ذہنی امراض میں مبتلا لوگوں کو کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ذہنی بیماریاں بذات خود تکلیف دہ ہوتی ہیں پھر ان میں مبتلا لوگوں کے حوالے سے معاشرے کا رویہ اور بھی غیر ذمہ دارانہ ہے۔ یہ غیر ذمہ دارانہ رویہ سرکار سے لے کر طب کے شعبے سے وابستہ افراد، مریض کے اپنے گھر والے، اور معاشرے میں پھیلائی جانے غلط فہمیاں سب شامل ہوتے ہیں۔ آج ہم ان مریضوں کے چار اہم ترین مشکلات کے حوالے سے گفتگو کریں گے۔

1) حکومت کی عدم دلچسپی۔

دنیا بھر میں حکومتی سطح پر، ذہنی امراض کے حوالے سے آگہی کے مہم چلاتے ہیں جن میں معاشرے کے تمام طبقات حصہ لیتے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو ان بیماریوں کے علاج کے حوالے سے کسی دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑتاہے۔ پاکستان میں جہاں دیگر شعبوں کے معاملے دگرگوں ہیں وہیں ذہنی امراض کے حوالے سے بھی حکومتی دلچسپی ندارد ہے۔ ہمارے لوگ درست معلومات نہیں ہونے کی وجہ سے ان بیماریوں کو اپنے روزمرہ معاشی و معاشرتی مسائل کا حصہ سمجھتے ہیں۔

2) رسوائی یا stigma۔

اسٹگما یا رسوائی اس عمل کو کہتے ہیں جس میں کسی انسان یا گروہ کو اس کی قابلیت یا اہلیت کے بجائے دوسروں کے دیے گئے نام سے یاد کیا جائے جیسے کتاب کے شوقین کو کتابی کیڑا کہا جاتا ہے یا فلسفہ کی بات کرنے والے کو خبطی کہا جاتا ہے۔ لوگ یہ رویہ کیوں اختیار کرتے ہیں اس کے مختلف توجیہہ پیش کرتے ہیں لیکن جس پر وجہ پر اہل دانش سب سے زیادہ متفق ہیں وہ یہ ہے کہ جب کسی کے علم، یا رویہ کے وجہ سے لوگ کو خود کو کمزور سمجھنے لگتے ہیں تو اس قسم کے القاب سے نوازتے ہیں۔

نفسیاتی مریضوں کو اس رویہ کا اکثر سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی تکلیف کا اظہار اپنے خاندان، عزیز و اقارب یا دوستوں سے نہیں کرپاتا کہ مبادا اسے پاگل نہیں قرار دیا جائے۔ یوں مریض اس بوجھ کو دل میں سہتا ہے اور کبھی کبھی اس کا نتیجہ خودکشی کی صورت میں نکلتا ہے۔ معاشرے کو ذہنی مرض میں مبتلا لوگوں کو کسی قسم کے القاب دینے سے گریز کرنا چاہیے تاکہ لوگوں کو اپنی ذہنی مسائل کے حوالے سے بات کرتے دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑے۔

3 ) طنزیہ انداز۔

طنزیہ رویہ کو سٹگما والے رویہ سے ہی جڑا ہوا ہے، لیکن یہاں اس پر ایک اور تناظر میں بھی بات کی جائے گی۔ اکثر جب بائی پولر ڈس آرڈر میں مبتلا شخص کو پاگل یا ڈپریشن کی مریض کو غمگین یا نشے کے لت کا عادی کو چرسی یا نشئی کہتے ہیں تو بیمار انسان کو لگنے لگتا ہے کہ اس کے اپنے اس سے دوری اختیار کر رہے ہیں۔ اس پریشانی کی وجہ سے اس کی بیماری مزید بڑھ جاتی ہے دوم یہ دیکھا گیا ہے کہ جب نشہ میں مبتلا لوگوں پر طنز کیا جاتا ہے تو وہ ضد میں اور زیادہ نقصان دہ عادتیں اپنا تے ہیں، ۔ لہذا ذہنی مرض میں مبتلا شخص کے خاندان، دوست، عزیز و اقارب طنز کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔

4) ہمت کرو

اداسی مایوسی یا گھبراہٹ کی مریض جب اپنے تکلیف کو گھر والوں یا دوستوں سے ذکر کرتے ہیں تو لوگ انہیں کہتے ہیں کہ آپ کو کچھ نہیں ہوا، آپ بالکل ٹھیک ہو بس تھوڑی سی ہمت کرلو۔ مریض اپنا سا منہ لے کر رہ جاتا ہے کہ بھاہی یہ میری ہمت ہی کہ آپ سے اس مسئلہ کا ذکر کیا۔ اصل میں ایک عام سے انسان کے تصور میں بھی نہیں آسکتا کہ اگر ایک انسان اچھا کما رہا ہو، اس کے بال بچے ہوں اپنا گھر ہو اسے بھی اداسی مایوسی یا گھبراہٹ کی بیماری ہوسکتی ہے۔

لاعلمی کی وجہ سے ہم نے مذکورہ بالا پریشانیوں کو نفسیاتی بیماریاں سمجھ لیا ہے جیسے چینی کی کثرت استعمال کو ذیابیطس کی وجہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ذیابیطیس کی بیماری پہلے سے جسم میں موجود ہوتی ہے، چینی محض اس کے علامات کو ظاہر کرتی ہے۔ اسی طرح اداسی یا گھبراہٹ ہمارے جسم میں پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ کسی چیز کی کمی، حادثہ یا نقصان ان کے علامات کو ظاہر کرتی ہیں۔ اس لیے اگر بیماری پہلے سے موجود ہے تو محض ہمت کرنے یا پکڑنے سے اس کو کبھی بھی درست نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے لیے اسے باقی بیماریوں کی طرح علاج کرنا پڑے گا۔

5) طب سے وابستہ افراد کا رویہ۔

شعبہ نفسیات کو ایم بی بی ایس کے دوران یا اس کے بعد طب کی مخصوص تربیت میں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کیا جا تا ہے جس کی وجہ سے طب کے دوسرے شعبوں میں وابستہ ڈاکٹروں کا، ذہنی امراض کے حوالے سے واجبی سا علم ہوتا ہے۔ اپنے شعبے میں متعلقہ ڈاکٹر کافی علم والا ہوگا لیکن نفسیاتی بیماریوں کو اکثر لاشعوری طور پر معمولی سمجھ کر غلط تشخیص اور اور غلط علاج کرتے ہیں جس کی وجہ سے ذہنی امراض میں مبتلا شخص کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور ان بیماریوں کے لاعلاج ہونے کا تصور اور راسخ ہو جاتا ہے۔

طب کے دیگر شعبوں سے وابستہ ڈاکٹرز اور عوام سے گزارش ہے کہ اگر انہیں لگے کہ نفسیاتی بیماریوں کی وجہ سے ان کی معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں تو ان کو بروقت، درست اور مکمل علاج کے لیے ماہر نفسیات سے رجوع کر نا چاہیے۔

6) اعمال کا نتیجہ۔

اگر ذہنی مریض اپنے بیماری کا ذکر کسی اور سے کرتا ہے تو اسے مشورہ دیا جاتا ہے کہ عبادت کرنے سے اسے ان بلاوجہ کی پریشانیوں سے نجات مل سکتی ہے۔ بے شک بحیثیت مسلمان، اللہ سے مانگنا سنت ہے اور عبادت مانگنے کا بہترین طریقہ ہے لیکن اگر بیماریاں دماغ میں موجود کیمیائی اجزا کے توازن میں بگاڑ کی وجہ سے ہوں اور ان کو دوائیوں سے ٹھیک کیا جاسکتا ہو تو علاج بھی شریعت میں لازم ہے کہ دین میں نفس کو تکلیف میں مبتلا رکھنا گناہ کبیرہ بتایا گیا ہے۔ لہذا ان مریضوں کو علاج سے دور رکھ کر ان کے تکلیف میں مزید اضافہ مت کیجیے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments