سگمنڈ فرائڈ کے تیسرے لیکچر کی تلخیص اور ترجمہ

خواتین و حضرات! جب ہم نفسیاتی مریضاؤں کا علاج کر رہے ہوتے ہیں تو ہمیں احساس ہوتا ہے کہ مریضہ کے لاشعور میں دو متضاد طاقتیں بر سر پیکار ہوتی ہیں ایک طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو لاشعور میں دبی اور چھپی یادوں اور باتوں کو شعور میں لانے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف وہ طاقت ہوتی ہے جو اس کی راہ میں رکاوٹ کھڑی کرتی ہے اور لاشعور میں چھپی اور دبی یادوں اور باتوں کو

Read more

خواب، محبت اور زندگی 45

راجا پاکستانی کی انٹری رسم و رواج کے مطابق رشتہ مانگنے کے لئے احفاظ نے اپنے دوست حسن امام کی اہلیہ کو میرے والدین کے پاس بھیجا۔ اور اس کے بعد امی اور خالہ احفاظ کا گھر دیکھنے گئیں۔ اس ملاقات نے سب کچھ بدل دیا۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ملاقات قیامت ڈھا گئی۔ راجا ہندوستانی طرز کی نہیں بلکہ راجا پاکستانی طرز کی قیامت۔ احفاظ کا چھوٹا سا گھر محنت کش طبقے کے محلے میں واقع تھا۔

Read more

پروفیسر محمد اکرم: ایک باوقار استاد، مثالی والد اور سچے خادمِ علم

میرے والدِ محترم، پروفیسر محمد اکرم (مرحوم) ، اپنی ذات میں ایک مکمل اور باوقار شخصیت تھے۔ علم، خلوص، قربانی، دیانت اور انسانیت کی جیتی جاگتی مثال۔ مصر کے عظیم اور آفاقی شاعر، احمد شوقی نے کیا خوب فرمایا ہے قم للمعلم وفّہ التبجیلا کاد المعلم ان یکون رسولا ”اُٹھ، استاد کے احترام میں کھڑا ہو جا، اور اسے بھرپور تکریم دے، کیونکہ معلم ایسا عظیم منصب رکھتا ہے کہ گویا وہ ایک رسول ہی ہوتا ہے۔“ یہ عظمتِ استاد

Read more

پاکستان کا انقلابی ضمیر کون؟

یہ مردِ آہن سنہ 1928 ء میں ہوشیار پور، برطانوی ہندوستان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے بعد پاکستان میں آباد ہوئے۔ ان کی شاعری نے ان کو جنوبی ایشیا کے بے باک عوامی شاعر طور پر منوا لیا۔ ان کے الفاظ محض شعر نہیں بلکہ مزاحمتی نعرے تھے جو ملک بھر کے اسکولوں، عدالتوں، جیلوں، اور احتجاجی اجتماعات میں گونجتے تھے۔ وہ صرف ایک شاعر ہی نہیں، بلکہ ایک طاقتور سیاسی آواز تھے۔ انہوں نے پاکستان کے عام شہریوں

Read more

میر ولی اللہ : زندگی نامہ اور کاس الکرام

چالیس سے زائد کتب کے مصنف، فارسی ادبیات کے استاد ِکامل اور جامعہ کراچی شعبہ فارسی کے صدر مرحوم پروفیسر ڈاکٹر ساجد اللہ تفہیمی ( 1941۔ 2 ستمبر 2020 ) شارحِ رومی، حافظ و خیام میر ولی اللہ ایبٹ آبادی ( 10 جون 1887۔ 13 دسمبر 1964 ) کی کتاب ’کاس الکرام‘ کے مقدمہ میں میر صاحب کی حیات مستعار سے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ: ’میر ولی اللہ کے اسلاف ترکستان کے مغلیہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے، ہجرت

Read more

اردو ادب کا ارتقا، نئے زاویے

اردو ادب کے ارتقا پہ بات کریں اور اس میں اکیسویں صدی تک کے ادب کی بات کریں تو ہمیں اس کو قیام پاکستان کے وقت سے دیکھنا ہو گا کیونکہ تقسیم ہند ہوتے ہی جو سب سے پہلے ہوا، وہ یہ تھا کہ دونوں طرف کہانی و شاعری کے موضوعات بدل گئے۔ کچھ لاشعوری طور پہ ایسا ہوا تو شعوری طور پہ وہی تحریر پڑھی جا رہی تھی جو حالات ہو گئے تھے۔ دونوں طرف تاریخ کی بڑی ہجرت

Read more

محکمہ تعلیم میں انٹری

صبح دس بجے کے قریب بس نے گورنمنٹ ہائی سکول روجھان کے گیٹ کے سامنے اتار دیا۔ گیٹ کے ساتھ ہی ایک شخص زمین پر بیٹھا ہوا حقے کے دھوئیں کے مرغولوں میں ہر چہ کہیں ہے کہ نہیں ہے کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ وہاں کا حقہ بھی عجیب سی ساخت کا ہوتا ہے۔ چلم کے ساتھ ہی ایک ڈیڑھ فٹ کی ایک نڑی عموداً لگائی جاتی ہے۔ اس کی چلم میں تمباکو بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔

Read more

قہقہے کے پیچھے آئینہ

کہتے ہیں ایک بستی تھی جو الفاظ سے بنی تھی۔ یہاں خیالات درختوں پر پھلتے، اور سوالات کی جڑیں زمین میں اترتی تھیں۔ اسی بستی میں ایک بچہ پیدا ہوا، جس کی آنکھوں میں کائنات کی حیرانی بسی ہوئی تھی۔ ان ابھری ہوئی آنکھوں نے اس کا نام رکھا جاحظ۔ چہرہ ایسا جیسے عقل مذاق کر رہی ہو، اور مزاح کسی فلسفے کی صورت اختیار کر گیا ہو۔ جب دوسرے بچے گیند سے کھیلتے، وہ نقطوں اور ویرگول سے کھیلتا۔

Read more

سہیل وڑائچ پر کیچڑ کون اچھال رہا ہے

نیا پاکستان بنانے کے لیے جنرل باجوہ، جسٹس ثاقب نثار اور عمران خان صاحب کی ایک تکون قائم کی گئی تھی، یاد ہے؟ جنرل فیض حمید اس تکون کے پہرے دار تھے۔ وہ تعمیر کے طریقے بھی بتاتے تھے۔ نئے پاکستان کی تعمیر کے لیے بجری سیمنٹ کی بجائے کیچڑ سے کام لینے کا فیصلہ کیا گیا۔ سب سے پہلے پاکستان تحریک انصاف سے چن چن کر ان ہستیوں کو چلتا کر دیا گیا جو سیاسی وضع داری، رکھ رکھاؤ

Read more

مذاق ہی مذاق میں گزری عید

عید گزری ہے لیکن حسب معمول اپنے ساتھ کچھ نئے واقعات، تجربات اور مشاہدات بھی لیتی آئی۔ ماضی میں ہم اخبارات کی مدد سے گزری عید کے واقعات و معمولات سے آگاہ ہوتے کیوں کہ عیدین کی چھٹیوں کے بعد اخبارات ایک طرح گزری چھٹیوں کا ضمیمہ ہوا کرتے تھے۔اب یہ معمول بدل چکا ہے اور خبروں سے وقتی دوری کی نعمت سے بھی ہم محروم ہو چکے ہیں۔ سوشل میڈیا سب کچھ ساتھ ساتھ نشر کرتا رہتا ہے اور

Read more

عثمان قاضی کی کتاب ”سفر و حضر“ پر مختصر تبصرہ

”ہم سب“ سے کچھ اور حاصل ہوا یا نہیں، چند ایسے لکھاریوں سے تعارف ہو گیا جو اس وقت تک اردو اخبارات کی زد سے باہر تھے۔ ان میں سے کچھ، مثلاً حسنین جمال یا فرنود عالم پھر باقاعدہ ”اخباری“ بھی ہوئے لیکن اس انجمن کے باقی ستاروں کی روشنی بھی کم نہیں ہوئی۔ اس فہرست میں عثمان قاضی بھی شامل ہیں۔ ان سے پہلے ہم سب اور پھر سماجی رابطے کے چبوترے (پلیٹ فارم) پر تعلق بنا اور لگ

Read more

یوسف خالد کی قطعہ نگاری

قطعہ نگاری کا سلسلہ تو اردو شاعری کے آغاز سے ہی ہو گیا تھا لیکن اس صنف نے بیسویں صدی کے نصف میں تیزی سے ترقی کی منازل طے کیں اور ادب کی مسلمہ اصناف کے مدِ مقابل اپنا مقام بنا لیا۔ اس دور میں شعرا کے باقاعدہ مجموعے اشاعت پذیر ہونے لگے جن کا سلسلہ معاصر عہد تک جاری و ساری ہے۔ اس صنف کو مولانا حالی، اکبر الہ آبادی، علامہ اقبال، مجید لاہوری، ظفر علی خان، اختر شیرانی

Read more

مشتاق احمد یوسفی اور اپنی چارپائی

کیا ادیب اپنے ادبی انداز کو ترک کر سکتا ہے؟ نیا ادبی اسلوب اختیار کرنے کے لیے ادیب کو کتنی قیمت ادا کرنا پڑے گی؟ مشتاق احمد یوسفی اپنے افسانہ ”چارپائی اور کلچر“ میں حقیقت پسندی کے اسلوب کو اختیار کر کے دنیا کو چارپائی سے تشبیہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ چارپائی دنیا سے مختلف نہیں، جو انسانیت کے عروج و زوال کی گواہی دینے کے باوجود ہمیشہ ایک وفادار گواہ رہتا ہے جس کے اندر انسانی امکانات بستے

Read more

کائنات کا پہلا گیت

بھنبور یونیورسٹی کے قدیم مخزنِ کتب میں وہ دراز الماری آہستہ سے کھولی گئی جسے برسوں سے کسی نے ہاتھ نہ لگایا تھا۔ اس لیے نہیں کہ وہ ٹوٹ چکی تھی، بلکہ وہ خود وقت کی ایک بند کھڑکی بن چکی تھی۔ یہ یونیورسٹی جو کبھی دیبل کے تاریخی شہر کی جان ہوا کرتی تھی ہنوز سمندر کنارے ایک خاموش گواہ کی صورت باقی تھی۔ یہیں سے میر بحر پرانے جہاز رانی کے ماہر بابل میسوپوٹیمیا یونان اور روم تک

Read more

سیاست محروم الارث کیسے ہوتی ہے؟

لسان العصر اکبر الٰہ آبادی کے اقبال کے نام 133 خطوط حال ہی میں ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے شائع کیے ہیں۔ قبلہ ڈاکٹر صاحب پنجاب یونیورسٹی میں اردو کے صدر شعبہ رہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ٹھہرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات میں مسند ظفر علی خان پر فائز رہے۔ جامعہ الازہر میں اردو اور مطالعہ پاکستان پڑھایا۔ ان دنوں ایران کی تہران یونیورسٹی میں پاکستان چیئر پر رونق افروز ہیں۔ علامہ اقبال

Read more

میرے والد، پروفیسر محمد سلیم سندھو – کچھ یادیں کچھ باتیں

وطن عزیز کی خاطر اس پار سے ہجرت کر کے آنے والے لوگ نہ صرف اسلاف کا صدیوں میں بننے والا اثاثہ وہاں چھوڑ آئے بلکہ یہاں آ کر تعمیر نو کے مرحلہ سے بھی دوچار ہوئے۔ میرے والد جناب محمد سلیم سندھو صاحب جولائی 1953 کو ایسے ہی ایک گھرانے میں پیدا ہوئے جو 1947 میں جموں شہر کے محلہ پیر مٹھا سے ہجرت کر کے براستہ سیالکوٹ۔ کوٹلی لوہاراں ڈسکہ شہر میں آباد ہوا۔ یہ وہ لوگ تھے

Read more

لفظوں سے بنا ہوا آدمی

شہر یار راشد، ن م راشد کا بیٹا اور میرا قریبی دوست سوویت یونین کے خاتمے کے بعد تاشقند میں پاکستان کا سفیر تھا۔ ایک دن مجھے اس کا خط ملا جس میں اس نے لکھا کہ ’گل بہار جو اردو میں پی ایچ ڈی کر رہی ہے پہلی بار تاشقند سے پاکستان ارہی ہے۔ وہ کچھ ہفتے اسلام آباد رہے گی۔ میں نے اسے تمہارا فون اور پتہ دیا ہے۔ تمہیں اس کی میزبانی کرنا ہوگی۔‘ چند دنوں کے

Read more

ن م راشد اور کالا جادو

ہمارے استادِ محترم علم و ادب کی کہکشاں کے وہ روشن ستارے ہیں جن کے دامنِ فکر سے فصاحت و بلاغت کی کرنیں پھوٹتی ہیں۔ ان کی صحبت میں بیٹھنا گویا الفاظ کی بزم میں شریک ہونا ہے۔ ان کی گفتگو ایسی خوشبو ہے جو سننے والے کے ذہن و دل کو معطر کر دیتی ہے۔ ان کے چہرے پر سنجیدگی کی دبیز تہہ تو ضرور ہے، مگر اس تہہ کے نیچے مزاح کی چمکدار لکیر بھی چھپی ہوتی ہے،

Read more

اک بات کا فسانہ

پاکستان میں ٹرکوں، رکشوں اور موٹر سائیکلوں پر اشعار اور مزاحیہ جملے لکھوانے کا رجحان بہت انوکھا اور دلچسپ ہے۔ ٹرکوں پر ڈیزائن بنوانے کی روایت اتنی مستحکم ہو چکی ہے کہ اب ٹرک آرٹ کے نام سے باقاعدہ ایک ہنر وجود رکھتا ہے۔ آج کل لاہور میں آمد و رفت کو آسان بنانے کے لیے ایک موبائل ایپلیکیشن کا بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ اس ایپ کی تشہیر کا انداز بڑا نرالا اور قابلِ ستائش ہے۔ انہوں نے طریقہ

Read more

خواب، محبت اور زندگی 25

اب میں اس دور کے بارے میں سوچتی ہوں تو احساس ہوتا ہے کہ میرے والدین خوش باش رہنے والے سیماب صفت لوگ تھے۔ دونوں فلموں، کتابوں اور رسالوں کے شیدائی تھے۔ مجھے یاد ہے امی نے ایک دفعہ اردو کے ایک مشہور اخبار میں ایڈیٹر کے نام خط لکھا تھا جس میں کراچی میں تھیٹر کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فن کاروں کی سرپرستی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اس مراسلے کو پڑھ کے تھیٹر

Read more

تجھے میں کیسے بھلا دوں

”ہم مزاح کے عہد یوسفی میں جی رہے ہیں“ میں نے یہ جملہ کچھ برس پہلے پڑھا تھا۔ جملہ ایسا تھا کہ اس کی گونج ایک تسلسل سے سنائی دینے لگی تھی۔ یوسفی صاحب کی وفات کے بعد پرسے کے لگ بھگ ہر مضمون میں یہ جملہ مقتبس ہوتا رہا۔ ایسے میں ظہیر فتح پوری کی طرف دھیان کا جانا فطری تھا کہ یہ انہی سے منسوب تھا؛ سو، میرا دھیان بھی ادھر ہوا۔ جستجو ہوئی کہ وہ مضمون تلاش

Read more

ملتان کو شناور کی آنکھ سے دیکھو

  شناور اسحاق کی کتاب ”صحبت آدمی مبارک ہو“ میں جس محبت سے ملتان اور اپنے آبائی علاقہ گوجرانوالہ کے گلی کوچوں سے لے کر ادبی بیٹھکوں و شخصیات کا احوال ملتا ہے، یہ تذکرہ ایسا گہرا نقش مرتب کرتا ہے کہ ہم اس کے سحر سے چاہتے ہوئے بھی رہائی نہیں پا سکتے۔ جب نوے کی دہائی کے وسط میں شناور اسحاق سے میری پہلی ملاقات ہوئی، اور پھر اس کے بعد کچھ عرصہ تسلسل سے اور بعد میں

Read more

پاکستان کا سافٹ امیج کیسے برباد ہوا

سب سے پہلے تو یہ جانیے کہ سافٹ امیج کسے کہتے ہیں۔ ایسا ملک جہاں زندگی کے نرم رویوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے۔ یہ نرم رویے فن و ثقافت در کلچر اور تہذیب سے پیدا ہوتے ہیں۔ ان میں فنون لطیفہ کا بہت زیادہ عمل دخل ہوتا ہے۔ فنون لطیفہ کا تعلق جمالیات سے ہے۔ اور جمالیات کا مطلب ہی زندگی کو خوبصورتی کے ساتھ بسر کرنا ہے۔ یہ رویہ ہمیں انسان دوست بناتا ہے۔ یہ ایک دوسرے کا

Read more

میمز اور پاکستان بھارت کشیدگی

  پاکستانی قوم کا مزاح کسی بھی ملک میں مروج روایتی مزاح سے کہیں زیادہ گہرا معنی خیز اور کبھی کبھار تلخ حقیقتوں کا آئینہ ہوتا ہے۔ پاکستان کی تاریخ اور سیاست میں جو پیچیدگیاں رکاوٹیں اور مسائل رہے ہیں ان سب کے بیچ میں پاکستانی عوام کی زندہ دلی واقعی کمال ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ جہاں پر مشکلات بڑھتی ہیں وہاں مزاح کا ایک نیا انداز بھی جنم لیتا ہے۔ آج کل جب پاکستان اور بھارت کے

Read more

گریباں چاک کر ڈالو

  رانا اور میں ایک دوسرے کو سکول کے زمانے سے جانتے ہیں۔ میں نے ایف سی کالج میں داخلہ لیا تو بطور کیجول سٹوڈنٹ وہ میری ہی کلاس میں آ گیا۔ آج کل کا تو پتہ نہیں، اس زمانے میں جس بچے کو میرٹ پر یا لیٹ ہونے کی وجہ سے داخلہ نہ ملتا تو وہ بطور کیجول سٹوڈنٹ کالج میں داخلہ لے لیتا اور اسے کسی بھی کلاس میں بیٹھنے کی اجازت ہوتی تھی۔ رانے میں حس مزاح

Read more

پاک بھارت بھائی چارہ

  عجیب ہے نا جب سے جنگ کا لفظ سنا ہے پاکستانی عوام نے سوشل میڈیا پر مزاح نگاری کی بمباری کر دی ہے۔ کوئی جنگ جیتے یا ہارے، جنگ اچھی نہیں ہوتی۔ اور نقصان ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے خواص کا نہیں۔ ریاستی فیصلوں کا خمیازہ عوام بھگتی ہے۔ گھر جلتا ہے عوام کا، موت آتی ہے تو عوام کو ورنہ امرا کے ایوان تو سجے ہی رہتے ہیں۔ وزرا تو محفوظ ہی رہتے ہیں۔ اور المیہ یہ ہے

Read more

ٹرمپ ریٹرنز: میمز کا بادشاہ

  اگر سیاست آپ کو بور کرتی ہے تو لگتا ہے آپ نے ڈونلڈ ٹرمپ کا سیاسی تھیٹر نہیں دیکھا۔ وہ ایک ایسے صدر تھے۔ اور اب پھر ہیں۔ جنہوں نے امریکہ کو نان اسٹاپ کامیڈی شو میں بدل دیا۔ ان کا ہر ٹویٹ ایک ایسا دھماکہ خیز اور چلبلا ہوتا ہے کہ دیکھنے اور پڑھنے والا بے اختیار ہنس پڑتا ہے، ان کی ہر پریس کانفرنس ایک ایسی محفل بن جاتی ہے جہاں ہر کوئی اپنی رائے دے رہا

Read more

انیس اشفاق بطور نقاد: فکری ژرف نگاہی اور اسلوبی سادگی کا امتزاج

اردو ادب کا سنجیدہ قاری انیس اشفاق کے نام سے بخوبی واقف ہے۔ وہ ان چند ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے ادب کی تقریباً تمام اصناف میں قلم آزمایا اور اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ناول ہو یا افسانہ، تنقید ہو یا تحقیق، ترجمہ ہو یا شاعری، انیس اشفاق نے ہر میدان میں ایسی بصیرت افروز تخلیقات پیش کیں جو اردو ادب کے سرمائے میں گراں قدر اضافہ ہیں۔ آپ لکھنؤ کے ایک محلے بزازے میں 1950ء، میں پیدا

Read more

ڈیجیٹل کانا پھوسی

ایک دن ایتھنز کے بازار میں سقراط کا ایک جاننے والا ان کے پاس آیا اور بولا سقراط! میں تمہیں تمہارے ایک دوست کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ سقراط نے اسے روکا اور کہا رک جاؤ! پہلے میں تمہاری بات کو تین سوالوں کے فلٹرز کے امتحان سے گزارنا چاہتا ہوں۔ پہلا فلٹر سچائی ہوتی ہے کہ کیا تم جو کچھ مجھے بتانے جا رہے ہو، وہ بالکل سچ ہے؟ اس شخص نے کچھ دیر سوچا اور کہا

Read more

زندہ دل پاکستانی قوم بمقابلہ انڈین جنگی جنون

پاکستانی قوم کی زندہ دلی اور سوشل میڈیا پر ان کی جگت بازی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ جب بات جنگ کی ہو یا انڈیا کے ساتھ کشیدگی کی، پاکستانی عوام اپنے منفرد انداز میں میمز، جگتیں، اور جملہ بازی کے ذریعے نہ صرف ماحول کو ہلکا پھلکا کر دیتے ہیں بلکہ دشمن کے ہوش بھی اڑا دیتے ہیں۔ آج کل ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر پاکستانیوں نے گویا جنگ کا محاذ سوشل میڈیا پر منتقل کر دیا ہے، جہاں وہ

Read more

زندگی سے خالی پروفیسر

پاکستانی سماج ایک ایسا سماج ہے جو مجموعی طور پر اینٹی آرٹ/ فن مخالف مزاج رکھتا ہے۔ پاکستان میں فن / آرٹ کو یا تو غیر سنجیدہ سرگرمی سمجھا جاتا ہے یا پھر وقت کا ضیاع سمجھ کر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ یہ تصور صرف عوامی حلقوں تک ہی محدود نہیں بلکہ یہ ہمارے تعلیمی اداروں خاص طور پر اکیڈمیا میں بھی سرایت کیے ہوئے ہے۔ وہ یونیورسٹیاں جو تخلیق، تنقید، اور علم کا مرکز ہونی چاہیے وہ خود

Read more

لوگ جنگ کے ماحول میں بھی میمز کیوں بنا رہے ہیں؟

اس بات کو سمجھنے کے لیے پہلے ایک لطیفہ سن لیجیے۔ ایک آدمی ریلوے میں نوکری کے لئے انٹرویو دے رہا تھا۔ افسر : اگر دو ریل گاڑیاں ایک ہی لائن پر آ رہی ہوں تو کیا کرو گے؟ آدمی : میں کانٹا بدل دوں گا افسر : اگر کانٹا خراب ہوا تو؟ آدمی : لائن پر کھڑا ہو کر لال کپڑا لہراؤں گا۔ افسر : اگر ڈرائیور دیکھ ہی نہ رہا ہو تو؟ آدمی : مسافروں پر چیخوں گا

Read more

ہندوتوا کی بالا دستی کا ورثہ چھوڑنے کا متمنی نریندر مودی۔

اس واقعہ کو تقریباََ آٹھ ماہ گزر چکے ہیں۔ چند دوستوں کی مہربانی سے ایک ایسے صاحب کے ساتھ ملاقات ہو گئی جو ہمارے کئی مشہور برانڈز کے لئے گہری تحقیق کے بعد اشتہاری مہم تیار کرتے ہیں۔ اشتہاری مہم تیار کرنے والی کمپنیاں اس امر کو ترجیح دیتی ہیں کہ جو ’’سودا‘‘ بیچنا ہے وہ نوجوان نسل میں زیادہ سے زیادہ مقبول ہو۔ ان کے دل جیت لینے کے لئے جو شے مارکیٹ میں فروخت کے لئے متعارف کروائی

Read more

پھکڑپن اور عامیانہ جملوں کی شکار عورت

دیکھئے وومن ورڈ میں سے ایس یعنی سینس نکال دیں تو کیا بچے گا۔ اینکر نے ایک خاتون کو روک کر سوال کیا۔ لیکن وومن ورڈ میں تو ایس آتا ہی نہیں۔ خاتون نے حیرانی سے جواب دیا۔ جی ہم یہی تو کہتے ہیں۔ وومن میں ایس نہیں ہے۔ اور آگے سے ایک لافنگ ری ایکٹ۔ ایک اور جگہ ٹک ٹاک ویڈیو میں ایک لڑکا لڑکی کے پاؤں پر نوکیلی چیز سے ایذا پہنچاتا ہے۔ لڑکی دفاعی انداز میں کہتی

Read more

ڈاکٹر محمد صادق کا علمی و ادبی سفر

بیسویں صدی برِصغیر میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ہلچل اور تغیرات کی صدی ہے۔ اس میں جس تیزی اور برق رفتاری سے تبدیلیاں رونما ہوئیں وہ حیرت انگیز ہیں۔ اسی صدی کے دوران میں جہاں سائنس، فلسفے اور سیاست کی دنیا میں کئی نابغہ روزگار شخصیات نے جنم لیا وہیں علم و ادب کی دنیا میں بھی زرخیز دماغ پیدا ہوئے۔ بیسویں صدی کے آغاز میں مولانا حسرت موہانی، ابوالکلام آزاد، علامہ محمد اقبال، علامہ عنایت اللہ مشرقی،

Read more

پاک بھارت ٹویٹر جنگ – مکمل کالم

پاک بھارت جنگ تو ابھی شروع نہیں ہوئی البتہ ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر یہ جنگ چھِڑ چکی ہے اور اگر مجھ پر متعصب ہونے کا الزام نہ لگایا جائے (لگا بھی دیا جائے تو فرق نہیں پڑتا) تو میں کہوں گا کہ ٹویٹر والی جنگ پاکستان جیت چکا ہے۔ پاکستانی منچلے ایسی شاندار پھبتیاں کَس رہے ہیں کہ دیکھ کر آنجہانی خود ساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان کی تقریر کا وہ جملہ یاد آ جاتا ہے کہ دشمن کو اندازہ

Read more

اب میں بولوں کہ ناں بولوں؟

نوے کی دہائی میں پشاور ٹیلی وژن سے افتخار قیصرکا لکھا ہوا ایک ہندکو پروگرام بعنوان ”دیکھ تماشا چلتا بن“ نشر ہوا کرتا تھا۔ اس ڈارمے کا ایک مکالمہ ”اب میں بولوں کہ ناں بولوں؟ نے افتخار قیصر کو مایہ ناز لکھاریوں کی فہرست میں لا کھڑا کیا۔ اُن کے لکھے ہوئے ان مکالموں میں ملک میں ہونے والی نا انصافیوں اور تعصبات کو نشانہ بنایا جاتا اور اُن پر تنقید کی جاتی تھی۔ یہ مکالمے پشاور اور گردونواح میں

Read more

طنز و مزاح کے آئن سٹائن معین اختر

ٹی وی، سٹیج کے نامور مزاحیہ اداکار، میزبان، نقیب، نقال، گلوکار اور فلمی اداکار، معین اختر نے 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں جنم لیا۔ ان کے والد کا نام محمد ابراہیم محبوب تھا۔ 6 ستمبر 1966 کے یوم دفاع پر انہوں نے اپنی پہلی ادا کاری کے جوہر دکھائے۔ ضیاء محی الدین شو میں اپنے فن کا جادو جگایا۔ انہوں نے پاکستان کی تمام بڑی زبانوں اردو، پنجابی، سندھی، گجراتی، میمنی اور بنگالی میں ادا کاری کی۔ وہ مزاحیہ

Read more

شہر اقتدار سے

جانے وہ کیسے، لوگ تھے جن کے پیار کو پیار ملا ہم نے تو جب کلیاں مانگیں، کانٹوں کا ہار ملا وقت تو دوپہر ہی کا تھا، مگر بادلوں نے دھوپ کی تمازت کو اپنی اوٹ میں چھپا کر ٹھنڈی ہوا کو اذنِ خرام دیا کہ آؤ اور ماحول کو خوشگوار کر دو۔ سو ہم، اُس سہانے موسم میں، بزنس اینڈ پروفیشنل ویمن کے کشادہ و پُروقار آڈیٹوریم میں بیٹھے، خالدہ مظہر کی مترنم آواز کے سحر میں کھوئے ہوئے

Read more

مزاح اور فحاشی میں بہت فرق ہے

پچھلے دنوں وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ نے رات گئے لاہور کے اسٹیج تھیٹرز پر چھاپے مارے اور ان کے معیار کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اداکاروں کو شوکاز نوٹس جاری کیے۔ اسٹیج ڈرامے کے فن کی بات کی جائے تو یہ ایک فنکار کے لیے بہت ہی اہم مقام ہوتا ہے جہاں وہ ناظرین کے سامنے براہ راست اپنے فن کا مظاہرہ پیش کر کے انہیں محظوظ کرتا ہے۔ ایک زمانے میں

Read more

”غالب کے خطوط“ مرتبہ ڈاکٹر خلیق انجم کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ

مصنفین: نذیر علی سعدیہ اعجاز پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالرز یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور اُردو زبان و ادب کی تحقیق و تنقید میں خلیق انجم کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ خلیق انجم اُردو کے ممتاز محقق، نقاد، مدوِن، ادیب، ماہرِ غالبیات اور انجمن ترقیِ اردو (ہند) کے نائب صدر تھے۔ انجمن ترقیِ اردو کے نائب صدر کے عہدے پر کم عمری میں فائز ہوئے اور اپنے انتقال تک بِراجمان رہے۔ ڈاکٹر خلیق انجم 22 دسمبر 1935 ء

Read more

مزاح نگار مرزا یاسین بیگ سے سنجیدہ ادبی دوستی کی کہانی

ڈنر اور ڈائلاگ کینیڈا کے مایہ ناز مزاح نگار سے سنجیدہ ملاقات کی خواہش نے دل میں سرگوشی کی تو میں نے انہیں ان کے شہر مسی ساگا (جسے کینیڈا کے مشرقی مہاجرین مسز آغا کے نام سے پکارتے ہیں ) کے نروانا ریسٹورانٹ میں ڈنر اور ڈائلاگ کی دعوت دی جو انہوں نے بخوشی قبول کر لی۔ اس ڈنر کے دوران انہوں نے بتایا کہ وہ ہماری مشترکہ ادبی دوست شکیلہ رفیق کی مغفرت کی دعا کرنے کے لیے

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا فن طنز و مزاح

اگر ہم عہد یوسفی میں جی رہے ہیں، تو اس عہد کا رنگ و شکل کیا ہے؟ یوسفی انسانوں کو خشک لذت کے آتش میں اپنی وجودی مقصدیت سے محو ہوتے ہوئے دیکھ کر اس بات کا نوحہ کرتے ہیں کہ انسانیت با تدریج نیچے جا رہی ہے۔ یوسفی کا نقطہ نظر، طنز و مزاح ایک فنکارانہ حکمت عملی ہے جس کے ذریعے انسانیت میں ہونے والے مضحکہ خیز نشیب و فراز سے الفاظ اور استعاروں سے منطقی بہاؤ میں

Read more

حافظ حسین احمد: کیسی کیسی صورتیں خاک میں پنہاں ہو گئیں

الفاظ کا سحر، منطق کی تلوار، برجستہ گوئی کا دریا، سیاست کے ایوان کا دھڑکتا دل حافظ حسین احمد محض ایک سیاستدان نہیں، بلکہ جرات و استقامت کی چلتی پھرتی تصویر تھے۔ دلیل ایسی کہ مخالف گنگ ہو جائے، جملہ ایسا کہ صحافیوں کو شہ سرخی تراشنے کی حاجت نہ رہے، خبر خود بخود بن جائے، اور جواب ایسا کہ ہر گوشے میں بازگشت چھوڑ جائے وہ نہ صرف جمعیت علمائے اسلام کا معتبر چہرہ تھے بلکہ ایک قومی سیاسی

Read more

ڈاکٹر حامد عتیق سرور – ستارہ امتیاز 2025

ڈاکٹر حامد سے پہلی ملاقات سنہ 2011 میں سول سروس اکادمی میں معاشیات کی کلاس میں ہوئی۔ یہ مضمون ہمیں کبھی پسند نہ تھا اور پڑھانے والے کے بارے میں بھی یہی جذبات تھے۔ ڈاکٹر صاحب ہمیں اکنامکس پڑھاتے رہے اور ہمیں یاد نہیں کب ہم نے انہیں غور سے سننا شروع کیا، اتنا سمجھ بھی آنے لگا کہ کلاس میں ہونے والے تدریسی بحث و مباحثے میں حصہ لینے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کلاس میں چند فقرے کَس کر، لطیف

Read more

خوشامد کی ‘انڈسٹری’ کے قلم مزدور

پاکستان میں شاعروں، ادیبوں کی طرف سے حکمرانوں کی خوشامد کی صنعت نے ایوب خان کے دور میں خاصی ترقی کی، اس موضوع پر گزشتہ چند سال سے مسالہ اکٹھا کررہا ہوں جو ہوتے ہوتے اتنا ہوگیا ہے کہ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ اس مواد نے حیرت کے کئی در وا کیے، بڑے بڑوں کے بھرم ٹوٹے، آج میں نے دو معروف فکشن نگاروں اشفاق احمد اور ممتاز مفتی کے رشحات قلم کے بارے میں کچھ لکھنے کی ٹھانی ہے

Read more

خالد سہیل اور حامد یزدانی کی مشترکہ محبوبہ

کتاب کے سرورق پر ”مشترکہ محبوبہ“ کا عنوان سامنے آتے ہی دل میں ایک شرارتی سی جنبش ہوتی ہے اور پہلا خیال یہی آتا ہے کہ یہ کسی سانجھی معشوقہ کی داستانِ دلفریب کا بیانیہ ہو گا۔ یا کوئی جادوگر حسینہ کی کتھا جو دو افراد پر عاشق ہو گئی ہے۔ اور اب اپنی کتھا سنا رہی ہے۔ مگر اس دلفریب عنوان کے نیچے اس مخمصے کو ایک بریکٹ کے اندر یہ تحریر لکھ کر دور کر دیا گیا کہ

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

لینہ حاشر کی کتاب ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ جس نے اپنے اچھوتے نام اور دل موہ لینے والی من موہنی سی پیاری سی تصویر کی بدولت میری توجہ حاصل کی اور پھر اس کتاب کو خریدنے اور پڑھنے کی خواہش کو بڑھا دیا۔ لاہور انٹرنیشنل بک فیئر سے کتاب خریدی اور بس پڑھنا شروع کر دیا۔ تبصرہ کچھ ذاتی مصروفیات کی بنا پر تاخیر کا شکار ہو گیا۔ حقیقت پر مبنی واقعات، سانحات یا آپ بیتی کو مصنفہ نے بہت

Read more

تیکھے اور طنزیہ رویے

بہاولپور کو ہمیشہ ایک پرامن اور مہذب شہر کے طور پر جانا جاتا ہے۔ یہاں کے لوگ اپنی باہمی ملنسار طبیعت کی باعث ایک اچھی اور الگ شناخت رکھتے ہیں۔ اس لیے شہر میں جھگڑے اور لڑائی نسبتاً بہت کم ہوتی ہے۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ روز جھانگی والا روڈ بہاولپور پر ایک موٹر سائیکل سے ایک کار کی اچانک ٹکر ہو گئی۔ جب سے ہیوی اور پبلک ٹرانسپورٹ یہاں سے گزرنا شروع ہوئی ہے اور اس روڈ پر

Read more

شعیب منصور، میڈیا انڈسٹری کا چمکتا دمکتا آفتاب

  پاکستان ٹیلی وژن اور پاکستان شوبز انڈسٹری کی تاریخ میں اگر کسی شخصیت کا نام سنہری حروف میں لکھا جائے تو وہ میری نظر میں بلاشبہ شعیب منصور ہی ہوں گے۔ شعیب صاحب ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جو بیک وقت ڈائریکٹر، پروڈیوسر، مصنف، نغمہ نگار اور موسیقار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک منفرد تخلیقی ذہن کے مالک بھی ہیں۔ شعیب منصور صاحب وہ نام ہے جس نے پاکستانی ٹی وی ڈراموں کو ایک نئی پہچان دی۔ 1980 کی

Read more

دھنک کا آٹھواں رنگ

کہانیاں جب حقیقت کا روپ دھارتی ہیں تو انسان حیرت میں پڑ جاتا ہے، لیکن یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ انسان کہلانے والی مخلوق میں انسانیت شاذ و نادر ہی دکھائی دیتی ہے۔ یہ الفاظ انسانیت کے درد کو محسوس کرنے والی معروف مصنفہ لینہ حاشر کے ہیں، جن کی حقیقتوں سے جنم لینے والی اور چونکا دینے والی تحریروں کا مجموعہ ”دھنک کا آٹھواں رنگ“ حال ہی میں بُک کارنر، جہلم، پاکستان سے شائع ہوا ہے۔ یہ

Read more

مجھے میرا پی ٹی وی لوٹا دیں

آج میں اپنے ملک کے ایک ایسے ادارے کے زوال پر رو رہا ہوں جو کبھی منافع بخش ہونے کے ساتھ ساتھ ہماری خوبصورت روایات کا امین بھی تھا۔ مگر ناہنجاروں نے اسے بھی نہیں بخشا اور اس کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا۔ ہمارے بچپن کی حسین یادیں اسی ادارے سے جڑی تھیں۔ میں بات کر رہا ہوں پاکستان کے ایک معتبر ادارہ پاکستان ٹیلی وژن کی۔ پی ٹی وی صرف ایک چینل نہیں تھا۔ یہ ایک درسگاہ

Read more

نوبل انعام برائے ادب

ادب کے شعبے میں دنیا بھر میں مختلف ایوارڈز دیے جاتے ہیں۔ یہ انعام مختلف زبانوں، ثقافتوں اور طرز تحریر کے لیے مخصوص ہوتے ہیں۔ ان میں نوبل انعام برائے ادب، بکر پرائز، پلٹزر پرائز، پرکس گنکور پرائز، نیوشتیڈ پرائز، ہانس کرسچن اینڈ رسن ایوارڈ، کمال فن ایوارڈ، اردو اکادمی ایوارڈ، فیض احمد فیض ایوارڈ، پریم چند ایوارڈ شامل ہیں۔ لیکن ان سب میں زیادہ اہمیت کا حامل نوبل انعام ہے۔ مذکورہ ایوارڈ ہر سال سویڈش اکیڈمی کی طرف سے

Read more

بنگلہ دیش میں کچھ دن: قسط 1

(دسمبر کے مہینے میں ڈاکٹر شیرشاہ سید دو سال میں ایک بار ہونے والی نویں کانفرنس آف انٹرنیشنل سوسائٹی آف فیسٹولا سرجنز میں شرکت کی غرض سے ڈھاکہ، بنگلہ دیش گئے۔ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ انہوں نے بنگلہ دیشی سماج اور نظام کا بغور مشاہدہ بھی کیا۔ وہ باقاعدگی سے دوستوں کے واٹس اپ گروپ کو اپنے تجربات اور مشاہدات پہ مبنی روزنامچہ بھیجتے رہے۔ ”ہم سب“ کے لیے ان کی انگریزی تحریر کا ترجمہ اور تلخیص گوہر تاج

Read more

پاکستانی سوشل میڈیا کلچر: ترقی کی دوڑ میں ہمارا ”منفرد“ میدان

دنیا مسلسل ترقی کی نئی منازل طے کر رہی ہے۔ مغرب مصنوعی ذہانت (AI) میں انقلاب لا رہا ہے، جاپان اور کوریا روبوٹکس میں حیرت انگیز کامیابیاں سمیٹ رہے ہیں، چین دنیا کا سب سے تیز رفتار سپر کمپیوٹر بنا رہا ہے، امریکہ اور یورپ ماحول دوست ٹیکنالوجیز متعارف کروا رہے ہیں، بھارت اور دیگر ایشیائی ممالک انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں عالمی معیشت پر قبضہ جما رہے ہیں۔ لیکن پاکستان میں ایک منفرد ترقی ہو رہی ہے۔ ہم نے

Read more

نوجوان ادیبوں کے دس روزہ بین الصوبائی اقامتی منصوبے کی روداد

میں اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد میں اقامت کے دوران یادداشت کے لیے چیدہ چیدہ نوٹس لکھتا رہا تاکہ جانے کے بعد وہاں کی تمام سرگرمیاں اپنے احباب سے شیئر کر سکوں مگر سچ پوچھیے تو اب سمجھ میں نہیں آ رہا کہ بات کہاں سے شروع کروں اور کون کون سی کروں۔ ہر صوبے سے چار اور ملک بھر سے منتخب بیس ادیب دس روزہ قیام کے لیے رائٹرز ہاؤس (اکادمی ادبیات پاکستان اسلام آباد) میں 15 جنوری 2025

Read more

اے آئی کا میدان، چینی کمپنی فاتح قرار

چین کے اسٹارٹ اَپ ڈیپ سیک نے اپنے جدید ترین اے آئی ماڈلز سے ٹیکنالوجی کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ یہ ماڈلز نہ صرف جدید اور طاقتور ہیں بلکہ کم لاگت میں بھی تیار کیے گئے ہیں، جو امریکہ کے اعلیٰ درجے کے اے آئی ماڈلز کے ہم پلہ یا ان سے بھی بہتر قرار دیے جا رہے ہیں۔ حیران کن طور پر، ڈیپ سیک نے یہ ماڈلز صرف تقریباً 6 ملین ڈالر کی کمپیوٹنگ پاور کے ذریعے

Read more

میرا ادبی نقطہ نظر

دو ادبی تکونیں جب میں ادب کے بارے میں اپنے خیالات، تصورات اور نظریات کے بارے میں سوچتا ہوں تو میرے ذہن میں دو تکونیں ابھرتی ہیں۔ ایک چھوٹی تکون اور اس کے باہر ایک بڑی تکون چھوٹی تکون کے تین کونے ہیں۔ ادیب، ادب اور قاری۔ ادب ادیب اور قاری کے درمیان ایک ادبی پل تعمیر کرتا ہے اور دو انسانوں کے درمیان ایک تخلیقی رشتہ قائم کرتا ہے۔ میری نگاہ میں یہ رشتہ بہت اہمیت، معنویت اور افادیت

Read more

عطاء الحق قاسمی، منیر نیازی اور قیدی نمبر 804

اسے میری بدگمانی کہہ لیں، غلط فہمی کہہ لیں، وہم کہہ لیں، نفسیاتی کج فہمی کہہ لیں یا روح کی سچائیوں کو بیان کرنے والا وجدان کہہ لیں، برسوں کے مشاہدہ کے بعد میرے ذہن میں ایک خیال راسخ ہو چکا ہے کہ دنیا بھر میں مختلف ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان جو کرکٹ میچ ہوتے ہیں ان میں سے نوّے فیصد سے زائد میچ پلانٹڈ ہوتے ہیں یہاں تک کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والا کرکٹ

Read more

پِدرم سلطان است (مکمل کالم)

انسان زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اپنا محاسبہ ضرور کرتا ہے، میں بھی چونکہ انسان ہوں اور گاہے بگاہے اپنا محاسبہ کرتا رہتا ہوں اِس لیے اکثر سوچتا ہوں کہ میرے لیے کالم نگاری قابل فخر ہے، ڈرامہ نگاری یا پھر افسری، تو مجھے ان تینوں سوالوں کا جواب نفی میں ملتا ہے اور اس کی وجہ بھی بڑی سیدھی ہے کیونکہ میرے لیے سب سے زیادہ فخر کی بات یہ ہے کہ میں عطاء الحق قاسمی کا

Read more

”سات آسمان“ : جاگیرداری کا نوحہ

اصغر وجاہت ہندی ادب کا معتبر نام ہیں جنھوں نے ساٹھ کی دہائی میں اپنے فن سے ہندوستانی قارئین کی کثیر تعداد کو متاثر کیا۔ ان کی بنیادی شناخت استاد کی ہے۔ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں شعبہ ہندی کے طویل عرصہ استاد رہے ہیں اور یورپ کی متعدد یونیورسٹیوں میں کئی لیکچرز دیے۔ انھیں کہانی بیان کرنے کے فن پر خاص مہارت رہی۔ فکشن کے ساتھ ساتھ انھوں نے تقریباً تمام نثری اصناف میں طبع آزمائی کی اور ادبی

Read more

زاہد مسعود: ہمیں ابھی کچھ دیر اور زندہ رہنا ہے

”اوئے، حامد یزدانی! کہیہ حال اے تیرا؟ پچھانیا ای کہ نہیں؟ میں زاہد مسعود۔“ یہ درست ہے کہ یہ آواز میں نے مدتوں بعد اُس روز اچانک سُنی تھی کہ بیچ میں لاہور اور ٹورانٹو کا ہزاروں کلو میٹر کا فاصلہ اور ماہ و سال کی کچھ دہائیاں آن پڑی تھیں مگر زندگی سے بھرپور وہ آواز اور ایک شریر مسکراہٹ میں لِپٹا لہجہ میں کیوں کر بھول سکتا تھا۔ چنانچہ ان کے خاموش ہونے پر میں نے زاہد مسعود

Read more

اب پاکستان میں کچھ نہیں رکھا – مکمل کالم

کالم کی سری: یہ کالم تارکین وطن کے خلاف ہر گز نہیں، نیز یہ کالم سنجیدہ بھی ہر گز نہیں۔ کل ایک پوسٹ نظر سے گزری جو شاید کسی نے مذاق میں لکھی تھی مگر باتیں تمام درست تھیں، ملاحظہ کیجیے۔ ”اوورسیز رشتہ دار پاکستان آ کر یہ سب کچھ کرتے ہیں : دانتوں کا علاج، لیزر ٹریٹمنٹ، ہئیر اسٹائلنگ، لذید کھانے، بھرپور شاپنگ، اپنے بچوں کی شادی، دوسروں کی شادی میں شرکت اور جائیداد خریدنا۔ اور پھر چند ہفتے

Read more

سعادت حسن منٹو :اردو ادب کا اچھوتا افسانہ نگار

سعادت حسن منٹو، اردو زبان کی مختصر کہانیوں کا ایک منفرد مصنف، 11 مئی 1912 کو پنجاب ہندوستان کے ضلع لدھیانہ کے قصبہ سمرالہ میں پیدا ہوا۔ کشمیری نسل کا ایک خوبصورت، فیشن ایبل، صاف ستھرے کپڑے زیب تن کرنے والا، مخصوص سنہری فریم کا چشمہ لگانے والا، ادبا میں نمایاں شخصیت کا مالک، انتہائی کسمپرسی کے حال میں، دوستوں سے محرومی اور دشمنوں کے نرغے میں گھرا ہوا شخص 18 جنوری 1955 کو تینتالیس سال کی عمر میں اس

Read more

اعجاز، محبوب اور بوبی

وہ میری پیدائش سے پہلے پردیس کا ہو چکا تھا۔ میرے بچپن کی البم اور یادداشتوں میں اُس کی کوئی یاد نہیں۔ میرا اُس سے پہلا تعارف ہمارے گھر کے مہمان خانے میں لگی مصوری اور خطاطی کے فریموں سے ہوا۔ جن پر عجیب و غریب سے لوگوں کی شبیہ بنی تھی اور ایسے ہی نا سمجھ آنے والے حروف تھے البتہ وہ حروف ’اے، بی، سی‘ سے مشابہ ضرور تھے۔ میں کچھ بڑا ہوا تو میری ماں نے اپنی

Read more

ہمارے دو محبوب شاعر: ظفر زیدی اور مصطفیٰ زیدی

خالد سہیل کا خط قبلہ و کعبہ حامد یزدانی صاحب جب ہم دونوں مل کر اپنی کتاب ”مشترکہ محبوبہ“ مرتب کر رہے تھے تو مجھے یہ جان کر خوشگوار حیرت اور مسرت ہو رہی تھی کہ ہم نے مل کر جو ادبی کام کیا ہے اس میں خطوط ’کالم اور انٹرویو سبھی شامل ہیں۔ اس کتاب نے مجھے یہ تحریک دی کہ میں آپ کے ساتھ ادبی محبت ناموں کا سلسلہ جاری رکھوں تا کہ آپ کی ادبی لیاقت و

Read more

طنز و مزاح: کیا یہ واقعی ادب کا حصہ ہے؟

تحریر: فینانہ فرنام کامران عباس ادب انسانی زندگی کے جذبات و احساسات کا ترجمان ہے۔ یہ محبت، غم، خوشی، اور تنقید جیسے مختلف موضوعات کے ذریعے معاشرتی رویوں اور انسانی کرداروں کی عکاسی کرتا ہے۔ لیکن ادب کی ایک صنف ایسی بھی ہے جو ہمیشہ سوالات کے گھیرے میں رہتی ہے : طنز۔ کیا طنز واقعی ادب کا ایک مثبت پہلو ہے؟ یا یہ درحقیقت دوسروں کو زچ کرنے اور ان کی تذلیل کرنے کا ایک ذریعہ ہے؟ مزاح اور

Read more

اسکول کے بچوں کے مسائل اور انتظامیہ کی لاپرواہی

ہمارے معاشرے کے کئی ایسے مسائل ہیں جو زیر بحث نہیں لائے جاتے، جن کے حوالے سے آگہی ضروری ہے۔ ان میں بیشتر مسائل کا تعلق بچوں سے ہے۔ بچوں کو زندگی میں مختلف مشکلات کا سامنا رہتا ہے، بیشتر اوقات والدین کی موجودگی کی بدولت ان مشکلات کا سد باب ہو جاتا ہے لیکن کئی ایسے مواقع ہوتے ہیں جب ان کی راہنمائی یا ان کے بچاؤ کے لئے کوئی بڑا موجود نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر اسکول

Read more

پوٹھوہاری ڈرامہ نگاری۔ عہد بہ عہد جائزہ

پوٹھوہاری ڈرامے اور ٹیلی فلموں کے ارتقاء اور مقبولیت میں پہلے پہل ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن، پھر پاکستان ٹیلی وژن اسلام آباد سنٹر اور بعد ازاں نجی ٹی وی چینلز اور پروڈکشن ہاؤسز نے اہم کردار ادا کیا ہے، پوٹھوہاری زبان و ادب کے ارتقاء اور فروغ کی اگر بات کی جائے تو ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن کا اس میں کلیدی کردار رہا ہے، ریڈیو پاکستان راولپنڈی سٹیشن یکم ستمبر 1950 میں قائم ہوا، اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر محمود

Read more

مولانا عبدالخالق ابابکی کی شاعری سید فضل الرحمن تنہا غرشین کی نظر میں

  یہاں پیش کردہ خیالات میرے اپنے نہیں ہے بلکہ میرے استادِ محترم و مکرم سید فضل الرحمن تنہا غرشین کے ہیں، جو ان کی ماسٹرز کے تحقیقی مقالے ”مولوی عبدالخالق ابابکی کا تعارف اور ان کی فکری و فنی جہتیں“ پر مشتمل ہے۔ یہ مقالہ 2016 میں برا ہوئی اکیڈمی کوئٹہ، پاکستان سے کتابی شکل میں شائع ہوا۔ یہ مقالہ چار مختلف ابواب میں تقسیم ہے۔ پہلے باب میں مولوی ابابکی صاحب کا ذاتی اور ادبی تعارف بیان کیا

Read more

دسمبر کی آخری رات

جامعہ کے ہاسٹل کا ماحول سردی کی شدت کے باوجود گرمجوشی سے بھرپور تھا۔ دسمبر کا آخری دن تھا، اور ہاسٹل کے تین قریبی دوست۔ عالمگیر، فیصل، اور امتیاز علی۔ اپنے کمرے میں بیٹھے تھے۔ باہر کہر چھایا ہوا تھا، اور اندر ایک پرانی ہیٹر کے گرد بیٹھ کر چائے کے کپ تھامے، وہ اپنے مخصوص انداز میں محفل سجائے ہوئے تھے۔ عالمگیر کو سب ہاسٹل میں ”سر“ کہہ کر بلاتے تھے۔ وہ عمر میں ان سب سے بڑا تھا

Read more

کامیڈی کی ٹریجڈی – مکمل کالم

ایک زمانہ تھا جب مزاح میں ہمارا طوطی بولتا تھا، پنجابی تھیٹر کے اداکار جب سٹیج پر نمودار ہوتے تھے تو حاضرین تالیاں بجا بجا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے تھے، فنکاروں کی ایک کہکشاں تھی جو اِس سنہری دور میں پیدا ہوئی، اِس کہکشاں کے ستاروں میں امان اللہ، سہیل احمد، البیلا، مستانہ، ببو برال، طارق جاوید، افتخار ٹھاکر، نسیم وکی، امانت چن، عابد خان، جواد وسیم، طارق ٹیڈی، سردار کمال اور ایسے کئی نام شامل تھے /ہیں

Read more

ہمہ یارانِ جامعہ، تلہ گنگ کا اے حمید اور بدلتا سماج – جنریشن زی

دسمبر اس لحاظ سے ثروت مند رہا کہ یکے بعد دیگرے نور احمد جانجھی صاحب بوساطت (محترمی اللہ نواز سموں ) ، تنویر ملک صاحب اور عثمان قاضی صاحب کی ’ہڈ بیتیاں‘ سرکاری قاصدوں کے ہاتھ سے وصول ہوئیں۔ گزشتہ ایک برس سے آس پڑوس والے ”کان بردوش“ ’ڈاکٹر صاحبہ کے نام ایک اور کتاب کا پارسل‘ سے بتدریج آشنا ہو رہے ہیں۔ ”دراز اور تیمو“ کے دور میں یہ بیگانگیٰ شوق! (اُن کی سرد آہیں موسم اور سماعت کو

Read more

راشد سیال: ایک تعزیت نامہ

تعزیت نامہ تو مر جانے والوں کے لیے لکھا جاتا ہے۔ جانتا ہوں کہ سب سوگوار ہیں۔ اہل خانہ بھی، دوست احباب بھی۔ سوگ، رنج، غم، الم، دکھ، افسوس اور ایسے سارے مترادفات ان کے نقصان سے کم ہیں جو تمہارے اچانک جانے کے بعد لاحق ہیں مگر وہ فنکار جو اپنے انمٹ قلمی نقوش چھوڑے، اس کے قلم کے نقش پل پل ہمارے ساتھ ہوں اور اپنے فن کے ذریعے مسلسل ہم کلام ہو، اسے آخر جدا کیوں کر

Read more

گل ورین اشاعت خاص اور مجلاتی صحافت

پشتو افسانہ نویس فہمیدہ کمال کی ادارت اور جوان سال نثر نگار آفتاب گلبن کی سعی تمام سے تسلسل اور جدت و تنوع کے ساتھ شائع ہونے والا پشتو سہ ماہی۔ ’گل ورین‘ ( گل پاش) گزشتہ کئی سالوں سے علم و ادب کی آبیاری کر رہا ہے۔ مردان سے شائع ہونے والے اس ادبی، علمی اور ثقافتی کتابی سلسلے کی خاص بات مختلف موضوعات جیسے کرونائی ادب، خواتین افسانہ نویس نمبر، اور دوسری متفرق اشاعتیں ہیں۔ موضوعات اور ادبی

Read more

کیا آپ اقبال حسن آزاد کو جانتے ہیں؟

میرے قارئین کو بخوبی اندازہ ہو گا کہ میں آج کے اہم ادیبوں کو سامنے لانے میں مگن رہتا ہوں۔ ہاں کبھی کبھار نوخیز لکھاریوں کے کام کو بھی ہائی لائیٹ کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔ مگر اس مضمون میں اردو کے ایک اہم افسانہ نگار کا شخصی و ادبی و پروفیشنل تعارف کروانے کی سعی کر رہا ہوں۔ جس سے ادب کے طلباء کو اس ادبی آواز کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اقبال حسن آزاد 26 جنوری

Read more

‎اپنی لِکھت میں بولتا تخلیق کار۔ مظہر عباس رضوی

دُکھ یا غم کی کیفیت میں غیر تخلیقی یا نیم تخلیقی شخص کے ہاں چیخ کی شدت فضا میں ارتعاش پیدا کر کے اِس کا حصہ بن جاتی ہے، جو ماحول کو سوگوار تو کرتی ہے لیکن اس کا تاثر تا دیر نہیں رہتا اور وہ ہوا کی لہروں کا حصہ بن کر جلد ختم ہو جاتی ہے اس کے برعکس تخلیق کار کے ہاں ایسی کیفیت میں دُکھ کا بیج فکر، جذبے اور احساس کے زیر اثر رہ کر

Read more

میٹھے اور ترش خیالات کی ابھرتی ہوئی شاعرہ کتاب: بہتی نظموں کے کنارے

تبصرہ نگار: بلال مختار مجھے اک عرصہ سے اشتیاق تھا کہ جو نوجوان شاعرہ صدف شاہد ہیں یہ باقاعدہ کیسا لکھتی ہوں گی۔ پنجاب کی تحصیل و ضلع نارووال سے تعلق رکھنے والی نوجوان شاعرہ کی کئی نظمیں جابجا ورچوئل دنیا میں پڑھنے کو ملتی رہی ہیں۔ مگر چوں کہ یہ اک کتابی صورت میسر نہ تھیں تو چند نظموں کو پڑھ کر رائے دینا ادبی دیانت داری کے دائرے سے باہر معلوم ہوتا تھا۔ حال ہی میں ان کی

Read more

مسخاکے بائی علی نعیم

علی نعیم بنیادی طور پر ایک مجسمہ ساز ہے۔ پچھلے ایک عشرے میں جنوبی پنجاب کے اہم چوراہوں پر جتنے بھی مجسمے نصب ہوئے، وہ سب اُسی کی دِین ہیں، لیکن اُس نے کبھی اِس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہیں کی۔ وہ ایک منکسر المزاج فن کار ہے، جو نام سے کہیں زیادہ اپنے کام سے وابستہ ہے۔ اُس کے مجسمے ہماری ثقافتی زندگیوں کا ایک انمٹ حصہ ہیں، مگر اُس نے کبھی یہ باور نہیں کروایا۔ سچ کہوں

Read more

فرہنگ مزاح آفتاب اقبال کا سابقہ خاتون اوّل کو حکیمانہ مشورہ

گزشتہ دنوں سابقہ خاتون اوّل سوشل میڈیا پر نمودار ہوئیں اور مذہبی کارڈ کا بے دریغ استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ”میرے شوہر کو ارض مقدس میں ننگے پاؤں چلنے کی سزا دی جا رہی ہے، شریعہ کا داعی ہونے کی وجہ سے سعودی عرب نے ہماری حکومت کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کیا“ ہم نے تو شوہر محترم سے یہ سن رکھا ہے کہ امریکہ بہادر نے حکومت کا بستر گول کیا تھا۔ کیونکہ مہاتما ان کی

Read more

خالد احمد: Sleeveless but Seamless Editor

یادش بخیر دلدار پرویز بھٹی مرحوم آفس کی سیڑھیاں چڑھ کر کمرے میں داخل ہوتے تو ہمیشہ ایک ہی نعرہ مستانہ بلند کرتے، ہاں بھئی کہاں ہیں آپ کے سلیو لیس ایڈیٹر؟ مکرمی خالد احمد صاحب اپنے کیبن کے دروازے سے جھانک کر کہتے، آئیے! آئیے! بھٹی صاحب کیسے ہیں؟ کیا خبریں ہیں؟ پھر دونوں صاحبان کے درمیان جاندار گفتگو شروع ہو جاتی اور ہم علم و ادب کے موتی چنتے رہتے۔ بات ہے ہفتہ وار آج کل کے دور

Read more

ڈاکٹر شعیب نگرامی

تقسیم ہند کے بعد میرے والدین تو پاکستان آ گئے لیکن ہمارے خاندان کے کچھ افراد نے ہندوستان ہی میں رہنے کو ترجیح دی۔ ان ہی میں میرے خالو مرحوم مولانا محمد اویس نگرامی بھی تھے جو ایک ممتاز عالم دین اور ندوتہ العلوم لکھنؤ میں شیخ التفسیر کے عہدے پر فائز تھے۔ مرحوم خالو مولانا محمد اویس نگرامی کا گھرانا علمی، ادبی اور مذہبی تھا۔ یوں تو ان کے سب ہی بیٹے باعلم تھے لیکن والد کی علمی وراثت

Read more

سموگ، لاہور، شادی اور حکومتی لطائف

کبھی موسم بدلنے کا انتظار شدت سے ہوا کرتا تھا کہ خنک ہواؤں کی چہل قدمی ذہنی سکون کا باعث ہوتی تھی۔ وقت دیکھتے دیکھتے قیامت کی طرح بدل گیا۔ فوگ کا رومان سموگ کی کالک میں بدل گیا لیکن یہ یک دم نہیں ہوا۔ ترقی کے نام پہ آئے زوال کی یہ تیس چالیس سالہ داستان ہے۔ یہ داستان پنجاب میں محو رقص ہے اور پنجاب کا دل اور نظام تنفس لاہور اس وقت دنیا کا سب سے فضائی

Read more

آخر مرزا صاحب نے کون سا چاند دیکھا؟

  طارق محمود مرزا کی کتاب میرے ہاتھوں میں ہے۔ جسے انہوں نے ’ملکوں ملکوں دیکھا چاند‘ کا نام دیا ہے۔ یہ بنیادی طور پہ اک سفرنامہ ہے جو انہوں نے چند ممالک یعنی ڈنمارک، سویڈن، ناروے اور قطر کے لینڈ اسکیپ پہ لکھا ہے۔ مرزا صاحب کا ادب بالخصوص سفرنامے کی دنیا میں یہ پہلا قدم نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے وہ سفرِ عشق، تلاشِ راہ، خوشبو کا سفر اور دنیا رنگ رنگیلی لکھ چکے ہیں۔ ہم سفر

Read more

چلتا پھرتا ٹی ہاؤس

یوں تو ریل کی سیٹی ہماری گھٹی میں شامل ہے کہ بابا مرحوم ایک زمانے ریل کے نوکر ہوا کرتے تھے۔ ہمارے گھر میں کوئی کلاک نہیں تھا۔ گاڑیوں کے ٹائم پر ناشتہ ہوتا۔ ماں آواز لگاتی اٹھو! ریل کار گزر گئی، تم ابھی سو رہے ہو۔ لنچ تیزگام کی آمد پر ہوتا۔ ڈنر خیبر میل کے ڈیپارچر پر۔ بچپن میں چھپن چھپائی ریل کے پرانے بوسیدہ انجنوں کے بیچ ہوا کرتی۔ خیر یہ تو غیر ضروری تمہید باندھی گئی

Read more

معاصر روسی ادب : رجحانات، مسائل، انداز

مارینا کراوچینکو اس وقت نقادوں کے لیے معاصر روسی ادب کو آنکنے کے سلسلے میں مسئلے در پیش ہیں۔ سماج کو جاننے سے متعلق غیر معروضیت در آئی ہے، اکثریت منفی تاثر لیے ہوئے ہیں اور کچھ میں استعداد ہی نہیں ہے۔ معاصر زبان سے متعلق نقطہ نگاہ محض ایک ”اسطور“ ہے۔ تو اس ضمن میں ایسا ہے کہ کچھ کہتے ہیں،۔ ”ہمارے ہاں آج ادب ہے ہی نہیں“۔ ”معاصر روسی ادب کا فنی معیار بہت پائیں ہے“۔ ”آج بہتر

Read more

آرٹ پر ایک مکالمہ – مکمل کالم

”اگر آرٹسٹ پولیٹکلی کمٹڈ نہیں ہے تو اُس کا آرٹ ریلیونٹ نہیں ہے، کیوں ڈاکٹر؟“ ”مجھے اِس بحث میں کیوں الجھا رہے ہیں؟“ ”سیریسلی!“ ”آرٹسٹ کسی بھی پولیٹیکل آئیڈیولوجی میں یقین رکھے یا کسی بھی پولیٹیکل پارٹی کا ممبر بن جائے یہ اُس کا نجی فیصلہ ہے، میں اِس کے اُس کے آرٹ کے ریلیونٹ ہونے کی شرط نہیں مانتا لیکن ایک بات طے ہے، اعلیٰ ادب اور آرٹ، بیسویں صدی میں تو خاص کر، کسی نہ کسی قسم کے

Read more

ڈر لگتا ہے تنہا سونے میں جی

نام عبید الرحمن عرفیت بڑے بھائی، عمر بہتر برس، رنگت آبنوسی (شیشم کی لکڑی کے رنگ کی) اردو زبان بولتے ہیں۔ سیٹھوں میں زندگی گزری۔ راز داری کے اہتمام اور کسی کام سے انکار نہ کرنے کی وجہ ان اہل زر کی نجی زندگی میں بہت دخیل رہے۔ کوئی مجرا، کوئی بسنت، سن ستر سے اسی کی دہائی میں تھائی لینڈ کا کوئی دورہ نہ چھوڑا۔ تھائی لینڈ میں یہ عیاشی کا بہترین دور تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب

Read more

جعلی خبروں کی مقبولیت: وجوہات اور معاشرتی اثرات

آج کے جدید دور میں، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی ترقی نے خبروں تک رسائی کو بے حد آسان بنا دیا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جعلی خبریں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ اس رجحان نے لوگوں کو غلط معلومات کی دلدل میں دھکیل دیا ہے، اور یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر لوگ جعلی خبروں کو اتنی دلچسپی سے کیوں سنتے اور شیئر کرتے ہیں؟ جعلی خبروں کی مقبولیت کی کئی وجوہات ہیں، جن

Read more

دلدار پرویز بھٹی

دلدار پرویز بھٹی پاکستان کے ایک معروف مزاحیہ اداکار، صدا کار، پیش کار، ٹی وی میزبان اور لکھاری تھے۔ ان کا تعلق گوجرانوالا سے تھا۔ وہ 1946 میں امرتسر میں پیدا ہوئے لیکن قیام پاکستان کے بعد اپنے والدین کے ساتھ گوجرانوالا میں آ بسے۔ سارے تعلیمی مراحل گوجرانوالا اور لاہور میں ہی طے کیے۔ انہوں نے انگریزی ادب میں ماسٹرز کیا ہوا تھا۔ وہ گورنمنٹ کالج گوجرانوالا کے سابق طالب علم تھے۔ کالج میں دوران تعلیم ہی ان کے

Read more

اپنے ہمزاد کے نام تین خطوط

” پہلا خط“ ( 16 مئی 2019 ) کبھی کبھی آداب تسلیمات کا تکلف غیر ضروری لگتا ہے اس لیے سیدھا مدعا بیان کرتا ہوں۔ میں آسمان نہیں ہوں اور نہ ہی آسمان کی بلندیوں تک میری رسائی ہے مگر یہ گستاخ اجنبی خواہشات مجھ سے میرا چین چھین لینے کو بے قرار ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ آسمان پر بچھائی گئی دھنک کو قینچی سے کاٹ کر کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دوں، اور یہ ٹکڑے مسلسل سفر

Read more

نوجوانوں کے سوالات

پچھلے دنوں آن لائن وقت گزاری کے دوران کچھ عوامی اجتماعات اور دوسرے میڈیا فورمز پر پاکستانی نوجوانوں کے ذہنی تجسس اور فکری پروسس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہ سوالات اور کمنٹس اپنی اپنی جگہ مزید سماجی اجتماعات (ورچوئل) کا باعث بنے۔ بلکہ کچھ سوالات نے تو پیالی میں کافی طوفان اٹھایا۔ سوالات، طوفان اور پیالی پر پہلے ہی خاصی بحث ہو چکی ہے لیکن پھر بھی۔ سب سے پہلے مجھے اب تک یہ بات سمجھ آئی ہے :

Read more

ہسپانوی ناول ’لاثار لیودے تورمیس‘ کا جائزہ

لاثار لیودے تورمیس ہسپانوی ادب کا ایک شاہکار ناول ہے جسے سولہویں صدی میں ایک نامعلوم ادیب نے قلم بند کیا۔ معلوم ریکارڈ کے مطابق پہلی بار یہ 1554 میں چھپا۔ 1559 میں ہسپانوی کلیسا کی عدالت نے ناول پر پابندی عائد کر دی کیوں کہ اس میں کلیسا کے نمائندوں کو ہدف تنقید بنایا گیا تھا۔ ناول نے اتنی مقبولیت پائی کہ اس کا ترجمہ دنیا بھر کی زبانوں میں کیا گیا۔ اس کا پہلا انگریزی ترجمہ 1576 میں

Read more

شہر میں اک چراغ تھا، نا رہا

لیفٹننٹ جنرل (ر) مصطفی کمال اکبر۔ ایک عظیم استاد، پاکستان کے چوٹی کے ماہر امراض چشم، اور پاکستان آرمی کے سرجن جنرل کے طور پر خدمات انجام دینے والی انتہائی قابل احترام شخصیت۔ کی وفات نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ایک عظیم نقصان ہے۔ ان کی زندگی بے شمار خوبیوں اور یادگار لمحات سے مرصع تھی۔ وہ پاکستان کا قومی سرمایہ تھے۔ ایم بی بی ایس کے دوران ہمیں ان کی شاگردی میں رہنے کا شرف حاصل

Read more

دشمن کی دیوار ڈھا دو، خواہ خود اس کے نیچے دب جاؤ

سرائیکی کی ایک مثال ہے، ”دشمن دی کندھ ڈھاوے بھانوے اپنے تے آوے“  مطلب دشمن کی دیوار گر جائے بھلے ہم پہ آگرے۔ یعنی دوسرے کا نقصان ہر صورت میں ہونا چاہیے ہم خود اس نقصان سے زیادہ متاثر ہوں اور خود کو زیادہ گزند پہنچا لیں۔ یہی حال ہمارے ملک میں ہر طرف ہے چاہے رشتے ہوں، دوستیاں، ورک پلیس، سیاست یا نظریات لوگ ایک دوسرے کی ٹانگ کھنچنے میں اس قدر کھو جاتے ہیں کہ یہ تک بھول

Read more

مشتاق احمد یوسفی کا پہلا عشق

یوسفی نے اپنی پوری زندگی میں پانچ عشق کیے۔ ہو سکتا ہے اور بھی کیے ہوں لیکن ان کو صیغہ راز میں رکھا ہو جیسے بعض نیک اور پارسا لوگ اپنی دوسری، تیسری اور چوتھی شادی کو صیغہ راز میں رکھتے ہیں کیونکہ وہ چھپ کر نکاح کرتے ہیں۔ چنانچہ یہ کہنا مناسب ہو گا کہ یوسفی نے اپنی میوس سے اپنے پانچ عشقوں کا برملا اظہار اور اقرار کیا اور زندگی میں اپنے مزاحیہ خاکوں اور مضامین کے پانچ

Read more

منظور حسین کرلو، رچناوی تہذیب کا امان اللّٰہ

تلمبہ رقبہ اور آبادی کے لحاظ سے ایک چھوٹا مگر تاریخی شہر ہے۔ لیکن اس نے علم، ادب اور فنون لطیفہ میں پاکستان سمیت دنیا بھر کو بڑے بڑے نام دیے ہیں۔ وہ عالمی مبلغ طارق جمیل ہوں، یا باکمال شاعر فیصل عجمی تلمبہ کسی بھی میدان میں پاکستان کے بڑے شہروں سے پیچھے نہیں ہے۔ معروف قوال عزیز میاں نے بھی اپنے عمر کا ایک بڑا حصہ تلمبہ میں گزارا ہے۔ موضع رام پور مگھہ اور تلمبہ کے درمیان

Read more

افسانہ: ”شک“

بہت دنوں سے سوچ رہی ہوں کہانی لکھوں، مگر ادھر اُدھر کی مصروفیت سے رات، دن میں اور دن، رات میں ڈھل جاتے اور کہانی میرے ذہن میں الجھن کی طرح ذہنی سکون خراب کرنے میں تلی ہوئی ہے۔ اب دل چاہ رہا ہے کہ وہ لکھ ہی ڈالوں جو دل و دماغ پر چھایا ہوا ہے۔ ویسے بڑا ہی کٹھن ہوتا ہے نہ، ان کہانیوں کو لفظوں کے پیرائے میں صفحات پر اتارنا، جو ہمارے اندر چل رہی ہوتیں

Read more

قراقرم انٹرنیشنل یونی ورسٹی گلگت میں بیتے لمحات

یہ ہمارے شباب اور عین جوانی کی بہار تھی۔ مارچ کا مہینا اور 2015 ء کا سال تھا۔ تاریخ ٹھیک سے یاد نہیں ’مگر وہ دل نشین لمحہ مجھے آج بھی یاد ہے‘ جب میں نئے ارادوں، نئے جذبوں، امیدوں اور حسرتوں کو لیے جامعہ قراقرم کی دہلیز پر پہلا قدم رکھا تھا۔ صبح دس بجے کا وقت تھا۔ سورج اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ طلوع ہوا تھا۔ گلگت میں مارچ کا مہینا بہت خوش گوار ہوتا ہے۔

Read more

ایکس ٹینشن اور اس کی اقسام (مزاح)

ہماری تاریخ ایکسٹینشن کے نشیب و فراز کا مجموعہ رہی ہے۔ مرغوب و مطلوب ہونے کے موجب بہت سے، حق، مشرف بہ ایکسٹینشن کے موجب، فائز، ہونے کی خاطر ”قمر بستہ“ رہے۔ تاہم ہر بار اس مقصد کے حصول کے لیے رحمان کے، فضل، کے حصول میں شدید مشکلات آڑے آتی رہیں۔ اصل میں ”ٹینشن، ڈی ٹینشن، ری ٹینشن، اَٹینشن اور ایکس ٹینشن ایک ہی سپیشی سے متعلق ہیں اور ایک ہی ڈنڈے یا ہتھوڑے کے پانچ رخ ہیں۔ تاہم

Read more