ہرڈ امیونٹی: پاکستان میں کرونا سے کتنی اموات کا امکان ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

 جنرل آف دی امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن میں چھپنے والی ایک تحقیق کے مطابق، پچھلے ایک ماہ میں نیویارک کے ہسپتالوں میں کورونا کی بیماری کے باعث داخل ہونے والے 5700 افراد جن میں کورونا کے علاوہ کوئی اور بیماری موجود نہیں تھی اور ان کی عمر 45 سال سے کم تھی، ایسے افراد میں اموات کا تناسب اعشاریہ دو فی صد رہا۔ یہی تناسب اٹلی میں اس بیماری سے ہلاک ہونے والے افراد، جن کی عمر 40 سال سے کم تھی، میں دیکھا گیا ہے۔

اٹلی میں ہی چالیس سے پچاس سال کی عمر کے افراد میں یہی تناسب بڑھ کر اعشاریہ نو فی صد تک پہنچ جاتا ہے۔ پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ہماری آبادی کا 64 فیصد 29 سال یا اس سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔ 45 سال سے کم عمر افراد کی تعداد 86 فی صد اور 50 سال یا اس سے کم عمر افراد کا تناسب 90 فی صد ہے۔ اس طرح صرف 10 فی صد افراد 50 سال سے زائد عمر کے موجود ہیں لگتا ہے کہ پاکستان میں کورونا کی وبا سے ہسپتالوں میں داخل ہونے والے مریضوں کی تعداد شاید اسی وجہ سے کم ہے۔

ہمارے ملک میں لاک ڈاؤن تقریباً ناکام ہو چکا ہے۔ ہماری کمزور معیشت مزید پابندیوں کا سامنا کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ رمضان اور عید کی وجہ سے عوام بازاروں اور مساجد کی طرف دوڑ پڑے ہیں۔ تاجر حضرات کو بھی اب مزید دکانیں بند رکھنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ( حکومت کی ناکامی ) ۔ وفاقی حکومت اور خصوصی طور پر وزیراعظم لاک ڈاؤن کے سخت مخالف ہیں ۔ اسی وجہ سے ماسوائے کراچی، ملک میں اور کہیں بھی اس پر صحیح طرح عمل درآمد نہیں ہو سکا۔

اس طرح ہم نے اس وبا پر قابو پانے کا سنہری موقع ( پہلا مہینہ) کھو دیا ہے۔ ان حالات میں لگتاہے کہ ہم نے بھی سویڈن کی مثال کی پیروی کرتے ہوئے herd immunity اجتماعی قوت مدافعت ”کے حصول پر نظریں جمالی ہیں۔ عمران خاں صا حب پہلے دن سے ہی بلا کہے اسی طریقہ کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ اسی اجتماعی قوت مدافعت کے بارے میں برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا تھا کہ اگر ہم نے کورونا پراس بار قابو پا بھی لیا تو ممکن ہے کہ اگلے سال سردیوں میں یہ زیادہ طاقتور شکل میں واپس آئے گا۔

اگر اس بار ہماری 60 فی صد آبادی کورونا کا شکار ہو جائے تو ہم اس سے محفوظ ہو جائیں گے۔ اب ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے سکول، کالج اور دوسرے تمام ادارے کھول دیں ۔ 50 سال سے زائد عمر کے افراد جن کی تعداد صرف 10 فیصد ہے ان پر پابندیاں لگائیں۔ ان کو نوکری اور کام سے چھٹیاں دے دیں۔ ان کو قرنطینہ میں بٹھا دیں۔ پچاس سے ساٹھ سال کی عمر میں صرف 6 فیصد لوگ آتے ہیں۔ جن میں آدھی سے زائد تعداد خوا تین کی ہے جو پہلے ہی گھروں تک محدود ہو تی ہیں۔

لیکن تین فی صد سے کم مرد وں کی تعداد بھی 66 لاکھ بنتی ہے۔ ان میں کچھ عورتیں بھی شامل کر لی جائیں تو کم و بیش 70 لاکھ افراد۔ یہی لوگ ملک کو چلانے والے ہوتے ہیں۔ اس معاملہ میں سب سے بڑا مسئلہ بھی یہی در پیش ہوگا کہ اکثر اداروں کے سربراہ پچاس سال سے زائد عمر کے ہیں۔ اگر وہ کام کرنا چاہتے ہیں یا پھر ا ن کے بغیر کام ناممکن ہے تو ان کو خصوصی حفاظتی ماحول اور لباس مہیا کر دیے جائیں۔ لیکن کچھ اہم سوال پھر بھی بچ جاتے ہیں۔

کیا ویکسین کے بغیر اجتماعی قوت مدافعت کا حصول خاطر خواہ نتائج دے سکے گا؟ یہ ایک ٹیکنیکل سوال ہے جس کا جواب طب کے ماہرین ہی دے سکتے ہیں۔ اجتماعی قوت مدافعت کے حصول تک کتنا نقصان ہو سکتا ہے؟ برطانوی وزیر اعظم نے پہلے اس کی بات کی لیکن پھر نقصان دیکھ کر گھٹنے ٹیک دیے۔ اگر چہ اس ملک میں بوڑھوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے نقصان زیادہ ہو رہا ہے۔ پندرہ سال سے 40 سال سے کی عمر کے درمیان افراد کی تعداد کل آبادی کا تقریباً 43 اعشاریہ 4 فیصد ہے جوکہ ساڑھے نو کروڑ بنتی ہے۔

اجتماعی قوت مدافعت کے حصول کے لئے ان میں سے اگر 60 فیصد کو (تقریباً ً پانچ کروڑ 73 لاکھ ) کورونا سے متاثر ہونا پڑے گا۔ ان کا اعشاریہ 2 فی صد تقریبا ایک لاکھ 15 ہزار بنتا ہے۔ جو کہ کم سے کم اموات کی تعداد ہے۔ کیا ہم اتنے جوانوں ( 15۔ 40 سال ) کا نقصان برداشت کر سکیں گے؟ چالیس سے پچاس سال کی عمر کے افراد کی تعداد پونے دو کروڑ ہے۔ (7.97 %) ان میں (اٹلی) اموات کا تناسب اعشاریہ نو فیصد ہے۔ جن میں سے اسی حساب سے تقریباً 94 ہزار اموات ہو سکتی ہیں۔

یاد رہے کہ یہ اموات ان کے علاوہ ہونگی جو کہ 50 سال سے زائد عمر کے افراد کی ہو سکتی ہیں۔ کیونکہ ہمارے ملک میں ایک ہی گھر میں رہنے والے بوڑھے افراد کو جوانوں سے علیحدہ کرنا کافی مشکل ہوگا۔ ان میں سے 71 فی صد اموات مرد وں کی ہوں گی ۔ یہ تمام ڈیٹا ان افراد پر مشتمل ہے جنہیں کورونا کے علاوہ کوئی اور مرض لاحق نہ ہوگا۔ دل، شوگر، سانس اور دوسرے امراض میں مبتلا افراد میں اموات کا تناسب اس سے کہیں زیادہ ہو گا۔ اب ہم سمارٹ لاک ڈاؤن کی باتیں کر رہے ہیں جو کہ اسی طرح ناکام ہو گا۔ پھر ایک ہی بچاؤ کا راستہ ہے جس کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے۔ ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا ہو! اس میں کم سے کم ہونے والی اموات کی تعداد بھی سامنے ہے۔ بہتر نہ ہوگا کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن کی طرف توجہ دیں

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *