دو دانشور: محمد مظاہر اور جارج آرویل

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کئی سال پرانی بات ہے ایک شام میری درویش دوست زہرا نقوی نے مجھے ایک تحفہ دیتے ہوئے کہا ’میرے ابو نے آپ کے لئے کتاب بھیجی ہے جس کا نام‘ سپین میں عوامی جنگ ہے ’۔ یہ جار ج آرویل کی تخلیق Homage to Catalonia کا اردو ترجمہ ہے۔ کتاب کھولی تو اپنائیت بھری تحریر نظر آئی۔

’محترم خالد سہیل کے لئے۔ جو ہماری جنگ کینیڈا میں لڑ رہے ہیں۔ محمد مظاہر‘

میں نے زہرا کا شکریہ ادا کیا اور سوچنے لگا کہ میں ’محمد مظاہر اور ہم جیسے اور بہت سے انسان دوست شاعر اور ادیب کون سی جنگ مل کرلڑ رہے ہیں :

آمریت کے خلاف جمہوریت کی جنگ
جبر کے خلاف آزادی کی جنگ
مذہبی شدت پسندی کے خلاف سیکولر اندازِ فکر کی جنگ
اور
سیاسی دہشت گردی کے خلاف امن اور آشتی کی جنگ

لیکن یہ جنگ تلوار سے نہیں قلم سے لڑی جا رہی ہے اور اس کا مقصد ریاستیں نہیں دل جیتنا ہے۔ اور محمد مظاہر نے اپنے چند محبت بھرے الفاظ سے میرا دل جیت لیا۔ میں نے زہرا سے کہا ’میری خواہش ہے کہ میں تمہارے ابو سے ملوں اور ایک تفصیلی انٹرویو لوں‘ ۔ میں یہ بھی جانتا تھا کہ محمد مظاہر نے جارج آرویل کے شہ پارے ناول Animal Farm کا بھی ترجمہ کر رکھا ہے۔

پھر ایک صبح زہرا کا جنوبی افریقہ سے فون آیا ’میں اپنی بہن مینا سے ملنے جوہانس برگ آئی ہوئی ہوں۔ میرے ابو بھی میرے ساتھ ہیں۔ اگر آپ ان سے ملنا چاہتے ہیں تو جنوبی افریقہ چلے آئیے‘ ۔

’چلیں میں پروگرام بناتا ہوں۔ اگر میری محبوبہ بے ٹی ڈیوس بھی آئیں تو آپ کو اعتراض تو نہیں ہوگا‘
’بالکل نہیں‘

میں نے بے ٹی ڈیوس سے ذکر کیا تو وہ فوراً تیار ہوگئیں اور ہم نے پیرس اور جوہینز برگ کا ٹکٹ خرید لیا۔ ہم واپسی پر اپنے شاعر دوست ابرار الحسن سے پیرس میں ملنا اور آئفل ٹاور کو رات کے وقت دیکھنا چاہتے تھے۔

میں نے بے ٹی ڈیوس کو بتایا کہ میں بیس سال پیشتر جنوبی افریقہ گیا تھا جب اپارتھائڈ کا متعصب نظام قائم تھا اور نیلسن منڈیلا جیل میں تھے اور رابن آئی لینڈ میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کررہے تھے۔ میں نے کیپ ٹاؤن کے ایک پہاڑ پر چڑھ کر اس جزیرے کو دیکھا تھا اور اس انقلابی کی ہمت کی داد دی تھی جس نے اپنی جوانی اپنی قوم کی آزادی کے لئے قربان کردی تھی۔ اب میں انقلاب کے بعد جنوبی افریقہ کو دیکھنا چاہتا تھا جس میں منڈیلا کی دس ہزار دنوں کی جیل کی کوکھ سے آزادی نے جنم لیا تھا۔

میں اور بے ٹی ائیرپورٹ پر پہنچے تو زہرا اور اوصاف حیدر ہوائی اڈے پر ہمارے منتظر تھے۔ راستے میں زہرا کہنے لگیں ’ابو آپ سے ملنے کے لئے بڑے بے تاب ہیں‘ ۔ ہم گھر پہنچے تو مظاہر صاحب گھر سے باہر ہی چہل قدمی کررہے تھے۔ وہ اتنے پیار سے گلے ملے جیسے صدیوں سے جانتے ہوں۔ ’یہ ادبی اور نظریاتی رشتے بھی عجیب رشتے ہیں۔ خون کے رشتوں سے زیادہ گمبھیر، گہرے اور دیرپا‘ ۔ میں نے سوچا۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہواتو بڑھتا ہی چلا گیا۔

مجھے جلد ہی احساس ہوگیا کہ محمد مظاہر ایک ایسی سیمابی شخصیت کے مالک ہیں جس میں بچوں کی معصومیت، نوجوانوں کا تجسس اور بزرگوں کی دانائی گھل مل گئے ہیں۔ میرا ان سے غائبانہ تعارف ان کے تخلیقی اور نظریاتی ادب سے لگاؤ کے حوالے سے ہوا تھا لیکن ملاقات کے بعد معلوم ہوا کہ وہ ایک سیاسی انسائیکلوپیڈیا بھی ہیں کیونکہ وہ پچھلے پچاس سالوں سے متواتر اخبار پڑھ رہے ہیں اور ان کی تفاصیل کو ذہن کے مختلف گوشوں میں محفوظ کیے ہوئے ہیں۔ مجھے احساس ہوا کہ مجھ جیسا بے خبر انسان جس نے زندگی میں کبھی اخبار نہیں پڑھا ایک باخبر دانشورسے مصروفِ کلام ہے۔ تھوڑی دیر کی گفتگو اور چائے نوشی کے بعد بڑی اپنائیت سے پوچھنے لگے ’میں ہر روز آدھ گھنٹے کے لئے سیر کے لئے جاتا ہوں۔ چلیں گے؟‘

’ضرور‘ اور میں تیار ہو گیا۔

اور ہم دونوں کافی دور تک چہل قدمی کرتے رہے اور میں ان کے ہندوستان، پاکستان، ایران، عراق، لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے بارے میں خیالات سنتا رہا اور بہت کچھ سیکھتا رہا کیونکہ انہیں بڑے بڑے مسائل کو چند جملوں میں سمونے کا فن آتا ہے۔ وہ نہ صرف انگریز ادیبوں کے مترجم ہیں بلکہ اپنے جذبات، احساسات اور نظریات کی بھی چند الفاظ میں اچھی ترجمانی کرتے ہیں۔ واپسی پر کہنے لگے

’میں ایک اخبار خریدنا چاہتا ہوں‘
’بصد شوق‘

ہم دونوں ایک مقامی دکان میں گئے۔ مظاہر صاحب نے اخبار خریدا اور سیاہ فام حسینہ کو پیسے دیتے ہوئے پوچھنے لگے

’کیا اب تمہاری طبیعت بہترہے؟‘
وہ ذرا ٹھٹھکی تو کہنے لگے
’پرسوں تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں تھی‘ ۔

مظاہر صاحب کی اپنی صحت میں دلچسپی دیکھ کر وہ انسان ہونے کے ناتے ممنون ہوئی اور نوجوان عورت ہونے کے ناتے شرمائی۔ اگر اس کی جلد سیاہ نہ ہوتی تو وہ شرم سے انار کی طرح سرخ نظر آتی۔

مجھے مظاہر صاحب کی یہ معصوم ادا اور ہمدردانہ لہجہ اچھے لگے۔ مجھے احساس ہوا کہ وہ ایک ذہین دماغ ہی نہیں ایک دھڑکتا ہوادل بھی رکھتے ہیں۔

واپسی پر میں نے مظاہر صاحب کو بتایا کہ پیرس کے ہوائی اڈے پر جب ہم جنوبی افریقہ کے جہاز کا انتظار کررہے تھے تو میں نے بے ٹی ڈیوس سے نہ صرف ان کا بلکہ جارج آرویل کا بھی تعارف کروایا تھا اور چونکہ میں اور بے ٹی تخلیقی شخصیتوں Creative Personalities کے بارے میں کتاب لکھ رہے ہیں اور ان شخصیات کے تضادات کو نفسیاتی نقطۂ نظر سے سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں اس لئے وہ ذوالفقار علی بخاری کے جارج آرویل کے خاکے سے بہت محظوظ ہوئیں۔ بخاری صاحب نے لکھا تھا:

’جارج آرویل کا نام ایرک بلیر تھا۔ یہ شخص سخت غلیظ تھا۔ جارج آرویل کی نفیس اور شستہ تصنیفات پڑھ کر کبھی خیال میں بھی نہیں گزر سکتا تھا کہ یہ شخص اس قدر غلیظ ہوسکتا ہے۔ ایٹن کا پڑھا ہوا لیکن دبیز بے استری کی پتلون، اس پر جابجا چکنائی اور میل کچیل کے دھبے، کالر میلا چیکٹ، نکٹائی باورچی خانے کی صفائی کی ایک دھجی، کوٹ اس بوری جیسا جس میں کوئلے بھرے جاتے ہیں۔ بوٹ بدشکل اور بن پالش، ناخن میل سے سیاہ، دانت بدوضع اور تمباکو کے سڑے ہوئے پتے کی طرح ملگجے زرد۔

دبلا پتلا جسم، لمبا قد، چہرہ زرد اور مدقوق، مونچھیں ترشی ہوئی مگر باریک جیسے ناک کے نیچے ہلکے سرمے کی لکیر۔ گفتگوکا انداز ایسا جیسے کوئی جلا بھنا لٹھ مارجاٹ ہو۔ میرے فلیٹ میں مجھ سے ملنے آیا تو اس کی ہیئت دیکھ کر بہت حیران ہوا۔ میں نے اسے سگریٹ پیش کیا۔ فرمایا‘ میں اپنی سگریٹ پیوں گا ’۔ یہ کہہ کر جیب سے ایک سڑی ہوئی ٹین کی ڈبیا نکالی۔ اس میں تمباکو تھا۔ پھر سگریٹ کا کاغذ نکالا، تمباکو بتی بنا کر کاغذ میں رکھا۔

کاغذ کوچپکایا۔ پھر لائٹر نکالا۔ یہ لائٹر خاص جنگ کے زمانے کی ایجاد ہوگا کیونکہ اس میں پٹرول استعمال نہیں ہوتا تھا۔ چق مق، ایک گراری، اس کے ساتھ ایک لمبی سی بتی کوئی ڈیڑھ فٹ لمبی۔ اس کی گراری چلائی۔ چق مق سے آگ نکلی۔ بتی کی روئی نے آگ پکڑی۔ ایرک نے پھونک مار کر اس کو دہکایا۔ جب بتی دہک گئی تو اس نے سگریٹ سلگایا۔ سگریٹ سلگا کر اس نے بتی کو نیچے کھینچا۔ بتی ایک خول میں چلی گئی اور بجھ گئی۔

جارج آرویل کی سادگی نے بلکہ اس کی غلاظت نے میرا دل موہ لیا۔ میں نے اتنے غلیظ جسم پر ایسا صاف ستھرا دماغ کبھی نہیں دیکھا۔ ’

میں نے مظاہر صاحب سے کہا کہ اگر وہ اس خاکے کا انگریزی ترجمہ کردیں تو عین ممکن ہے ہم اسے اپنی اگلی کتاب میں استعمال کرسکیں۔ مجھے یہ جان کا خوشگوار حیرانی ہوئی کہ جب میں اور بے ٹی ڈربن کے دورے سے لوٹے تو انہوں نے بڑی محنت سے اس خاکے کا انگریزی ترجمہ کررکھا تھا۔

میں نے جب مظاہر صاحب سے انٹرویو لینے کی درخواست کی تو وہ بخوشی راضی ہوگئے اور میں نے ایک شام ان کا ایک گھنٹے کا انٹرویو ریکارڈ کرلیا۔ میں نے زہرا سے درخواست کی کہ وہ اپنے ابو کا انٹرویو کاغذ پر منتقل کردیں تاکہ ہم اسے ’درویشوں کے ڈیرے‘ پر باقی درویشوں کے سامنے پیش کرسکیں تو وہ راضی ہوگئیں۔ اس انٹرویو میں ہم نے مختلف ذاتی، سماجی، ادبی، سیاسی اور تخلیقی موضوعات پر تبادلۂ خیال کیا اور مظاہر صاحب نے دلچسپ اور فکر انگیز جواب دیے۔ مظاہر صاحب کی دونوں بیٹیاں زہرا اور مینا اس بات پر خوش تھیں کہ میں نے ان سے بہت سے ایسے سوال بھی پوچھے جن کے بارے میں وہ متجسس تو تھیں لیکن بوجوہ پوچھ نہ پائی تھیں۔

انٹرویو کے بعد مظاہر صاحب نے اپنے بھتیجے کا (جسے وہ پیار سے ’چھوڑو‘ پکارتے تھے کیونکہ وہ بچپن میں بہت سی ہوائی باتیں چھوڑ کر سب کو محظوظ کرتے تھے ) کا قازکستان سے آیا ہوا خط دکھایا جس نے خط کے ساتھ انھیں انارکزم anarchism کے موضوع پر چند رسالے اور ساتھ ہی جارج آرویل کا مضمون Why I Write بھیجا تھا۔ اس مضمون میں انھوں نے لکھا تھا کہ انہیں بچپن سے ہی ایک لکھاری بننے کا شوق تھا۔ اس مقالے میں جارج آرویل نے مختلف لکھاریوں کی سوچ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے لکھا تھا کہ

بعض ادیب صرف روزی روٹی کمانے کے لئے
بعض ادیب اپنی انا کی تسکین کے لئے
بعض ادیب جمالیاتی حس کی پرورش کے لئے
بعض تاریخ کو صحیح انداز میں پیش کرنے کے لئے
اور بعض سیاسی مقاصد کے لئے لکھتے ہیں

جارج آرویل کا خیال تھا کہ اس پرآشوب دور میں سنجیدہ ادب غیر سیاسی نہیں ہوسکتا اس کے پیچھے سیاسی مقاصد ضرور پوشیدہ ہوتے ہیں۔ ان کا نظریہ تھا کہ کسی ادیب کا کہنا کہ ادب کو غیر سیاسی ہونا چاہیے بذاتِ خود ایک سیاسی نظریہ ہے۔

The opinion that art should have nothing to do with politics is itself a political attitude.

مظاہر صاحب نے یہ بھی بتایا کہ وہ ایما گولڈمین Emma Goldman کی خودنوشتہ سوانح عمری کا ترجمہ ’سرخ رو‘ کے نام سے کرچکے ہیں جو عنقریب منظرِ عام پر آئے گا اور ادب دوست لوگوں کو چونکائے گا۔ (اب یہ کراچی میں چھپ چکا ہے )

مظاہر صاحب نے جب مجھ سے رائے پوچھی تو میں نے بتایا کہ مترجم تو چاند کی طرح ہوتا ہے جو کسی اور سورج، کسی اور ادیب کی روشنی منعکس کرتا ہے لیکن میری نگاہ میں وہ خود ایک سورج ہیں اس لئے میری درخواست ہے کہ وہ اپنا فلسفہ اور اپنی یادداشتیں رقم کریں اور اپنی زندگی کی کہانی لکھیں کیونکہ ان کی کہانی ایک عہد کی کہانی ہوگی جو ایک غیر روایتی انسان اور ایک معاشرے کے تضادات کو اجاگر کرے گی اور آئندہ نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وہ میرے اس مشورے پر سنجیدگی سے غور کریں گے۔

میں جب زہرا، مینا، نائم ’ریاض اور اوصاف حیدر کو الوداع کہہ کر واپس کینیڈا جا رہا تھا تو مجھے اپنی خوش قسمتی کا احساس ہورہا تھا کہ مجھے ایک ایسی شخصیت سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا ہے جو اس منافقت کے دور میں سچ سوچتا ہے، سچ بولتا ہے اور سچ لکھتا ہے اور ایک انارکسٹ ہونے کے حوالے سے شادی، مذہب اور ریاست جیسی روایات کو چیلنج کرتا ہے۔ ایسے انسان آج کے دور میں نایاب نہیں تو کمیاب ضرور ہیں۔

میں جب مظاہر صاحب کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے احساس ہوتا ہے کہ ان کی حق گوئی جو مجھے بہت عزیز ہے وہ بہت سے روایتی لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بھی ہوتی ہوگی اور ایک منافق معاشرے میں انہیں بہت سے سماجی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہوگا۔ بقول اقبالؔ
اپنے بھی ہیں ناراض و بیگانے بھی ناخوش
میں زہرِ ہلاہل کو کبھی کہہ نہ سکا قند

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 324 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *