غازی ارطغرل کی پاکستان میں مقبولیت



ترکش ڈرامہ ”غازی ارطغرل“ سلطنت عثمانیہ پر مبنی یہ سیریز جو پانچ سیزن پر مشتمل ہے۔ جسے مسلم دنیا کا سافٹ بم بھی کہا گیا۔ اور جس کا موازنہ گیم اوو تھرونز کے ساتھ بھی کیا گیا۔ پوری آب و تاب کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کے بعد اس وقت پاکستان میں پورے عروج پر ہے۔ غازی ارطغرل جس کے شائقین پوری دینا میں بالعموم اور مسلم دنیا میں بالخصوص پائے جاتے ہیں۔ جس کے شائقین میں مسلم دنیا کے حکمران اور پاکستان کے وزیراعظم عمران خان بھی شامل ہیں۔

نوجوان پاکستان بھی آج کل اس سیریز کے سحر میں پوری طرح ڈوبے نظر آتے ہیں۔ پاکستان میں اس کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگا لیجیے کہ پی ٹی وی پر اس ڈرامے کی پہلی قسط کی نشر کے ساتھ ہی اس کی ٹی آر پی میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ”ارطغرل اردو پی ٹی وی“ پانچ گھنٹے تک ٹیوٹر پر ٹاپ ٹرینڈ رہا۔ یوٹیوب جسے مستقبل کا جدید ٹی وی پلیٹ فارم کہا جاتا ہے اس پر واضح طور پر پی ٹی وی کے 40,000 سبسکرائبرز کا حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا۔ ابتدائی 16 گھنٹوں میں یہ ڈرامہ 2,34,000 ویوز حاصل کرچکا تھا۔

جب آپ اس ڈرامے کی پہلی قسط دیکھنا شروع کرتے ہیں تو اس کے پہلے منظر کے ساتھ ہی خود کو اس کا حصہ تصور کرتے ہیں۔ ڈرامہ دیکھتے ہوئے کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہوتا بلکہ جیسے جیسے یہ آگے بڑھتا ہے آپ اس کے ساتھ ساتھ دریا کی مانند بہتے چلے جاتے ہیں۔ یہ آپ کے اندر تجسس پیدا کرنا شروع کردیتا ہے اور آپ اس کے کرداروں میں کھو جاتے ہیں۔ ڈرامے کے ہر فرد نے اپنا کردار اتنی بخوبی سے نبھایا ہے کہ آپ کی ہمدردی ڈرامے کے کرداروں کے ساتھ بڑھتی چلی جاتی ہے۔

آپ ان کی خوشی میں خوش اور غم میں غمگین ہوجاتے ہیں۔ اور اس کے منفی کرداروں سے ناپسندیدگی بڑھتی چلی جاتی ہے۔ ارطغرل غازی میں آپ اچھائی برائی میں تمیز سیکھتے ہیں، ملک و قوم کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہیں، آستین میں چھپے سانپوں سے روشناس ہوتے ہیں، آپ اس تجربے سے بھی گزرتے ہیں کہ مشکل میں کس طرح خیر خواہ دکھنے والے منافقت کا رنگ دکھاتے ہیں اور کس طرح اپنے عزیز مشکل وقت میں دلعزیز بن جاتے ہیں۔ اس ڈرامے پر جتنا لکھا جائے کم لگتا ہے۔ اور مزید اس بارے میں بتا کر میں ان لوگوں کا وقت برباد نہیں کروں گا جو اسے دیکھ رہے ہیں یا دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

ترکی میں یہ ڈرامہ پہلی بار 10 دسمبر 2014 کو نشر کیا گیا اور اس کی مقبولیت اس کی اقساط کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔ اور دیکھتے ہیں دیکھے اس نے نا صرف ترکی بلکہ مشرق وسطی کو بھی اپنا گرویدہ کر لیا۔ اور اس کی شہرت کے ڈنکے یورپ میں بھی سنائی دیے۔ دنیا بھر کے 100 سے زائد ممالک میں کئی زبانوں میں ڈبنگ کے ساتھ یہ سیزن نشر کیا گیا ہے۔ اور داد و تحسین کا حقدار ٹھہرا ہے۔ جہاں اتنا سب اچھا ہے تو وہیں کچھ مسلم ممالک میں اس پر پابندی بھی عائد کئی گئی ہے جس میں مصر، متحدہ عرب امارات اور مصر قابل ذکر ہیں۔

اور اس کی مقبولیت و پابندی سے قطع نظر یہ ڈرامہ ہر لحاظ سے ناظرین کی توقعات پر پورا اترنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔ اس میں ایکشن بھی ہے، ایڈوینچر بھی ہے، تاریخ بھی ہے، جنگ بھی ہے اور ڈرامہ بھی ہے۔ یہ ایک پورا پیکج ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ جس نے بھی اسے دیکھا اسی کا ہو کر رہ گیا۔ پاکستان میں یہ ڈرامہ وزیر اعظم کی درخواست پر نشر کیا گیا ہے۔ مقصد نوجوانوں کو اسلامی اقدار وتاریخ سے روشناس کرانا بتایا گیا ہے۔ اس مقصد میں وہ کس حد تک کامیاب ہوں گے اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

Facebook Comments HS