مذہبی معاملات میں جذباتی باتیں کیوں ہوتی ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مان لیجیے کہ میں اور آپ کسی بات پر بحث کر رہے ہیں۔ آپ کا موقف ہے کہ ہرن زمین پر چلتا ہے اور میرا کہنا ہے کہ وہ ہوا میں پرواز کرتا ہے۔ اب اس بحث کو کرنے کی تین صورتیں ہیں۔ پہلی یہ کہ ہم دونوں کے دلائل کی بنیاد منطقی ہو۔ دوسری یہ کہ ہم دونوں میں سے کسی ایک کے دلائل منطقی اور دوسرے کے جذباتی ہوں اور تیسری ممکنہ صورت یہ ہے کہ ہم دونوں کے ہی دلائل جذباتی ہوں۔

آپ تجربہ کرکے دیکھ لیجے کہ ان میں وہی بحث نتیجہ خیز ہوگی جس میں دونوں طرف سے منطقی استدلال کیا جائے۔ جذباتی دلائل کسی ایک فریق کی طرف سے آئیں یا پھر دونوں جذباتی باتیں کرنے لگیں ہر دو صورتوں میں بحث کا کسی منطقی نتیجہ تک پہنچنا ممکن نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ آپ کی آواز کی گھن گرج یا لفظوں کی کاٹ مجھے چپ کر دے لیکن میرا دل مطمئن ہو جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔

استدلال کو جذباتی بنیادوں پر کھڑا کرنا برصغیر میں کوئی اجنبی بات نہیں ہے۔ یہ عادت یوں تو ہر ایک شعبہ زندگی میں مل جائے گی لیکن مذہبی معاملات میں اس کا رواج زیادہ ملے گا۔ آپ کی بڑی سے بڑی منطقی دلیل کو کسی جذباتی جملہ میں اڑا دینا یہاں معمول ٹھہرا ہے۔ جذباتی استدلال کی خاصیت یہ ہے کہ اس کو کاٹنے کے لئے منطقی دلیل نہیں بلکہ اس سے مزید جذباتی دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ چلئے اس جذباتی استدلال کی کچھ تازہ مثالیں لیتے ہیں۔

کورونا وائرس کا ہنگامہ جب شروع ہوا اور سوشل ڈسٹینسنگ پر زور دیا جانے لگا تو مساجد میں نماز جماعت سے گریز کرنے کی بات آئی۔ اس کا سیدھا سادہ سا مقصد یہ تھا کہ کورونا سے انفیکٹیڈ شخص بہت سے لوگوں کو انفیکٹیڈ کر سکتا ہے اس لئے اجتماعات نہ ہونے دیے جائیں تاکہ وائرس پھیلنے کا امکان نہ رہے۔ اس بات پر دلیل دی گئی کہ یہ وقت مساجد سے دور بھاگنے کا نہیں بلکہ مساجد کی طرف بھاگنے کا ہے۔ یہاں تک فرمایا گیا کہ اگر موت ہی آنی ہے تو مسجد میں آئے اس سے بڑی کیا بات ہوگی؟

اب آپ بتائیے کہ ان دلائل کا کیا جواب ہو سکتا ہے؟ یہاں منطقی جواب موجود ہوتے ہوئے بھی آپ لاچار ہیں اس لئے کہ سامنے والا اپنے مقدمے کی عمارت عقل نہیں دل پر کھڑی کر رہا ہے ورنہ اس کا جواب تو بالکل سامنے کا ہے۔

پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے ساتھیوں کے لئے جب مکہ میں حالات بہت زیادہ ناسازگار ہو گئے اور مخالفین کی جسارتیں بڑھتی ہی چلی گئیں تو آپ اور آپ کے اصحاب نے وہاں سے مدینہ ہجرت کر لی۔ حالانکہ مکہ میں کعبہ واقع ہے جو پوری دنیا کی مسجدوں کا قبلہ ہے۔ اگر اپنے یہاں والا جذباتی استدلال کیا جائے تو مدینہ کی طرف حجرت بیت اللہ والے شہر سے رخصت ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ کی حجرت نے اصول قائم کیا کہ جب حالات سنگین صورت اختیار کر لیں تو حفاظت کے اسباب اختیار کیے جائیں گے۔

اب ذرا اس اصول کو موجودہ حالات میں رکھ کر دیکھیں تو کورونا وائرس کا جان لیوا اور حقیقی خطرہ سامنے موجود ہے۔ یہ وائرس لوگوں کے جمع ہونے سے تیزی سے پھیلتا ہے اس لئے مساجد میں نماز جماعت کو اس وقت تک کے روک دیا جائے جب تک کہ یہ خطرہ ہے اور گھر پر نماز ادا کی جائے۔ دنیا کے زیادہ تر ملکوں میں اسی اصول پر نماز جماعت روک دی گئی لیکن کچھ مذہبی حلقوں نے اس آسان اجتہاد کے بجائے وہ جذباتی دلیلیں دینی شروع کر دیں جن کا ذکر شروع میں ہوا ہے۔

حالات کے اعتبار سے عبادت کے حکم میں تبدیلی والی بات اگر اور سمجھنی ہو تو صلح حدیبیہ کی مثال لے لیجے۔ اس وقت پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے ساتھی اس پوزیشن میں تھے کہ مکہ کے مخالفین کا سامنا کرکے حج کر سکتے تھے لیکن اس موقع پر صلح کا راستہ اختیار کیا گیا جس میں یہ شرط بھی شامل تھی کہ اس سال مسلمان بنا حج کیے واپس جائیں گے۔

جذباتی استدلال کی ایک اور جھلک دیکھنی ہو تو مفتی منیب کا وہ بیان یاد کیجے جس میں انہوں نے فرمایا تھا کہ دکانیں بھی تو کھلی ہوئی ہیں آپ کو مسجدوں کے کھلنے پر ہی کیوں اعتراض ہے؟ یہ بیان اس دلیل سے قطعی مختلف نہیں جس میں کسی نے کہا تھا کہ جب سب ہی ایسے ہیں تو صرف مجھے سزا کیوں ملے؟

ایران میں کچھ بزرگوں کے مزارات پر زائرین کا مجمع لگتا ہے۔ کورونا کی وبا پھیلی تو ان مزارات کو بند رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس پر ایک مزار کے متولی اور بزرگ عالم دین نے فرمایا کہ یہ مزار تو روحانی شفاخانے ہیں اس لئے ہم تو  اپیل کریں گے کہ لوگ یہاں زیادہ سے زیادہ تعداد میں آکر وبا سے شفا پائیں۔

جذباتی استدلال کی خوبی یہ ہوتی ہے کہ آپ اس کو جب جہاں چاہے فٹ کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر پاکستان میں لاک ڈاؤن کے دوران مسجدیں کھلے رہنے سے کورونا زیادہ نہیں پھیلا تو یہ جذباتی دلیل دی جا سکتی ہے کہ دیکھو ہم تو پہلے ہی کہہ رہے تھے کہ یہ وقت مسجدوں کی طرف آنے کا ہے۔ اگر مساجد کھلنے سے کورونا زیادہ پھیلا تو اس وقت کے لئے یہ جذباتی دلیل ہو سکتی ہے کہ دیکھو امریکہ، اسپین اور اٹلی میں اتنا کورونا پھیل رہا ہے وہاں تو مسجدیں بھی نہیں ہیں اس لئے یہ تو خدا کی مرضی ہے کہ کسے کورونا ہوگا اور کسے نہیں۔

یاد رکھنا چاہیے کہ جذباتی استدلال اس وقت شروع ہوتا ہے جب اپنا موقف ثابت کرنے کے لئے منطقی دلیل نظر آنی بند ہو جائے۔ مذہبی حلقوں سمیت ہر ایک کو اس روز مبادا سے ڈرنا چاہیے جب منطقی گفتگو اپنی وقعت کھو دے گی اور جذباتی باتیں موقف کی درستگی یا نادرستگی کے فیصلے کریں گی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مالک اشتر ، دہلی، ہندوستان

مالک اشتر،آبائی تعلق نوگانواں سادات اترپردیش، جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ترسیل عامہ اور صحافت میں ماسٹرس، اخبارات اور رسائل میں ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لکھنا، ریڈیو تہران، سحر ٹی وی، ایف ایم گیان وانی، ایف ایم جامعہ اور کئی روزناموں میں کام کرنے کا تجربہ، کئی برس سے بھارت کے سرکاری ٹی وی نیوز چینل دوردرشن نیوز میں نیوز ایڈیٹر، لکھنے کا شوق

malik-ashter has 107 posts and counting.See all posts by malik-ashter

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *