مولانا طارق جمیل صاحب نے کیا غلط کہہ دیا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سچ کا بھاشن دینا آسان ہے لیکن سچائی کا سامنا کرنا نہایت مشکل۔ آگے بڑھنے سے قبل واضح کرتا چلوں اس کالم نگار کی مولانا طارق جمیل صاحب سے دو طرفہ شناسائی نہیں۔ مولانا صاحب بہت بڑے داعی اور مبلغ ہیں جن کے دنیا بھر میں لاکھوں مداح ہیں۔ چند سال قبل کہیں وہ بیان کے لیے تشریف لائے جہاں بڑی تعداد میں لوگ انہیں سننے کے لیے موجود تھے منتظمین کی مہربانی سے مجھے اچھی جگہ مل گئی۔ دعا کے بعد الوداعی لمحات میں جب مولانا صاحب واپس تشریف لے جانے سے قبل لوگوں سے مصافحہ کر رہے تھے تو مجھے بھی موقع مل گیا، ان سے بس یہی واحد لمحاتی ملاقات ہے۔

مجھے یقین ہے کہ مولانا صاحب کو اب میری شکل بھی یاد نہیں ہو گی۔ یہ بھی عرض کرتا چلوں فرقہ پرستی سے دور رہنے والے مبلغ ہونے کے ناتے میرے دل میں ان کا بے پناہ احترام ہے مگر مجھے اعتراف میں باک نہیں کہ ان کی سیاسی سوچ و فہم سے مجھے بیحد اختلاف ہے۔ میرا یہ بھی ماننا ہے کہ ایک مبلغ اور داعی کا کسی سیاسی پلڑے میں وزن رکھنا اس کے مشن کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، لیکن اگر کوئی ذاتی حیثیت میں کسی رائے کا اظہار کرنا چاہے تو آزادی اظہار کا تقاضا ہے کہ اسے اپنے خیالات بیان کرنے کی اجازت ملنی چاہیے۔

مولانا صاحب نے گزشتہ دنوں وزیراعظم کے روبرو ٹیلی تھان میں دعا کرانے سے قبل چند جملے کہہ دیے جس کے ردعمل میں طوفان بدتمیزی برپا ہے۔ اعتراف کے بجائے کہ بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی، آسمان سر پر اٹھا لیا گیا۔ مولانا صاحب کی عاجزی اور اخلاق کا پہلے بھی زمانہ معترف تھا لیکن جس طرح انہوں نے معذرت کی اور کیچڑ میں پتھر مارنے سے بات ختم کرنے میں عافیت جانی۔ مخالفین بھی اس کے بعد ان کی شرافت کا اعتراف کر رہے ہیں۔

ورنہ چند مستثنیات کے سوا میڈیا کا جھوٹ ثابت کرنے میں کیا مشکل ہو سکتی تھی؟ کون کہہ سکتا ہے میڈیا میں جھوٹ نہیں بولا جاتا؟ کیا میڈیا میں ایسے لوگ اکثریت میں نہیں زیادہ وقت جن کے منہ سے جھوٹ نکلتا ہے؟ کیا کالم نگار اور اینکر جھوٹے الزام لگا کر شرفا کی پگڑیاں سر بازار نہیں اچھالتے؟ کیا الزام تراشی سے لوگوں کی عزت داغدار نہیں کی جاتی؟ کیا میڈیا کے شر سے خود میڈیا ہی محفوظ ہے؟ کیا میڈیا والے ایک دوسرے پر غداری ملک دشمنی اور کفر کے فتوے نہیں لگاتے؟

میڈیا سچ نہیں چھپاتا اور جھوٹ نہیں بیان کرتا؟ ہماری تباہی اور زوال کی اصل وجہ کیا ہے اور پچھلے چند سال سے کتنے سفاک طریقے سے واردات جاری ہے۔ میڈیا نے ایمانداری سے یہ کہانی بیان کی اور کیا میڈیا مالکان ہی اپنے کاروباری مفادات کی خاطر سچ روکنے کی کوشش نہیں کرتے؟ جس کسی نے سچ بیان کرنے کی کوشش کی اس کے کالم نہیں رکے ان پروگراموں پر قدغن نہیں لگی سچ پر اصرار کرنے والے صحافیوں کو نوکری سے فراغت کا صدمہ نہیں اٹھانا پڑا؟

زبان خلق نقارہ خدا ہے، خلق خدا غائبانہ ہی نہیں منہ پر کیا کیا کہہ رہی ہے رائے دیکھ لیں میڈیا کے اعتبار کا علم ہو جائے گا۔ یہ درست نہیں کہ صحافی بلیک میلنگ کرتے ہیں ان کی کمزوریاں جان کر پیسہ بٹورنے کے چکر میں رہتے ہیں۔ چند بڑے شہروں کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا میڈیا ہاؤس بھی چھوٹے شہروں میں موجود رپورٹرز کو باقاعدہ تنخواہ نہیں دیتا۔ ان رپورٹرز کے اخراجات اور ٹھاٹ کہاں سے پورے ہوتے ہیں، میڈیا مالکان اور خود ساختہ صحافتی میر کارواں حضرات کو اس کا علم نہیں؟

دھوپ چھاؤں آندھی طوفان میں سڑکوں پر خواری خدائی خدمت کے شوق میں کتنے دن جاری رہ سکتی ہے؟ پریس کارڈ کے بل بوتے پر رعب کس طرح ڈالا جاتا ہے اور رشوت کس طرح لی جاتی ہے کوئی بھی جان سکتا ہے۔ کتنے ہی ٹٹ پونجیوں سے واقف ہوں جن کی اوقات سائیکل پر بیٹھنے کی نہیں تھی دنوں کے اندر پراڈو اور فارچونر کے مالک بن بیٹھے ہیں۔ حلفاً کہہ رہا ہوں ایک بڑی میڈیا شخصیت نے مجھے بتایا ہم چینلز یا اخبارات میں اس کو اسپیس دیتے ہیں جو ہمارے لیے فائدے کا سبب ہو۔ اب محض لکھنے یا بولنے والا ادارے کے مالک کو فائدہ کس طرح پہنچا سکتا ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں۔

یہ اعتراض بھی کیا جا رہا ہے کہ مولانا صاحب اس میڈیا مالک کا نام بتائیں جس نے یہ بات کی۔ ہم میں سے کتنے لوگ نام بتائے بغیر روزانہ لکھتے ہیں کہ ایک رکن پارلیمنٹ یا وزیر نے اپنی قیادت کے بارے فلاں فلاں تحفظات مجھ سے بیان کیے۔ نام بیان نہ کرنے کی وجہ جھوٹ یا خوف نہیں بلکہ اکثر ذاتی تعلق یا آف دی ریکارڈ گفتگو کا احترام ہوتا ہے۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے اس بات پر سب سے زیادہ اعتراض جس صحافی کی طرف سے ہوا، غلط معلومات پھیلانے یا اور ذاتی ایجنڈے کے تحت رائے عامہ ہموار کرنے میں یدطولی رکھتے ہیں۔

نواز شریف کی کابینہ کو تبلیغ کرنے کے بعد عمران خان کی مدح سرائی اگر نا قابل معافی جرم ہے تو پھر گفتار و کردار کے اپنے تضاد کے بارے کیا خیال ہے؟ مولانا صاحب نے نواز شریف کی کابینہ سے خطاب میں کیا کہا، خبر نہیں۔ بہرحال ایک کلک سے ہر شخص یہ ضرور جان سکتا ہے کہ آنے والے حکمران کے لیے جناب کا قلم کیا لکھتا ہے اور اقتدار کا سورج نصف النہار سے ڈھلنے کے فوراً بعد؟ چلیں زیادہ پرانی بات نہیں کرتے دو ہزار اٹھارہ کے انتخاب سے قبل ہم ایسے جب گالیاں اور دھمکیاں برداشت کر رہے تھے اس وقت یہ بطل حریت لاہور کی ٹوٹی سڑکیں اور ابلتے گٹر دکھانے کیوں نکلے تھے؟

مولانا صاحب کو زدوکوب کرنے میں ان کے ساتھ جو دوسرے صاحب تھے وہ بھی میڈیا کے بارے میں کافی حساس رہتے ہیں۔ انہوں نے چند ہفتے قبل وفاقی وزیر ہاؤسنگ طارق بشیر چیمہ کو گھیرے میں لینے کی کوشش کی۔ طارق بشیر چیمہ مگر ہشیار نکلے جوابا انہوں نے اسی انداز میں وار کیا تو موصوف ٹھنڈے پڑ گئے۔ میڈیا اگر ایجنڈا بیسڈ پروگرام نہیں کرتا تو اس اسکینڈل کا follow up انہوں نے کیوں نہیں کیا؟

جھوٹ تو اس سے ہی ثابت ہو سکتا تھا مولانا صاحب نے کہا بائیس کروڑ عوام میں کتنے لوگ دیانتدار ہوں گے، لیکن تاثر ایسا قائم کر دیا گیا کہ جیسے وزیراعظم کے سوا تمام کو انہوں نے بے ایمان کہہ دیا ہو۔ اس میں غلط کیا ہے؟ اینٹ کے برادے سے مرچ بنانے کی فیکٹریاں مضر صحت کھانا فروخت کرنے والے ریسٹورنٹ اور جعلی دواؤں کے ذخیرے میڈیا پر نہیں دکھائے جاتے؟ یہاں کا تاجر ناپ تول میں ڈنڈی نہیں مارتا، سرکاری اہلکار رشوت نہیں لیتے، سائلین فائلوں کو پہیے نہیں لگاتے اور جن کا داؤ چلتا ہے وہ کرپشن نہیں کرتے؟

اس میں شک نہیں میڈیا میں ایماندار لوگ بھی ہیں اور دیگر طبقات میں بھی۔ بات مگر اکثریت کی ہے۔ میڈیا سے معذرت کے ساتھ گزارش ہے خود کو مقدس گائے سمجھنا چھوڑ دے۔ کسی پر انگلی اٹھانی ہے تو تنقید سننے کا حوصلہ بھی رکھنا چاہیے۔ آخر میں ایک التجا مولانا طارق جمیل صاحب سے بھی کہ خدارا آپ کو اللہ پاک نے جو مقام دیا اس کا تقاضا ہے عوام کے جذبات کے احترام میں لفظوں کے انتخاب میں احتیاط برتا کریں۔ خاص طور پر سیاسی سوچ کا اظہار کرتے وقت کم از کم یہ فرما دیا کریں کہ یہ میری ذاتی رائے ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply