ووٹر کا بھی فارم ہونا چاہیے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ آپ نے اتنے بندے کہاں سے جمع کیے؟ میرے پاس اس بیہودہ سوال کا انتہائی معقول جواب تھا مگر مصلحت آڑے آ گئی اور میں نے غیر معقول جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”میں انہیں ذاتی طور پر جانتی ہوں اور ان کے معاشی ذرائع اور موجودہ مسائل سے کماحقہ واقف ہوں۔“ لاک ڈاؤن کے ان دنوں میں بدترین معاشی حالات سے نبردآزما یہ سفید پوش لوگ کسی سے کچھ کہہ بھی نہیں سکتے کہ خود داری ایسا کرنے سے روکتی ہے۔ بس ان کے مسائل کو محسوس کر کے آپ خاموشی سے ان کے لیے کچھ کر گزریں یہی انسانیت ہیں ورنہ مانگنے والے بہت زیادہ ہیں اور اپنے خود ساختہ مسائل کی داستان گوئی کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ بندہ تن کے کپڑے اتار کر بھی دے دے۔

کرونا وائرس نامی عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جب پاکستان کی صوبائی حکومتوں نے لاک ڈاؤن کرنے کا فیصلہ کیا تو اس سے کروڑوں افراد براہ راست متاثر ہوئے۔ دیہاڑی دار مزدور، رکشہ ڈرائیور، ٹھیلے والے، چھوٹے چھوٹے کام کرنے والے یہ کروڑوں لوگ ایک دم بھوک کا شکار ہو گئے۔ وجہ وہی کہ روز کمانا اور روز کھانا۔ دوسرے رکشہ ڈرائیور جو کسی طبی مسئلے کی وجہ سے صرف رکشہ چلاتے ہیں اور وہ بھی اساتذہ اور بچوں کو لے کر آنے جانے کے لیے، کے مسائل آپ کی اور میری سوچ سے بہت زیادہ ہیں۔ اگر وہ کرایہ کے مکانوں میں رہتے ہیں تو سمجھ لیں کہ یک نہ شد دو شد والا معاملہ ہے۔ کیونکہ لازم نہیں کہ مالک مکان امیر ہو، ہو سکتا ہے کہ اس کی گزر بسر بھی اسی کرایہ پر ہو۔

گھر کے کسی ایک فرد کی لگی بندھی آمدنی آ رہی ہے تو بندہ تین وقت کی جگہ دو وقت کھانا کھا کر ہنسی خوشی گزارا کر لیتا ہے۔ مڈل کلاس طبقہ کی مائیں بارہ بجے سے پہلے بچوں کو نہیں جگاتیں اور یوں ناشتہ کی بچت کرتے ہوئے دوپہر کا کھانا اور پھر رات کا کھانا کھا کر وقت گزارتی ہیں۔ یہ مڈل کلاس کی مائیں بڑی سیانی ہوتی ہیں، چائے کا کپ اور رات کی بچی ہوئی روٹی کا ایک ٹکڑا ان کا ناشتہ ہو جاتا ہے اور چائے بھی ایسی جس میں دودھ صرف ہیلو ہائے کرتا ہے مکمل سلام کرنے کی نوبت تو بہت کم آتی ہے۔

لاک ڈاؤن کے دنوں میں، میں بھی اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ اپنے ارد گرد آباد ایسے ہی خاندانوں کے لیے ریلیف سپورٹ پروگرام کو بنیاد بنا کر میدان عمل میں آئی۔ ہم سب کوئی لاکھوں کی آمدنی والے لوگ نہیں ہیں، ہمارا اپنا رزق ہمارے کام سے مشروط ہے، کام آیا تو مال آیا ورنہ بہن بھائیوں کی جیبوں پر شب خون مار لیتے ہیں۔ ایک لکھاری کی زندگی بہت محدود ہوتی ہے اکثر و بیشتر بہت ساری ضروریات سے ماورا۔ اس کی خوراک اس کے لفظ ہیں جو آسمان سے متواتر اترتے ہیں تو وہ خوشحال رہتا ہے اگر بارش نہ ہو اس کی روح کی ویرانیوں کا کہیں ٹھکانہ نہیں۔

خیر ہم دوست آگے بڑھے اور اپنی سوشل میڈیا وال کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا شروع کیا اور پھر کم از کم میں نے انسان کے روپ میں خدا کا دیدار کیا۔ اس کے بعد بھی جب جب ہم نے ان سے مدد کی درخواست کی انہوں نے لبیک کہتے ہوئے حامی بھری اور ہم محدود سہی مگر اپنا کردار ادا کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔ مجھے سلفیاں لینے کا شوق ہے مگر آٹے کا تھیلا پکڑاتے ہوئے کسی بے بس کے ساتھ تصویر لینا اس سے زیادہ شاید میری اپنی توہین ہے کیونکہ مجھے شہرت کے لیے اس قسم کی سلفیوں اور تصاویر کی ضرورت نہیں۔ اس کے لیے میرا کام ہی کافی ہے۔

بغیر کسی تشہیر چوبیس مارچ سے اب تک کم از کم ایک ہزار افراد تک لاک ڈاؤن ریلیف سپورٹ پروگرام کے تحت راشن، میڈیسن اور مالی معاونت فراہم کر چکے ہیں اور اس مقصد کے لیے نہ فارم فل ہوئے اور نہ ہی آئی ڈی کارڈ کی کاپیاں وصول کیں، کیونکہ ہم کسی سیاسی ایجنڈے پر کام نہیں کر رہے اور نہ ہی ہمارا ایسا کوئی ارادہ ہے۔ یہ ایک چھوٹی سی سماجی خدمت ہے کہ ہمیں شکوہ ظلمت شب کی عادت نہیں، ہم چراغ جلانے کے قائل ہیں اور اللہ کی رضا کے ساتھ، اس کی رضا کے حصول کے لیے یہ چراغ جلاتے رہیں گے۔ لاہور کے علاوہ کراچی کی کچی بستی تک میں اللہ کے نیک بندوں کی مدد سے یہ خاموش ریلیف جاری ہے۔

کام جاری تھا کہ ایک دوست نے کہا کہ ایک اہم سیاست دان کی جانب سے امداد فراہم کی جا رہی ہے اور جب تک کرونا وائرس کی وبا ٹل نہیں جاتی تب تک ہر ماہ مستحق افراد کو چار ہزار روپے ماہانہ فراہم کیے جائیں گے۔ تاہم ان کا ایک فارم فل کروا کے جمع کرانا ہو گا۔ مجھے لگا کہ دس خاندانوں تک اگلے دو تین ماہ تک ریگولر ریلیف پہنچی تو کم از کم ان کا راشن آ جایا کرے گا۔ میں نے آپشن استعمال کرنے کا فیصلہ کیا اور اپنے رکشہ ڈرائیور کے ساتھ خود جا کر فارم ریسو کر کے فیملیز کو پہنچائے۔ شام تک فارم فل ہو کر میرے پاس آ گئے اور اگلے دن میں جا کر فارم اسی آفس میں اکاؤنٹنٹ کے پاس جمع کرا آئی جس نے پوچھا تھا کہ آپ نے یہ بندے کہاں سے جمع کیے۔ اس کارروائی کو تین دن ہو چکے ہیں مگر امداد ندارد۔ جب کہ موصوف کا دعویٰ ہے کہ چار ہزار خاندانوں تک امداد فراہم کر چکے ہیں۔

تب سے میں ایک ہی بات سوچ رہی کہ یہ سیاسی جماعتیں جب ووٹ مانگنے جاتی ہیں تو ووٹرز کو سوائے بڑے بڑے دعوؤں کے کچھ اور دے کر نہیں آتیں تاہم اب ووٹروں کا بھی ایک فارم ہونا چاہیے جو سیاست دانوں کو اسی دیانتداری سے پر کرنا چاہیے جس کی توقع وہ چار ہزار کی رقم کی امداد دیتے ہوئے ووٹرز سے کرتے ہیں۔ فارم میں مندرجہ ذیل سوالات ضرور ہونے چاہئیں۔

آف شور کمپنیوں کی تعداد
آف شور بیویوں اور بچوں کی تعداد
ذرائع آمدن حلال ہیں یا حرام

ایک اہم سوال یہ بھی ہو کہ جب آپ کی اتنی آمدنی ہے تو پھر ہمارے ٹیکسوں سے لاکھوں کی تنخواہیں اور مراعات کیوں وصول کرتے ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔ بطور ووٹر میرا یہ بنیادی حق ہے کہ جو شخص میرا نمائندہ بن کر اسمبلی میں جائے مجھے اس کے بارے میں مکمل معلومات حاصل ہوں۔ وبا کے دنوں میں چار ہزار کے فارم فل کروانے کے بعد ضرورت مند کو انتظار کی سولی پر لٹکانے والے سیاستدانوں سے یہ مطالبہ پہلے ہاتھ بنتا ہے اور ہم جیسے خاموش مدد گاروں کی عزت نفس مجروح کرنے والوں کو اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی چاہیے۔ اس شخص کا انداز ایسے تھا کہ یہ فارم جن لوگوں نے فل کیے ہیں وہ جعلی ہیں، یا انہیں کسی قسم کا لالچ دیا گیا ہے اور ہم نے اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔

ارے ظالمو، ہمیں ضرورت پڑی تو دوستو سے براہ راست مانگ لیں گے۔ وہ صحافی اور کالم نگار اور ہیں جن کے بچوں کے پمپر سے لے کر بیگم کے پیڈ تک تم فراہم کرتے ہو وہ بھی صرف اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے۔ یہ ایک انتہائی تکلیف دہ صورتحال ہے کیونکہ جن سے فارم پر کرا کر جمع کروائے گئے ہیں وہ اب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں کہ باجی کیا بنا، بھیا کیا بنا؟ مجھے لگتا ہے مجھ سے غلطی ہو گئی ہے مجھے وقت کے ان فرعونوں سے مدد نہیں لینی چاہیے تھی۔ اگرچہ اپنے لیے نہیں لی مگر نام تو میرا گیا ہے آگے، لوگوں کے پاس۔ آپ کا کیا ہے آپ لوگ تو باتوں سے وعدوں سے مکرنے کے عادی ہیں۔ آپ کا کچھ نہیں جانا، بگڑنا تو ہمارا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ایک بندہ آئے گا، دونوں میاں بیوی کے دستخط کے گا اور پھر رقم دے گا۔ میں نے یہ شرط بھی مان لی اگرچہ اس میں پردہ دار خواتین بھی شامل ہیں اور سفید پوش مرد بھی جو اپنے گھر والوں کے آگے اپنا بھرم قائم رکھے ہوئے ہیں۔ وبا کے دنوں میں مفاد پرست ٹولے سفید پوش خاندانوں کا بھرم بھی نگل رہے ہیں۔ خدا ہمیں ایسی آزمائشوں سے محفوظ رکھ جو ہماری عزت نفس کو کچل دے اور احساس سے عاری لوگوں کا محتاج کرے۔ آمین۔ تاہم میں یہاں پر وبا کے ان دنوں کو اہم قرار گی جو ہمیں مستقبل کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے کا شعور دے کر جائے گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *