عرفان خان: بندہ خدا بننا چاہتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اپنے کسی پچھلے مضمون میں اس طالب علم نے سوال اٹھایا تھا کہ ہم لوگ اللہ کو آزمانے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ اس وقت یہ بات اس پس منظر میں عرض کی گئی تھی کہ بہت سے دیندار کورونا وائرس کے خطرے کے باوجود مساجد میں نماز ادا کرنے کی ضد فرما رہے تھے۔ وقت گزرا اور کورونا سے دنیا بھر میں لاکھوں جنازے اٹھے تو زیادہ تر دینداروں کو عقل آ گئی۔ البتہ جن کا جذبہ ایمانی ذرا زیادہ مضبوط اور ریاستیں ذرا زیادہ عفو و درگزر کی پابند واقع ہوئی ہیں وہاں مسجدیں کھلوا لی گئی ہیں۔ اب دوسرا موقع آیا ہے جب یہ طالب علم یہ معلوم کرنے کی جسارت کر رہا ہے کہ ہم لوگ خدا بننے پر کیوں تلے ہوئے ہیں؟ مجھے یقین ہے کہ یہ سوال پڑھ کر بہت سے دماغ گھوم گئے ہوں گے اس لئے بات کو شروع سے شروع کرتے ہیں۔

مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر اس بات پر متفق ہیں کہ توحید یعنی خدا کے ایک ہونے کا عقیدہ اس کی ذات اور صفات دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔ مطلب یہ کہ خدا ایک ہے اور اس کی جو صفات ہیں اس میں بھی وہ تنہا ہے۔ اس کے اختیار اور قدرت میں کسی دوسرے کو دخل نہیں ہے۔ اس اصول کے تحت شرک کا دائرہ یہ طے ہوا کہ اگر ہم کسی کو خدا کے وجود میں شریک قرار دیں تب بھی ہم شرک کے مرتکب ہوں گے اور اگر کسی کو ان اختیارات میں شریک قرار دیں جو خدا کے لئے مخصوص ہیں تو یہ عمل بھی شرک ہوگا۔

اسی وجہ سے بہت سے افراد وسیلہ اختیار کرنے، بزرگوں سے حاجت روائی چاہنے اور کسی کی قبر یا مزار پر جاکر دعائیں کرنے کو مشرکانہ عمل قرار دیتے ہیں۔ ان کا اصرار ہوتا ہے کہ حاجت روائی اور مشکل کشائی خدا کا کام ہے اس لئے اس میں کسی اور کو شریک کرنا شرک ہے۔ آگے بڑھنے سے پہلے یاد دلا دوں کہ مذہبی بیانیہ کے مطابق شرک سنگین ترین جرائم میں شامل ہے۔ اب ذرا ایک اور پہلو پر توجہ فرمائیے۔ ذرا سوچ کر بتائیے کہ خدا کے اختیارات میں کون کون سی چیزیں شامل ہیں؟ ایک ایک چیز کو درج کرتے چلے جائیں تو ان میں اوپر ہی کہیں لکھا ملے گا کہ اعمال کے مطابق جزا و سزا کا فیصلہ خدا کے اختیار میں ہے۔ یہ اس کا فیصلہ ہے کہ وہ کسے بخشے گا اور کس کو سزا دے گا۔ اب اگر کوئی خدا کے اس اختیار میں دخل دینے لگا تو کیا یہ عمل شرک نہیں ہوگا؟

ذرا سا ذہن پر زور ڈالئے تو ہم میں سے اکثر لوگ خدا کے اس اختیار میں مداخلت کے مرتکب ملیں گے۔ لوگوں کے اعمال کو تولنا اور ان کی عاقبت کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے لیکن ہمارا دل ہے کہ اس اختیار کو استعمال کرنے سے باز نہیں آتا۔ ہم لوگوں کے عقائد اور ایمان کو باقاعدہ تولتے ہیں اور پھر حکم لگاتے ہیں کہ فلاں کا انجام آخرت میں کیا ہوگا؟ یہ عمل ہم بندوں کے دل میں چھپی خدا بننے کی خواہش کا اظہار تو نہیں؟

اداکار عرفان خان کینسر کے مرض سے لڑتے ہوئے جان سے گزرا تو بہت سے دیندار لوگ ترازو لے کر ایمان تولنے بیٹھ گئے۔ خدا کا اختیار استعمال کرنے بیٹھے ان بندوں میں سے کسی نے عرفان خان کے کسی بیان کو معیار بنایا، کسی نے کوئی دیگر کفریہ حرکت یاد دلائی اور ہاتھ کے ہاتھ فیصلہ سنا دیا گیا کہ یہ اب کس انجام سے دوچار ہوگا۔ نامہ اعمال پرکھنے والے ان لوگوں نے یہ عمل بھلے ہی جوش دینداری میں کیا ہو لیکن اپنی روح کے اعتبار سے یہ عمل مذہب کو قابل قبول ہو سکتا ہے؟

میں عرض کر چکا ہوں کہ دوسروں کے اعمال کو تولنے اور جنت و جہنم کی وعیدیں سنانے والے انسان دراصل اپنے دل میں گھر کر چکی اس خواہش کو ظاہر کر رہے ہیں کہ وہ جزا و سزا کے فیصلے کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی چاہت ہے کہ میدان حشر میں ترازو ان کے ہاتھ میں ہو۔ یہ افراد بھول بیٹھے ہیں کہ وہ جس مذہبی بیانیہ کے نام پر دوسروں کے ایمان کی کوالٹی چیک کر رہے ہیں اسی بیانیہ کی رو سے خود ان افراد کی حقیقت یہ ہے کہ وہ ایسے عاجز بندے ہیں جنہیں اپنی خبر نہیں کہ مرنے کے بعد ان کا کیا بنے گا؟

مذہبی ہونا کوئی مسئلہ نہیں لیکن مذہب کا ایسا غلو خود اپنے لئے ہلاکت کا باعث ہو سکتا ہے جب بندہ مذہب کے نام پر مذہبی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے بندہ ہونے کی اپنی حیثیت بھول بیٹھے اور خدا کے اختیارات پانے کا طلب گار ہو جائے۔

Latest posts by مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 112 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply