مزدوروں کے عالمی دن کے موقع ہر ہمارا قوم سے خطاب

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آج بہت دنوں کے بعد لکھ رہی ہوں۔ اس طویل غیر حاضری کی معذرت قبول کیجئے۔ تین ہفتے پہلے ہی یو ٹیوب چینل کا آغاز کیا تھا اور وہی جنونی طبیعت اب بھی برقرار ہے۔ پہلے لکھتے ہوئے صفحے کالے کرتے تھے اور اب ویڈیو بناتے ہوئے فون کی میموری کا کلیجہ چھلنی کرتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عورتیں ایک وقت میں کئی کام کر لیتی ہیں۔ ہم بھی لکھتے ہوئے چولہے پر بریانی تو چڑھا سکتے ہیں لیکن بیک وقت دو تخلیقی میڈیم پر فوکس نہیں کر سکتے۔ آج ولاگ بنانے سے چھٹی لی ہے سو سوچا جھٹ آپ سے مل آئیں۔ امید ہے خیریت سے ہوں گے۔

خیر، آج کل خیر کی خبر کی امید کرنا بادل سے آگ برسانے کی آشا کرنے کے مترادف ہے۔ ہر طرف موت کا سایہ تو ہے ہی لیکن وجہ صرف کرونا کم بخت نہیں۔ بہت سے بیماری سے مر رہے ہیں تو اس سے کہیں زیادہ بھوک سے۔ آج یکم مئی ہے۔ کہنے کو یہ مزدوروں کا عالمی دن ہے لیکن ہم سوچ رہے ہیں کہ کیوں ہے۔ آج کل مزدوروں کے روز و شب جس طرح گزر رہے ہیں وہ آپ بھی جانتے ہیں اور ہم بھی۔ اب آپ کو ’آج کل‘ پر اعتراض ہو گا کہ بھئی باقی دنوں میں کون سی کھیر بٹتی رہی ہے۔ لیکن یہ بات تو مانئے کہ اس آفت سے مزدور طبقہ سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔

یہ وہی مزدور ہیں جو اس معیشت کو اپنے کاندھوں ہر اٹھائے کھڑے ہیں۔ پوری دنیا کی بلند و بالا عمارتیں، کئی بلین ڈالر پر بنی کارپوریشنیں، ہر قسم کا کاروبار سب کا بوجھ یہی مزدور اٹھائے ہوئے ہیں۔ یا یوں کہئے کہ اس معیشت کا ایندھن ہی یہ ہیں۔ صبح شام اس چکی میں پستے ہیں۔ پہلے سے امیر لوگوں کو مزید امیر بناتے ہیں اور ایک وقت آتا ہے کہ خود ہی خرچ یو جاتے ہیں۔

یہ بات ہم ہی کیوں بتائیں؟ آپ خود بھی سمجھ بوجھ رکھنے والے شہری ہیں۔ کیا آپ کے علم میں نہیں کہ آج کل کے حالات میں جب ہر طرف معیشت ڈھے رہی ہے ان دنوں میں مزدور سب سے زیادہ پس رہے ہیں؟ آپ بھی تو جانتے ہیں کہ ان کے استحصال کی رفتار چابی سے پھر تیز کر دی گئی ہے۔ پوری دنیا کی دولت پر قابض یہ سرمایہ دار طبقہ نہ صرف مزدوروں سے ان کی نوکریاں چھین رہا ہے بلکہ ان کو اس نہج پر لے آیا ہے کہ وہ دو وقت کی روزی کی خواہش میں خود کو موت کے منہ میں بٹھانے پر بھی تیار ہیں۔

پاکستان میں بہت سی ایسی فیکٹریاں ں ہیں جو آج بھی چل رہی ہیں۔ ان ہی فیکٹریوں نے نہ صرف اپنے کئی ملازمین کو یہ دم نوکریوں سے فارغ کیا بلکہ ان کے بقایا جات ادا کرنے سے بھی کنی کترا لی۔ وہ سیٹھ صاحبان جن کا شمار ملک کے امیر ترین افراد میں سے ہوتا ہے ان مزدوروں کو نکالتے ہوئے ان سے بھی غریب بننے کا ناٹک کرنے لگے ہیں۔

’بھئی، گروپ افورڈ نہیں کر سکتا۔‘

ٹیکسٹائل انڈسٹری کو پاکستانی صنعت کی ریڑھ کی ہڈی کہا جاتا ہے۔ اور یہیں مزدور کے ساتھ سب سے زیادہ زیادتی ہوتی ہے۔ کئی کئی مہینوں کی تنخواہیں تو پہلے بھی نہ ملتی تھیں۔ اب تو وہ کچی ڈور سی ڈھارس بھی گئی۔

میڈیا مالکان کی پالیسی ہمیشہ سے واضح رہی ہے۔ چھوٹے ورکر کا استحصال اور بس استحصال! ان کے ہاں نہ وقت پر تنخواہ ملنے کا رواج ہے اور نہ ہی نوکری سے نکالتے ہوئے کسی بھی قسم کا نوٹس دینے کا۔ بس بھیا، چلتے بنو۔ کل سے نوکری پر مت آنا۔

کنسٹرکشن انڈسٹری میں حالات مختلف ہیں کہ ہمارے فرمانروا نے اس کی بحالی کا حکم دے دیا ہے۔ لہذا کئی مزدور سر ہر اینٹیں اٹھائے یہ کام کرنے کو تیار ہیں۔ یہاں بھی ستم ظریفی دیکھئے کہ یہی مزدور نہ صرف خود کو کرونا وائرس کے شدید خطرے کے سامنے پیش کیے بیٹھے ہیں بلکہ اپنے سیٹھ صاحبان کے مشکور بھی ہیں۔ ان کی دولت میں مزید اضافہ کر رہے ہیں تاکہ صاحب پیسے کے اس ڈھیر پر ناگ کی طرح پھنا سکیں۔

خیر، کہاں تک سنو گے کہاں تک سنائیں۔ ۔ ۔ رام کی گنگا بہت میلی ہے۔ خدا نے آخرت میں انصاف کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن دھرتی کے خدا دنیا میں اس اصول کو کچلے جاتے ہیں۔

ارے، بات کہاں سے کہاں نکل گئی۔ مزدوروں کا عالمی دن تھا نا؟ قاعدے کے مطابق تو ہمیں مزدور کی عظمت پر ایک دھواں دار تقریر کرنی چاہیے تھی۔ نظام کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا عزم ظاہر کرنا چاہیے تھا۔ لیکن آپ اپنی امیدیں اپنے پاس ہی رکھئے۔ ہم ایسا کچھ نہیں کہیں گے۔

بس مزدور کو اس کی جائز تنخواہ وقت پر دے دیجئے۔ اس کو بھی اپنے جیسا انسان ہی سمجھئے۔ اپنی دولت کے ڈھیر سے اتر کر ذرا سانس لیجیے۔ اسے صدقہ ذکات نہیں بلکہ اس کے جائز حقوق دیجئے۔ ہو سکتا ہے روز قیامت خدا آپ کے حج اور عمرے سائیڈ پر رکھ دے اور صرف اپنی مخلوق کے استحصال پر سوال کرے۔
بس اتنی سی گزارش ہے۔ یہ عالمی دن اور بلند دعوے شوق سے اپنے پاس رکھئے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply