جہانگیر ترین کی تحریک انصاف میں واپسی کا آسان فارمولا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


اخبارات میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق:

”دنیا میں موجود چاند کا پانچواں سب سے بڑا ٹکڑا نیلامی کے لیے پیش کر دیا گیا ہے۔“ خبر کے مطابق۔ ”لندن کے کرسٹیز ہاؤس میں موجود 13.5 کلو وزنی چاند کے اس نادر ونایاب ٹکڑے کی قیمت 2.5 ملین ڈالرہے یعنی پاکستانی کرنسی میں صرف 40 کروڑ روپے۔“

ہم چوں کہ بچپن ہی سے شاعر مزاج ٹھہرے سو یہ خبر پڑھ کر اور اس کے ساتھ ”چاند کے ٹکڑے“ کی شائع ہونے والی تصویر کو دیکھ کر ہمارا دل پارہ پارہ ہوگیا کہ یہ تو ان چٹانوں سے بھی بھدا ہے جن پر بچپن میں ہم غرض سے پھسلا کرتے تھے کہ ”سامنے والی کھڑکی میں اک چاند کا جو ٹکڑا رہتا ہے“ اس کی ایک جھلک دیکھ سکیں۔

محبوب کو چاند سے تشبیہ دینا ہمارے شعرا کا محبوب مشغلہ رہا ہے چاہے ان کا اپنا نام محبوب ظفر ہی کیوں نہ ہو۔ اب مجھ سمیت تمام شاعروں کو اپنی تشبیہات پر نظر ثانی کرنا پڑھے گی۔ ورنہ کوئی محبوب یہ کہہ کر شعر شاعر کے منہ پر مار سکتا ہے کہ ”میں اتنا بھی بھدا/بھدی نہیں۔“

تاہم حکمران جماعت کے ناراض رہنماؤں بالخصوص جہانگیر ترین کے لیے، جن سے خان صاحب چینی بحران کی وجہ سے ناراض ہیں، چاند کا یہ ٹکڑا بہت مبارک ثابت ہوسکتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر جہانگیر ترین چینی کی سبسڈی سے حاصل ہونے والے منافعے مبلغ پچپن کروڑ روپے میں سے صرف چالیس کروڑ روپے خرچ کر کے لندن میں ہونے والی نیلامی سے اسے خرید لیں اور اپنے جہاز میں لاد کر پاکستان لے آئیں تو وہ خان صاحب کو یہ جواز پیش کر سکتے ہیں کہ میں نے سبسڈی لی ہی اس لیے تھی تا کہ چاند کا یہ پانچواں سب سے بڑا ٹکڑا، جو ہمارے وزیراعلیٰ پنجاب، جناب عثمان بزدار کی طرح، دنیا بھر میں ایک نایاب چیز ہے، حکومت پاکستان کی ملکیت بنے۔

میرا قصور صرف اتنا ہے کہ میں نے لندن کے کرسٹیز ہاؤس میں موجود 13.5 کلو وزنی چاند کے اس ٹکڑے کی قیمت کا اندازہ لگانے میں تھوڑی غلطی کی ورنہ آپ تو جانتے ہیں کہ میں ”لین دین“ کے معاملے میں کبھی غلطی نہیں کرتا، خواہ وہ پیسے کا لین دین ہو یا کسی اور ”جنس“ کا اور ثبوت کے طور پر سینٹ کے انتخاب میں ہونے والے ”لین دین“ کے معاملے کو پورے دلائل کے ساتھ پیش کر سکتے ہیں۔ اگر خان صاحب پوچھیں کہ تم سے یہ غلطی کیسے سر زد وہوئی تو وہ سارا ”مدا“ اسد عمر پر ڈال سکتے ہیں کہ اسی نے میرے خلاف سازش کرتے ہوئے مجھے اس کی کم ازکم قیمت پچپن کروڑ روپے بتائی۔ ان کا دل مزید پسیجنے کے لیے وہ شاعری کا سہارا بھی لے سکتے ہیں مثلاًوہ قمر جلالوی کا یہ قطعہ جس میں ”قمر“ کو جفاؤں سے ”ہلال“ کرنے کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے، پیش کر سکتے ہیں :

مجھی پہ ختم سب اپنے کمال کر دو گے
یہی ستم ہیں تو کیا میرا حال کر دو گے
بڑھا بڑھا کے جفائیں جھکا ہی دو گے کمر
گھٹا گھٹا کے قمر کو ہلال کر دو گے
بہت ممکن ہے کہ عمران خان نہ صرف انھیں یہ کہہ کر کہ:
بچھڑ کے مجھ سے کبھی تو نے یہ بھی سوچا ہے
ادھورا چاند بھی کتنا اداس لگتا ہے

گلے لگا لیں بلکہ انھیں فوری طور پر ”ہلال امتیاز“ سے ”شہبانے“ کے احکامات جاری کردیں۔ ( ”نوازنے“ کا لفظ ہم نے اس لیے استعمال نہیں کیا کہ وہ نواز شریف سے بہت زیادہ چڑتے ہیں۔ شہباز شریف کا معاملہ تھوڑا مختلف ہے)

ایسی صورت میں سارا ”نزلہ“ اسد عمر پر آ گرے گا تاہم وہ یہ کہہ کر اپنی ”ناک سنیک“ سکتے ہیں کہ مذکورہ ”چاند کے ٹکڑے“ کی قیمت پچپن کروڑ ہی تھی صرف کرونا کی وبا اور ڈالر کی اڑان کے سبب اس کی قیمت گر گئی اور دلیل کے طور پر وہ ملک میں مہنگی ہونے والی اشیا اوربرطانیہ میں کرونا کے ”نزلے“ میں مبتلا ہونے والے مریضوں کی تعداد کے اعداد و شمار پیش کر سکتے ہیں۔ تاہم یہ دلیل تسلیم کرنا یا نہ کرنا خان صاحب کی صوابدید پر ہے کیوں کہ وہ وزیر اعظم پاکستان ہی نہیں تحریک انصاف کے چیئرمین بھی ہیں۔

چاند کا یہ ٹکڑا موصول ہونے کے بعد عمران خان اس حوالے سے ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے سکتے ہیں جو اس بات کا جائزہ لے کہ اسد عمر سے، جو دنیا کے مانے ہوئے ماہر معاشیات ہیں اور دنیا بھر کے کاروبار پر گہری نظر رکھتے ہیں، یہ غلطی کیوں کر سرزد ہوئی۔ اگر ثابت ہو جائے کہ اس معاملے میں اسد عمر غلطی پر ہیں تو اس معاملے کا فرانزک آڈٹ کرایا جا سکتا ہے جس کی رپورٹ آنے تک یہ حکومت اگلے ”پنج سالے“ میں سدھار چکی ہوگی اور نئے انتخابات کے وقت ضروری نہیں کہ جہانگیر ترین پی ٹی آئی کا حصہ ہوں۔

البتہ اسد عمر، خان صاحب کے ساتھ ہی ہوں گے ڈی چوک میں کنٹینر پر۔ جہاں عمران خان فرما رہے ہوں گے کہ اگر ن لیگ نے پاکستان کو ساتواں ایٹمی ملک بنایا تو ہم نے بھی اسے ایک ایسا ملک بنا دیا جس کے پاس ”چاند کا پانچواں سب سے بڑا ٹکڑا موجود ہے۔ اور یہ کسی بانکے شاعر کی بڑھک نہیں۔ یہ دیکھیے“ اور ساتھ ہی وہ اس کی باقاعدہ نمائش بھی کر کے اگلا الیکشن جیتنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply