو سخت سے سخت تنقید سے کو ئی فرق نہیں پڑتا جبکہ جعلی ور جھوٹے حقائق ہجومی نفسیات کے مصنوعی تنفس پر زندہ رہتے ہیں۔

Facebook Comments HS