یوم مزدور اورحکومت کی مزدور پروری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وزیراعظم عمران خان نے یوم مئی کے حوالے سے دیے گئے اپنے پیغام میں کہا ہے کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں مزدور کا کردار بہت اہم ہوتا ہے۔

”ان کا کہنا تھا کہ جن ممالک میں مزدور کم ہو جاتے ہیں وہاں معاشی ترقی کا عمل سست پڑ جاتا ہے اگر پچھلی حکومتیں اس سلسلے میں بروقت اقدامات کرتیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو مزدورپیشہ بنانے کی طرف توجہ دیتیں تو یہ ملک کب کا ترقی کر چکا ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری شروع ہی سے کوشش رہی ہے کہ بے روزگاری میں اضافہ ہو اور ایم اے پاس لوگ بھی مزدوری کی راغب ہوں تاکہ ملک زیادہ سے زیادہ ترقی کر سکے اور ہم اس مقصد میں بہت حد تک کامیاب ہو چکے ہیں جس کی گواہی ہمارے مخالف سیاست دان اور ٹی وی چینل بھی دے رہے ہیں۔“

عالمی یوم مزدور پر اپنے پیغام میں وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید نے کہا کہ اب صرف یکم مئی ہی نہیں بلکہ ہر دن ’مزدور کا دن‘ ہے۔

”ان کا کہنا تھا کہ صرف یکم مئی کو یوم مزدور منانا اب قصہ پارینہ ہو چکا ہے کیوں کہ یہ روایت اس فرسودہ دور کی یادگار ہے جب مزدور بہت کم تھے۔ جب سے ہماری حکومت آئی ہے ہمارے وزیر اعظم کے اقدامات سے مزدوروں کی تعداد میں بے تحاشا اضافہ ہوا ہے اور کرونا بھی ہمارے لیے اس حوالے سے بہت مبارک ثابت ہوا ہے۔ جب تک ہماری حکومت ہے ہر دن مزدور ہی کا دن رہے گا اور اگرمزدوروں کی تعداد اسی طرح بڑھتی رہی تو ہم“ شبِ مزدور ”کا اہتمام کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام مزدور اطمینان رکھیں ان کی حالت کم از کم ہمارے دور حکومت میں ہر گز نہیں بدلے گی اور وہ مزدور کے مرتبہ ء بلند پر بدستورفائز رہیں گے تاکہ ہم ان کی بھلائی کے لیے کام کرسکیں۔ انھوں نے کہا کہ جوں ہی کوئی مزدور، رتبہ ء مزدور سے گرتا ہے وہ فوراً طبقہ اشرافیہ میں شامل ہو جاتا ہے اور ہماری طرح یوم مزدور پر آکر تقریریں جھاڑنا شروع کر دیتا ہے جس سے بہت سے سماجی، سیاسی، نفسیاتی معاشرتی، معاشی اور مابعدالطبیعیاتی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔

لہٰذاہماری کابینہ نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا ہے کہ وہ تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں جن کے ذریعے مزدور، مزدور ہی رہے۔ جس دن کوئی مزدور طبقہ اشرافیہ میں شامل ہو گا۔ اس کا انجام نواز شریف، مریم نواز، آصف علی زرداری، رانا ثناءاللہ اور اس قبیل کے دوسرے لوگوں جیسا ہوگا۔ انھوں نے کہا کہ اگر میاں محمد شریف لوہے کی بھٹی سے ترقی کرتے کرتے ملیں نہ لگاتے اور میاں محمد نواز شریف آج بھی بھٹی پر کام کر رہے ہوتے اور آصف علی زرداری سینما کے ٹکٹ بلیک کر رہے ہوتے آج اس انجام سے دوچار نہ ہوتے۔

پنجاب کے وزیرِ اعلیٰ سردار عثمان بزدار کا کہنا تھ کہ کورونا وائرس کی وباکے پیشِ نظر محنت کشوں کا عالمی دن سادگی سے منا رہے ہیں۔

” ان کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان کو سادگی بہت پسند یہاں تک کہ ان کا پسندیدہ گانا بھی“ تیری صورت پہ نہیں ہم تیری سادگی پہ مرتے ہیں ”ہے۔ انھوں نے حاضرین کو یہ گانا بھی گنگنا کر سنا ہے اور کہا کہ ہماری بھابھی اور خاتون اول بشریٰ بی بی بھی بہت سادہ مزاج خاتون ہیں اور اسی سادہ مزاجی نے انھیں خاتون اول کے درجے پر فائز کیا۔ بالکل ایسے ہی جیسے مجھے میری سادگی نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیراعلیٰ کے منصب پر فائز کیا۔ اگر ریحام خان کو ذرا سی بھی عقل ہوتی تو وہ شادی ہوتے ہی برقع اوڑھ لیتیں اور آج خاتون اول کے درجے پر فائز ہوتیں۔

اپنے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ میں شروع ہی سے سادگی شعار کیے ہوئے تھا ورنہ میری ایسی صورت کہاں جس پر عمران خان لٹو ہو جائیں۔ اگر علیم خان میری طرح سادگی اختیار کرتے تو میری جگہ بیٹھے ہوتے اورآج وزیراعلیٰ بننے کے لیے درپردہ رانا ثناء اللہ سے رابطے میں نہ ہوتے۔ انھوں نے کہا کہ میں اتنا سادہ مزاج تھا کہ مجھے پتا ہی نہیں چلا اور جہانگیر ترین نے سبسڈی کی فائل پر مجھ سے دستخط کرا لیے اور یہ بھی میری سادگی ہی کی بدولت ہوا کہ عمران خان نے مجھے اس معاملے سے مکھن کے بال کی طرح نکال لیا۔ لہٰذا یوم مزدور سادگی سے منانا میرے ”منصب“ کا تقاضا ہے جسے میں پوری طرح نبھا رہا ہوں۔

ادھر سندھ حکومت کے ترجمان مشیر قانون، ماحولیات و ساحلی ترقی بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور سندھ حکومت مزدوروں کی عظمت کو سلام پیش کرتی ہے۔ ”اور جب تک بھٹو کا نام رہے گا مزدور بھی رہے اور ہم مزدوروں کی عظمت کو یوں ہی سلام کرتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھٹو کا نام زندہ رہنا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کی شہرت میں اضافہ ہونا، اس بات کا ثبوت ہے کہ مزدوروں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

یوم مئی کے حوالے سے حکومتی بیانوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ حکومت یہ بھول رہی ہے کہ مزدوروں کی تعدادبڑھانے میں ہماری حکومتوں کا بھی ہاتھ ہے۔ خاص کر 2008ء میں بننے والی پپلز پارٹی کی حکومت نے کئی ایسے نئے اقدامات کیے، جس سے مزدوروں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوا۔ جس کا کریڈٹ خان صاحب کی حکومت لینے کی کوشش کر رہی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply