سنو مسٹر! سندھ دھرتی نے ہماری تربیت کی ہے، سچل اور بھٹائی نے ہمیں ایجوکیٹ کیا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میرے دیس کا ہر صوبہ، ہر شہر اپنی مثال آپ ہے۔ ان صوبوں اور شہروں میں بولی جانے والی میٹھی بولیاں جیسے ماں کی لوری، کوئل کی کوک، بہتے جھرنوں کی آواز، چوڑیوں کی کھنک، پائل کی چھن چھن، جیسے بانسری کا گیت۔

پاکستان کے چاروں صوبوں میں رہنے والوں کی جڑیں کہیں سے جا ملتی ہوں لیکن جس جگہ ہمارا بچپن بیتا ہو، جوانی کے سہانے دن بتا ئے ہوں، اس جگہ سے پیار ہو جانا فطری بات ہے۔ چھوٹے شہروں میں ماں باپ سے زیادہ محلے کے لوگ بچوں کی تربیت کیا کرتے ہیں، خاندان کے بزرگ بر ا بھلا سمجھایا کرتے ہیں۔ لیکن سندھ میں تربیت کی ذمہ داری دھرتی نے اٹھا رکھی ہے۔ سندھ دھرتی کی مٹی میں عجیب ناصحانہ انداز ہے، مشفق اور ممتا کی آغوش جیسا نرم گرم احساس ہے۔ بچہ جوں ہی گٹھنیوں کے بل چلنا شروع کرتا ہے سندھ دھرتی اسے پیار، خلوص اور اپنایت کا درس دھیرے دھیرے دینا شروع کردیتی ہے۔

سندھ دھرتی کا پہلا سبق انسانیت ہے۔ یہاں کے رہنے والے کسی اجنبی یا بھٹکے مسافر کی مدد اور آؤ بھگت ایسے کرتے ہیں جیسے برسوں کی جان پہچان ہو۔ یہاں مذہبی انتہا پسندی نے کبھی زور اس لیے نہ پکڑا کہ یہاں کہ رہنے والے دوست دشمن سے اچھی طرح واقف تھے۔

وہ نہ صرف اسلام کے نام پر ظلم کرنے والوں میں شامل نہ ہوئے بلکہ انہوں نے سندھ میں رہنے والوں کابلا تفریق رنگ نسل فرقہ ساتھ بھی دیا۔ انہوں نے اصلاح کے نام پر شر پھیلانے والوں کو ہمیشہ بے نقاب کیا۔ سائیں جی ایم سید کو پڑھ لیجیے یقین آجائے گا۔

اس دھرتی کے لوگوں نے کبھی کسی کا ایمان جانچنے کی کوشش کی نہ فرقے اور مذہب سے سروکار رکھا نہ کسی کی بولی سے انہیں مسئلہ ہوا نہ رسم و رواج سے۔ یہاں عبادات کرنے نہ کرنے یا اس کے طریقے پر کوئی بات نہیں ہوتی۔ یہ محبت دو اور محبت لو کے بیوپاری ہیں۔ محبت کی یہ تعلیم انہیں سچل اور بھٹائی سے ملی ہے۔ یہ محبت کرتے ہیں اس لیے محبت کرنے والوں کو خوب پہچانتے ہیں۔ یہاں صرف محبت کو فروغ دیا جا تا ہے۔

صنعتی شہر کراچی بھی گو کہ سندھ میں ہی ہے شہر کے پھیلاؤ کے سبب صنعتی علاقوں کے آبادی سے قریب آجا نے کی وجہ سے کچھ لوگوں کے خیالات بھی آلودہ ہو گئے ہیں، اور کچھ سیاسی قائدین نے بھی جماعتی مفاد میں اپنے کارکنوں کو دوسرے شہروں کے رہنے والوں سے بھڑائے رکھا۔ یوں ایک ہی شہر میں رہتے ہوئے سارے ملک کے لوگوں کی بول چال اور ثقافت جاننے کاموقع مفاد پرستی کی نذرہو گیا۔ یہ شہر ملک کی ساری ثقافتوں اور اور صوبے کے لوگوں کی نمائندگی کرتا ہے۔

پچھلے دنوں جب گورنر سندھ نے سندھ کی کچی آبادیوں میں امدادی رقم تقسیم کرتے ہوئے احساسِ تکبر سے پوچھا۔

جانتے ہو یہ کون دے رہا ہے۔ جواب آیا، بے نظیر۔

عالی حضرت اس خلافِ توقع جواب پر بھنا اٹھے۔ ان کے چیلوں نے لینے والے ہاتھ کو دینے والے ہاتھ کے بارے میں باخبر کرنا مناسب سمجھا۔ مگر گورنر صاحب کی بلباہٹ کو قرار اس وقت آیا جب انہوں نے سندھ کے غریب عوام کو غیر تعلیم یافتہ کہہ کر اپنے کورونا کے مثبت ٹیسٹ کا الزام ان کے سر ڈال دیا۔ موصوف کو شاید معلوم نہیں، معلوم ہو بھی نہیں سکتا کیوں کہ علمیت سے ان کا تعلق بھی نہیں ہے۔ سندھ کے چھوٹے شہروں میں اس وبا سے متعلق لوگوں میں کافی شعور ہے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ مراد علی شاہ نے پہلا کیس آنے پر ہی اسکول بند کر دیے۔ اور کچھ دن بعد صوبے بھر میں لاک ڈاؤن کر دیا تھا۔

پچھلے دنوں جب ہم خیرپور گئے تو ملنے جلنے والے آٹھ فٹ دور کھڑے ہو کر سندھی میں کہتے، نہ نہ گلے نہیں ملیں گے، ہاتھ نہیں ملائیں گے۔ میں نے اپنی والدہ سے پوچھا امی! انہیں تو بڑی آگہی ہے۔ امی نے کہا یہاں پی پی پی کے ورکرز نے لوگوں کو گائیڈ کیا ہے۔ لوگوں میں خوف ہے کہ کسی کے قریب آئیں گے تو بیمار ہو جائیں گے۔

مخیر لوگوں سے ملنے والی امدادی رقوم غریب عوام میں بانٹ کر اسے الیکشن مہم کے طور اپنے فیور میں استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ سندھی عوام ان پڑھ سہی لیکن سندھ میں بری نیت سے داخل ہونے والوں کو یہ کبھی معاف نہیں کرتے۔ خواہ وہ سترہ برس کا جنگجو ہویا ساٹھ برس کا عوامی رہنما۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *