2018ء میں شہبازشریف فیورٹ تھے، کابینہ کے افراد بھی سلیکٹ ہو چکے تھے: عارف نظامی
سینئر تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہبازشریف سمجھتے ہیں کہ ان کے وزیراعظم بننے میں رکاوٹ مسلم لیگ ن کا بیانیہ تھا۔ سہیل وڑائچ نے کہا کہ عمران خان اور اسٹبلشمنٹ کے درمیان کوئی ایسی چیز نہیں تھی کہ تضاد ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک کے اداروں کے ساتھ جھگڑ کر ملک کا نظام نہیں چل سکتا۔ ہمارے سامنے کی بات ہے کہ نوازشریف کے بیانیہ کے خلاف مختلف ادارے کھڑے ہوئے اور انہیں آؤٹ کر دیا گیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے عارف نظامی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف کس منہ سے عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہیں جبکہ وہ خود بھی سلیکٹ ہونے کیلئے تیار ہیں۔ عارف نظامی نے کہا کہ 2018ء میں شہبازشریف فیورٹ تھے، یہاں تک کہ کابینہ کے افراد بھی طے ہو چکے تھے۔
Facebook Comments HS


