کاروبار کیسے کریں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مرشد ایک روز مریدوں میں بیٹھے ہوئے تھے، اچانک ایک مرید سے سوال پوچھا، حاجی صاحب، بچے کو کتنی سمجھ آ جائے تو وہ کاروبار کے قابل ہو جاتا ہے۔ حاجی صاحب بولے، حضور، بس حساب کتاب آ جائے تو کاروبار کر سکتا ہے۔ مرشد جی نے پوچھا، حاجی صاحب، کتنا حساب کتاب آجائے تو کاروبار کر سکتا ہے؟ حاجی صاحب لاجواب تھے۔ مرشد مسکرائے اور بولے، حاجی صاحب، بچہ بس 2 + 2 = 4 سمجھ جائے تو کاروبار کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ آگے اُس ک نصیب ہے، اللہ اُس کی ریڑھی میں ہی اتنی برکت ڈال دے کہ وہ پلازوں کا مالک بن جائے، یا کبھی کامیاب نہ ہو پائے۔

ایک لڑکا، جو کبھی پڑھنا نہ چاہتا تھا، 16 برس کا ہوا تو اچانک باپ کا انتقال ہو گیا اور گھر کی ذمہ داری اِس نکمے پر آن پڑی۔ یہ نوکری کی تلاش میں نکلا تو معلوم پڑا، خاکروبی کے علاوہ اس کے پاس کوئی بھی قابلیت نہیں ہے۔ ایک دفتر میں داخل ہوا، کلرک نے کہا کہ آج جھاڑو لگاؤ، کام پسند آیا تو نوکری تمہاری۔ اُس نے سارا دن کام کیا اور شام کو کلرک صاحب کے پاس حاضر ہوا۔ کلرک صاحب نے کہا، کام میں تم ٹھیک ہو، یہ ای میل ایڈریس لو، اِس پر اپنی تصویر اور ضروری معلومات بھیج دینا، تمہیں کام پر کب سے آنا ہے، اطلاع کر دی جائے گی۔

یہ نکما پریشان ہو گیا۔ بولا، صاحب، ای میل کہاں سے کروں، نہ تو میرے پاس کمپیوٹر ہے، نہ ہی کمپیوٹر چلانا جانتا ہوں۔ کلرک ہنسا اور بولا آج کے زمانے میں بھی ای میل نہیں ہے، کیسے زندگی گزارے گا؟ 100 روپے دیے، کہا یہ آج کی اجرت ہے۔ ای میل بھیجنا لازمی ہے۔ کہیں کسی دوست سے پوچھ اور ای میل بھیج، ورنہ نوکری کسی اور کو دے دیں گے۔

یہ لڑکا منہ لٹکائے وہاں سے نکلا۔ باپ کا سایہ اُٹھ جائے، اور غریبی دروازے پر براجمان ہو، تو دوست تو کیا، دشمن بھی نہیں ملا کرتے۔ یہ پریشان تھا۔ سائیکل پر بیٹھا عجیب وسوسوں میں گھِرا اپنے گھر کی طرف جا رہا تھا۔ ماں کے فاقے، بہن کے آنسو، چھوٹے بھائی کی پیوند زدہ قمیص اُسے اندر ہی اند کھا رہے تھے۔ سائیکل کا رُخ گھر کی طرف تھا، مگر اِس نوجوان کی سوچ کا رُخ قبرستان کی طرف۔ نہ جانے کب وہ قبرستان کی طرف نکل آیا اور باپ کی قبر پر پہنچ کر سائیکل سے گرتا پڑتا اترا۔

باپ کے مرنے پر بھی اِس قدر پھوٹ کر نہ رویا تھا جس قدر باپ کی کمی محسوس ہونے پر رو رہا تھا۔ باپ کی جگہ لینا آسان نہیں ہوتا۔ ابھی باپ کی قبر کی مٹی سوکھی بھی نہ تھی کہ اِس کے آنسو اِس مٹی کو پھر سے بھگونے لگے۔ سورج غروب ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ جب اپنی کمر کا بوجھ باپ کی قبر پر بہا چکا، تو اُٹھ کر گھر کی طرف ہو لیا۔ گھر کے راستے میں سبزی منڈی پڑتی تھی۔ نجانے کس خیال سے سبزی منڈی کی طرف مُڑا اور 100 روپے کے پیاز خرید لیے۔

گھر آتے ہوئے انجانے میں ’پیاز لے لو‘ کی صدائیں بلند کرنے لگا۔ گھر پہنچا تو احساس ہوا کہ جو پیاز اِس نے 100 روپے میں خریدا تھا، وہ گھر پہنچنے سے پہلے پہلے 150 روپے میں بیچ آیا تھا۔ پیسے دیکھ کر یک دم حیرت سے آسمان کی طرف دیکھا، اور آنسوؤں کے ساتھ ہنسنے لگا۔ ایسا لگا جیسے ابھی ابھی ہوش میں آیا ہے۔ باپ کو دعائیں دیں، اور بولا ابّا، دیکھ تیرے بچوں کے سر پر خدا نے اپنا ہاتھ رکھ دیا ہے۔ باپ کا سایہ سر سے اُٹھ جائے تو خدا خود اپنا ہاتھ سر پہ رکھ دیتا ہے۔

خوشی خوشی گھر میں داخل ہوا، ماں نے نوکری کا پوچھا تو بولا اماں، میں اُس چھوٹے دفتر میں کام نہیں کروں گا۔ مجھے اُس سے بڑی نوکری مل گئی ہے۔ مجھے اللہ نے کام پہ رکھ لیا ہے۔ 50 روپے ماں کو دیے اور بولا، پریشان نہ ہونا ماں، اللہ تیرے یتیم بچوں کو رُسوا نہیں ہونے دے گا۔ ماں اِس بدلے ہوئے نکمے سلیم کو دیکھ کر حیرت سے ہکی بکی رہ گئی۔ سلیم رات بھر خدا کا شکر ادا کرتا رہا، باپ سے باتیں کرتا رہا، اور صبح سویرے اپنا 100 روپیہ لے کر منڈی روانہ ہو گیا۔

سلیم روزانہ منڈی سے سبزی خرید کر سائیکل پر گلیوں میں سبزی بیچتا۔ دن میں منڈی سے گھر تک کے کبھی 4 تو کبھی 5 چکر لگ جاتے۔ اور سلیم آسانی سے دو وقت کی روٹی کما لیتا۔ دن گزرتے گئے، سلیم کی راس میں اضافہ ہوتا گیا، یہاں تک کہ سلیم ایک روز خود منڈی کا بڑا بیوپاری بن گیا اور شہر میں پلازے خریدنے لگا۔ سلیم ایک بڑے سے دفتر میں انگریزی بابو بن کر بیٹھنے لگا۔

ایک روز ایک صحافی سلیم سے انٹر ویو لینے آیا اور سلیم کی داستان سُن کرمتأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ جب رخصت لینے لگا تو سلیم سے کہا، سر آپ اپنا ای میل ایڈریس دے دیں، میں انٹر ویو شائع کرنے سے پہلے آپ کو ای میل کر دوں گا، کچھ کمی رہ گئی ہوئی تو بتا دیجیے گا۔ سلیم نے فوراً جواب دیا، ای میل ایڈریس تو نہیں ہے۔ صحافی کی حیرت کا ٹھکانہ نہ رہا۔ بولا، سر آپ اتنے چھوٹے مقام سے اتنے بڑے مقام تک پہنچ گئے، مگر آپ نے کبھی کمپیوٹر نہیں سیکھا۔ آپ کمپیوٹر سیکھ لیتے، ای میل ایڈریس بنا لیتے، تو آپ کو اندازہ بھی ہے کہ آج آپ کہاں ہوتے؟

سلیم مسکرایا۔ کہا، ہاں مجھے اندازہ ہے، آج میں اُسی دفتر میں خاکروب ہوتا، اور فرش پر جھاڑو دیا کرتا۔

کاروبار، پیسوں سے، یا تعلیم سے نہیں ہوتے ہیں۔ کاروبار محنت، لگن، امانت داری، اور تجربے سے ہوتے ہیں۔ 28 اپریل کو حکومت نے شادیانے بجا کر ’چھوٹا کاروباروصنعت امدادی پیکیج‘ کا اعلان کر دیا ہے۔ امدادی رقوم کے حجم اوربا لواسطہ طریقہ تقسیم کی کسی قدر توضیح بھی کر دی ہے۔ مگر یہ بتانا بھول گئے ہیں کہ ’چھوٹا کاروبار‘ سے حکومت کی کیا مراد ہے؟ کیا اِس سے مراد کوئی کریانہ کی دکان ہے؟ کہیں پھر سے مرغیاں اور انڈے تو تقسیم نہیں ہونے والے؟

اور چھوٹی صنعت کس کو گردانا جائے گا؟ جن احباب کی شوگر ملیں ہوں، اُن کے لیے تو پاکستان کا ہر دوسرا کاروبار چھوٹا ہی ہے۔ پھر پیکیج کی امدادی رقم کے حقدار وہ لوگ ہیں جو کورونا سے متأثر ہوئے ہیں، کیا اِس سے مراد نوکری سے نکالے گئے افراد ہیں؟ اب ہم اِس بات پر شدید پریشان ہیں، کہ جس آدمی نے ساری عمر کی ہی نوکری ہے، اور کورونا کی وجہ سے اب نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے، یہ امدادی رقم اُسے کس طرح فائدہ پہنچا سکے گی؟ پھر اِس بات کا اعادہ کے گزشتہ برس کے بلوں کے مطابق اِس برس کے بِل اِن نئے کاروباروں سے وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اب یہاں بھی سقم موجود ہے کہ چھوٹی دکانوں کا تو بجلی کا بل نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے، تو حکومتی امداد کا کیا فائدہ ہو گا؟

الغرض ہماری دانست میں حکومت کو دانست سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ ’امداد‘ کے اعلانات وقتی فائدہ اور تسلی تو دے سکتے ہیں، دیر پا نہیں۔ جاپانی کہتے ہیں کہ بچے کو مچھلی پکڑ کر کھلا دیں تو آپ ایک وقت کی بھوک کا انتظام کرتے ہیں، بچے کو مچھلی پکڑنی سکھا دیں، آپ عمر بھر کی بھوک کا انتظام کر دیں گے۔ پیکیج کی افادیت اپنی جگہ، تربیت کے انتظام کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ بہر کیف، امدادی رقوم پر ناحق قبضہ جمانے والوں کو مبارک ہو، اُن کے لیے ایک اور موقع پیدا ہو گیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *