حامد میر سوال کا مجرم ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یعنی ایک احمقانہ اور ضدی جاہلیت کا بیانیہ یہ ہے کہ سوال بھی وہ پوچھیں جو ہمیں وارا کھاتا ہو اور اگر ایسا نہیں کرو گے تو ہم اپنی تربیت کے مطابق سلوک کریں گے۔

مولانا طارق جمیل صاحب کا زہد و تقوی تو ایک بہانہ ٹھہرا ورنہ اسی الیکٹرانک میڈیا کے گماشتوں نے تو اشارہ ابرو پاتے ہی بعض سیاسی رہنماؤں کی خواتین تو کیا، تڑپتے ہوئے جسموں اور الوداعی سانسوں تک کو نہیں چھوڑا تھا۔ لیکن مولانا طارق جمیل جو ایک افسوسناک صورتحال میں خود کو پوری طرح سیاسی عمل کا حصہ بنا چکے ہیں سے سوال کرنا ناقابل تعزیر جرم ٹھہرا۔

حامد میر نے فقط اس سوال کو وضاحت طلبی کے ساتھ دہرایا جو مولانا طارق جمیل نے وزیراعظم عمران خان کی تعریف کرتے ہوئے قدرے جذباتی ہو کر عوام اور میڈیا پر جھوٹ کا الزام بھی دھر دیا تھا۔ یہ یقیناً مولانا طارق جمیل کا بنیادی اور انسانی حق ہے کہ وہ کسی بھی سیاسی جماعت یا اس کے لیڈر کو پسند بھی کر سکتا ہے اور اس کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار بھی کرسکتا ہے۔ وہ کسی بھی لیڈر یا فرد کی خوبیاں بھی گنوا سکتا ہے۔ اس کے اچھے کاموں کی تعریف بھی کرسکتا ہے اور اس سے اُمیدیں اور توقعات بھی وابستہ کرسکتا ہے لیکن اس حوالے سے آپ دوسرے شخص (خواہ وہ سیاسی کارکن ہو یا صحافی) کا یہ حق بھی نہیں چھین سکتے کہ وہ سوال اُٹھائے۔

یہی جرم ایک صحافی حامد میر نے کیا اور پھر وہی وبا پھوٹ پڑی جو گزشتہ ایک عشرے سے اس بدنصیب وطن کی تہذیب کے شجر کو دیمک کی مانند نہ صرف چاٹ چکا بلکہ اسے ہر حوالے سے بے برگ و بار بنا کر رکھ دیا۔ یہی وہ تعفن زدہ لیکن نئی تہذیب کی وبا تھی جو کنٹینر سے پھوٹی تو اردگرد کھڑے تماش بینوں کی زبان اور ذہن پر ایسا زھر چھڑکا جس سے کسی مخالف کا حرف ولفظ یا قلم تو درکنار اپنے اجداد کی عزتوں کو بچانا بھی مشکل ٹھہرا۔

رہی بات مولانا طارق جمیل کے حوالے سے تو یقیناً وہ ایک متقی عالم دین ہیں اور اس حیثیت سے ان کا احترام لازم ہے لیکن جب وہ سیاسی شخصیات کے حوالے سے تنازعے میں الجھنے اور رائے عامہ کے مخالف سمت میں تیرنے پر کمر بستہ بھی ہوں تو موجوں کا تلاطم اور متضاد سمت میں بہاؤ کی طاقت جیسے حقائق کو بھی نظر انداز کرنا ممکن نہیں، جو مولانا طارق جمیل صاحب کے لئے بہرصورت تھکاوٹ اور پریشانی کا باعث بنتے رہیں گے۔

لیکن سوال یہ ہے کہ آخر اس میں برا ماننے کی کیا بات ہے کہ مولانا صاحب نے ایک الزام لگایا اور ایک صحافی (حامد میر) نے اس حوالے سے وضاحت مانگی کیونکہ جس پیشے (صحافت ) سے وہ وابستہ ہے اسی پیشے کا ذکر مولانا طارق جمیل صاحب نے اپنے متنازعہ بیان میں کیا تھا۔ تاہم مولانا طارق جمیل کی بصیرت سے ہرگز انکار نہیں کہ اُنھوں نے فوری طور پر اپنے الزام پر نہ صرف معذرت کرلی بلکہ معافی بھی مانگی جو یقیناً ایک قابل ستائش عمل ہے، لیکن اس کے بعد حسب معمول اور حسب توقع سوشل میڈیا کے میدان کارزار میں وہ مجاھدین سربکف ہو کر اُترے جن کی سیاسی تربیت اور اُٹھان ایک بے بنیاد بیانیے اور حقائق سے لاعلم جذباتیت سے تخلیق پائی تھی۔

میں نہ تو حامد میر کے بارے میں زیادہ جانتا ہوں اور نہ ہی ان سے کسی قریبی تعلق کا دعویدار ہوں لیکن الیکٹرانک میڈیا کی ہڑبونگ سے بہت پہلے جب پرنٹ میڈیا ہی صحافت کا مرکز و محور ہوا کرتا تھا تو تب بھی وہ ایک انتھک صحافی اور قلمی مزدور کی حیثیت سے ایک جانا پہچانا نام بن چکا تھا کہنے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جدید تراش خراش کا سوٹ پہن کر نہ اچانک کسی سکرین پر نمودار ہو کر ”سینئیر تجزیہ کار“ بن بیٹھا اور نہ ہی صحافتی اقدار سے ناشناسا ہو کر ہذیان بکنے لگا بلکہ اس دشت کی سیاحی میں ایک عمر گزاردی اور اسی تجربے نے کسی حد تک انہیں تہذیب اور شائستگی بھی سکھا دی۔ اس لئے ان کا تعلق باد و باراں سے بچے اس تھوڑے سے صحافتی قبیلے سے ہے جنہیں صحافی کہنا کم از کم جرم اور جھوٹ کے زمرے میں نہیں آتا۔

ایک پیشہ ور صحافی اپنا سوال ہمیشہ دوسروں کے قول و فعل سے تراشتا ہے لیکن موجودہ دور کی حرماں نصیب صحافت کا المیّہ دیکھئے کہ ایک بد بخت طبقہ بضد ہے کہ صحافتی اقدار کو بھی ہماری خواہشات کے دائرے میں ہی مقّید رکھا جائے اور زبان و قلم کو ہمارے مخالفین کے خلاف گالم گلوچ اور بہتان طرازی جبکہ ہمارے ممدوح کے حوالے سے صرف مدح و قصیدہ تک محدود رکھا جائے۔ تو عرض یہ ہے کہ نہیں جناب ایسا ہرگز نہیں ہوتا کیونکہ صحافت کی اپنی تاریخ، اقدار اور روایات ہیں اور اسے صرف وہی لوگ نبھا سکتے ہیں جو حرف و لفظ کی حرمت سے آگاہ بھی ہوں، صحافت کے مزاج شناس بھی ہوں اور اپنے ضمیر کی لاش کو کندھا دینے پر تیار بھی نہ ہوں۔

رہی دوسروں کی خواہشات اور اپنے مفادات کے مطابق صحافت کرنا تو آج کل ایسے لوگوں کی کمی ہرگز نہیں حتی کہ بعض حضرات تو معمولی سی لطف و کرم پر بھی دو گز قصیدہ لکھ مارنے کو ہمہ وقت تیار نظر آتے ہیں لیکن اس مکروہ عمل کو کم از کم صحافت کے نام سے نہیں بلکہ کسی اور نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

وہ جو مشتاق احمد یوسفی نے ایک جگہ تکرار کے ساتھ لکھا ہے کہ اس کے لئے پشتو میں بہت بُرا لفظ ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *