لٹو تے پھٹو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پوری دنیا میں تقریباً تمام بڑے ڈیپارٹمنٹل سٹورز اپنے پرانے مال کو بیچنے کے لیے لوٹ سیل کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔ جس سے مال سستا یا ڈسکاونٹ پر مل جاتا ہے۔ جبکہ امریکہ میں تو لوٹ سیل یا بلیک فرائیڈے سے مراد یوم شکرانہ ہے جو کہ (نومبر کی چوتھی جمعرات) کے بعد آنے والا جمعہ ہے۔ بلیک فرائیڈے کو اگرچہ سرکاری تعطیل نہیں ہوتی، تاہم کیلیفورنیا اور بعض دیگر ریاستوں میں سرکاری ملازمین کسی دوسری وفاقی تعطیل (مثلاً یوم کولمبس) کے بدلے ”یومِ شکرانہ سے اگلا دن“ چھٹی کے طور پر مناتے ہیں۔

لوگ خوب خریداری کرتے ہیں۔ اور بعض سٹورز میں تو اتنی افراتفری ہوتی ہے کہ لگتا ہے جیسے مال مفت میں مل رہا ہو۔ حالت یہ ہوجاتی ہے کہ امریکا کے مختلف اسٹورز میں سالانہ سیل میں شہری ٹوٹ پڑتے ہیں اور افراتفری مچ جاتی ہے۔ کچھ عرصہ قبل لاہور کے ایک شاپنگ مال نے بڑے برانڈز کی سیل لگائی تو خواتین کا اتنا رش لگا اور ایسی چھینا چھپٹی ہوئی کہ نسبتاً امیر اور اچھے گھرانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین کی مضحکہ خیز تصاویر سوشل میڈیا کی زینت بنیں۔

چونکہ بلیک فرائیڈے کے موقع پرعوام کی بھرمار کے سبب امریکی سپر اسٹورز میں دھکم پیل، لوٹ مار اور مار دھاڑ کے واقعات پیش آتے ہیں، جس کے سبب اسٹور مالکان پریشانی کا شکار رہتے ہیں۔ کچھ یہی صورتحال دیکھتے ہوئے بلوچستان کو بھی ڈیپارٹمنٹل سٹور کہا جا سکتا ہے۔ جہاں برانڈ کی چیزیں تو البتہ نہیں ملتیں لیکن حکومتی ٹھیکے، ترقیاتی کام من پسند لوگوں کروانا، حکومتی سطح پر صوبے کے مفادات کو نقصان پہچانا، سرکاری نوکریوں کی فروخت وغیر ہ صرف بلیک فرائیڈے کو نہیں بلکہ ہر وقت لوٹ سیل پر مل جاتے ہیں۔

شہر میں ہر شحص کے زبان پر ہے کہ یہاں کوئی قانون ہے؟ کہ یہاں بلیک فرائیڈے کی غرض سے لاہور سے آئے ہوئے شخص نے سی سی ٹی وی کیمروں کے باجود اس لوٹ سیل کے مرکزی دکان کوئٹہ میں لوٹ مار مچارکھی ہے اور کسی کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے پورے شہر کے صیح سلامت روڈ توڑ کر دوبارہ تعمیر کرنا شروع کردئے ہیں۔ اور فٹ پاتھ کا کاروبار شروع کر رکھا ہے 25 ارب روپے کی خطیر رقم کے اس پروجیکٹ میں جس کی سربراہی سپریم کورٹ کے احکامات کو نظر انداز کرتے ہوئے کمشنر کوئٹہ ڈویژن کو بطور پروجیکٹ ڈائریکٹر دی گئی ہے اگر 25 ارب روپے کے نوٹ کوئٹہ میں بچھائے جائیں تو بھی کچھ بچ جائیں گے خلاف قانون موجودہ صوبائی حکومت کے اس بلیک فرائیڈے میں جہاں دیگر شبعوں میں لوٹ مار لگی ہے وہیں پر صوبائی حکومت نے ملک کی اعلی عدالت سپریم کورٹ کے فیصلے کی نفی کرتے ہوئے یا یوں کہنا مناسب ہو گا کہ توہین کرتے ہوئے ایک نان کیڈر افسر کو سیکریٹری ایس اینڈ جی اے ڈی تعینات کر دیا۔

معاملہ عدالت عالیہ تک پہنچا۔ حکومت نے پوری کوشش کی کہ معاملے کو طول دیا جا سکے جس میں وہ کسی حد تک کامیاب بھی رہی۔ آخر کار حکومت کو بتانا پڑا کہ مذکورہ سیکریٹری کے علاوہ بھی مزید تین نان کیڈر افسر کیڈر پوسٹوں پر تعینات ہیں۔ جب عدالت عالیہ نے طاقتور سیکریٹری کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا تو موصوف نے فوراً چارج چھوڑنے کا نوٹیفکیشن پیش کر دیا۔ اس سے ایک بات تو عیاں ہوئی کہ حکومت کے پاس اس تعیناتی کو ڈیفینڈ کرنے کے لیے کوئی دلیل نہیں تھی۔

اور یہ سب کچھ جان بوجھ کر کیا گیا۔ اب دیکھیں عدالت عالیہ ان ذمے داروں کے بارے میں کیا حکم صادر کرتی ہے۔ کیونکہ یہ غیر قانونی تعیناتی غلطی سے نہیں بلکہ جان بوجھ کر کی گئی۔ مگر لوٹ سیل یہاں ختم نہیں ہوئی۔ سٹورز تو مخصوص مدت کے لیے لوٹ سیل کا بورڈ لگاتے ہیں۔ لیکن بلوچستان میں تو سارا سال بلکہ ہر وقت لوٹ سیل لگی رہتی ہے۔ جام صاحب کو اس طاقتور اور متوازی حکومت صوبے میں قائم کرنے والے بیوروکریٹ سے نہ جانے اتنا پیار ہے یا وہ بلیک میل ہے کہ اسے فوراغیر قانونی طور پر چیئر مین بلوچستان ریونیو اتھارٹی تعینات کر دیا۔ جس کی ماہانہ تنخواہ 9 لاکھ روپے ہے۔ اس پوسٹ پر تعیناتی کے لیے بلوچستان اسمبلی سے پاس کردہ قانون کے مطابق چند شرائط ہیں جیسے یہ پوسٹ ایڈورٹائز ہونا ضروری ہے پھر ایک کمیٹی درخوست گزاروں میں مقابلے کے بعد سب سے بہتر امیدوار کا انتخاب کرے گی۔ منتخب کردہ چیئر مین کی عمر 40 سال سے زائد اور بلوچستان کا لوکل / ڈومیسائل ہونا بھی لازمی ہے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سی شرائط ہیں۔ جن میں سے کوئی پوری نہیں کی گئی۔

بچپن میں ہم نے ایک مثال سنی تھی کہ کبڑے کو کسی نے لات ماری تو اس کا کبڑا پن ختم ہو گیا۔ جام شاہی نے بھی اس افسر کو 3 لاکھ ماہانہ تنخواہ کی بجائے 9 لاکھ تنخواہ پر رکھ لیا۔ اور یہ پیغام دیا گیا کہ جو کرنا ہے کرلو ہم نے اپنی نوکریوں کی لوٹ سیل میں سے اس کو ہر صورت مستفید کرنا ہے۔ باقی نان کیڈر افسر ز کا تو کسی نے پوچھا ہی نہیں اور وہ بدستور اپنی پوسٹینگ کو انجوائے کر رہے ہیں۔ جام شاہی میں نے اس لیے کہا ہے کہ شاہوں کے دور میں قانون ضابطے کوئی اہمیت نہیں رکھتے انہیں احتساب کا کوئی ڈر یا خوف نہیں ہوتا۔ جبکہ جمہوریت میں یہ سب ممکن نہیں لگتا ہے اس دور میں احتساب والے، کنٹرول کرنے والے اور کنٹرول ہونے والے سب مل گئے ہیں۔ اب عدالت سے کچھ امید باقی ہے۔ اللہ یہ امید نہ توڑے۔ ورنہ تو اللہ اللہ خیر صلا یہاں پنجابی زبان کے محاورے ”لٹو تے پھٹو“ والا فارمولا کام کر رہا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply