بلاول نے تو وہی کہا جو۔ ۔


بلاول بھٹو زرداری نے ایسا کیا کہہ دیا کہ حکومتی اراکین آپے سے باہر ہوگئے؟ یہی کہا کہ عمران خان کنٹینر سے اتر آئیں۔ ہاں تو اتر آنا چاہیے۔ بلاول نے یاد ہی دلایا ہے کہ آپ اب وزیراعظم ہیں۔ یہ بات تو کچھ عرصہ گھر بیٹھے عمران خان کو خاتون اول نے بھی کہی تھی کہ ”آپ وزیراعظم ہیں!“ خان صاحب نے یہ بات خود بھری بزم میں لوگوں کو چسکا لے لے کر سنائی بھی تھی۔ یہی بات بلاول نے کہی تو وزرا و معاونین اور مشیران وہ سیخ پا ہوئے کہ انہیں خود نہیں معلوم کہ ”بلڈ پریشر“ میں کیا کچھ کہہ گئے۔

بقول خواص آج کل اسمارٹ لاک ڈاؤن ہے، اتنا ہی سمارٹ ہے تو اسمبلی کا اجلاس کیوں نہیں بلا لیا جاتا۔ اب اس اجلاس کو کورونا نے روکا ہے یا اشرافیہ نے؟ یہی جو اپوزیشن کو آج پریس کانفرنسیں کرنی پڑ رہی ہیں اور ساری کابینہ کو بلاول سے دو دو ہاتھ کرنے پڑ رہے ہیں، یہ سب ایوان میں ہوجاتا، حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے سبھی مہرباں رند کے رند بھی رہتے اور ہاتھ سے جمہوری جنت بھی نہ جاتی۔

ویسے تو بڑے بڑے شہروں میں چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں مگر وزیر اعظم کو یہ کیا سوجھی کہ لاک ڈاؤن کا ’کریڈٹ‘ انہوں نے اشرافیہ کو دے دیا۔ جتنی معاشرتی علوم ہم نے پڑھی ہے اس کے مطابق تو پاکستان میں اشرافیہ کی موٹی موٹی چار اقسام ہیں، بیسویں گریڈ کا بیوروکریٹک اشرافیہ، یونیفارم اشرافیہ، بزنس اشرافیہ اور سیاسی اشرافیہ۔ اگر سرکار بتادیتی کہ ان میں سے یا ان کے علاوہ کسی اشرافیہ نے لاک ڈاؤن کرایا ہے تو وہ کون سا اشرافیہ ہے۔ کم از کم ہم جیسے موٹے دماغ والوں کو تو سمجھ آجاتی۔

ہمارے لئے جہاں لاک ڈاؤن کی تعریف اور فلسفہ ایک پہیلی بنا ہوا تھا اوپر سے یہ نئی ایک پہیلی کہ لاک ڈاؤن کرایا کس اشرافیہ نے ہے؟ اب ہم تو یہ کہنے کی جسارت نہیں کرسکتے کہ حضور سربراہ حکومت آپ ہیں اور نکیل اقتدار جناب کے دست مبارک میں، پھر ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

اجی اللہ مالک ہے، وبا ہے، تو ان شا اللہ جلدی ٹل جائے گی، سردست مل جل کر ملک و ملت کو اس بحران سے نکالئے مگر بیچ میں جو کبھی مراد علی شاہ پر غصہ آئے تو اٹھارہویں ترمیم کی ستاتی یادیں یہ بے وقت کی راگنی کس لئے؟ اللہ جانے اسد عمر کو کس نے کہہ دیا کہ آپ وہ ٹارزن ہیں جو سب کچھ کرلیں گے، جب اسد عمر اپوزیشن میں تھے اس کیلکولیٹر نے جو میلہ لوٹنا تھا، لوٹ لیا، وزیر خزانہ بن کر دیکھ لیا وہ کیلکولیٹر ٹکے کا نہ نکلا حالانکہ آپ تو حکومت بننے سے پہلے وزارت خزانہ کی مشقیں کرچکے تھے گویا قبل از وقت مصدقہ وزیر تھے۔

اب منصوبہ بندی و ترقیات و خصوصی اقدامات کا قلم دان ہے تو ازراہ کرم اس قلم کی روشنائی نہ اب خشک کروالیجیے گا، اوپر سے آپ نے اٹھارہویں ترمیم کی تند اور تانی کی چھیڑ خانی کو خصوصی اقدامات ہی سمجھ لیا ہے، حالانکہ آئینی امور کی فہم و فراست سے آپ کا وہ نزدیکی رشتہ بھی نہیں ہے جو فنانس سے تھا۔ خان صاحب کو آرام سے حکومت بھی کرنے دیجئے، کہ قلم دان بدلنے کے تکلفات ہی میں سارا وقت خرچ کر بیٹھیں؟

ویسے تو وزارتوں میں کثرت سے ادل بدل اس حکومت کا طرہ امتیاز ٹھہرا مگر اس عالمی کورونا وبا میں بھی مرکز کو وزیر صحت نہیں ملا۔ ہو سکتا ہے سوچ ہو کہ اٹھارہویں ترمیم کے تحت زیادہ تر امورصحت تو صوبوں کے پاس ہے لیکن دوسری جانب تعلیم کی طرف دیکھیں تو وہ بھی صوبوں کے پاس ہے مرکز میں شفقت محمود کے پاس کتنی ہے؟ چاہیے تو یہ تھا اس کورونا کنڈیشن میں کوئی وزیر ہوتا جو عوام سے حکومت و سیاست تک کو جواب دہ ہوتا، چھتری سے اترے معاون بے شک کوئی خصوصی ہوں یا مشیر انہیں عوامی جذبات اور حالات کا وہ سامنا نہیں کرنا پڑتا۔

اس سے قبل اطلاعات میں بھی تو محض معاون سے کام چلایا جا رہا تھا پھر یکا یک معاون کے سنگ سنگ ایک وزیر بھی آگئے۔ خیر وقت ہی بتائے گا کہ شبلی صاحب کس قدر فراز ہوتے ہیں یا نشیب تاہم جنرل (ر) عاصم باجوہ کی تو ہر سو ”تعریفیں“ ہی ہیں۔ لیکن جس وزارت کے امور انجام دینے کی ان دنوں شدید ضرورت تھی، اور اس وزارت میں تغیر کا تصور بھی نہیں ہے اور وزیر کا تعلق بھی سندھ سے، مگر کام کہیں دھیلے کا نظر نہیں آتا، حالانکہ سندھ وفاق تناؤ میں تو کوآرڈینیشن دکھائی دینی چاہیے تھی لیکن معاملہ صفر۔ آخر وزیر بین الصوبائی رابطہ فہمیدہ مرزا ہیں کہاں؟

یہ تغیر، وہ بے بسیاں گنگناتی ہیں آج نہیں تو کل، بہرحال اس کے کوئی اور چارہ نہیں، کہ رفتہ رفتہ ہم قومی حکومت کی طرف سفر کریں۔ چہ جائیکہ کورونا وبا نے حکومت کو جہاں مضطرب ثابت کیا ہے وہاں اس کے معاشی بھرم بھی بہت رہ گئے ہیں، حکومت کی روز اول سے ڈوبتی معیشت کو آئندہ بحث میں ایک کورونا کور میسر آگیا ہے۔ ستاروں کی گردش بتاتی ہے کہ بوجہ قومی حکومت اس میں سربراہ حکومت محض علامتی ہوگا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کیا ن لیگ اور پیپلزپارٹی اس کا حصہ ہوں گے؟

اس کا جواب بہت سادہ اور آسان ہے کہ، ہرگز نہیں۔ میاں نواز شریف بیماری اور ’جلاوطنی‘ کے باوجود اپنے بیانیہ میں ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔ کوئی سمجھے کہ شہباز شریف اپنی لچکدار طبعیت کے سبب یہ میٹھا زہر نگل سکتے ہیں، تو یہ بھی غلط ہے، میاں گر پنجاب مانگے تو کوئی دے گا؟ پنجاب تو کسی بھاری بھرکم تحریکی لیڈر کو نہیں ملا۔

اسی طرح آصف علی زرداری کیوں قومی حکومت کی طرف رخ کریں گے کیونکہ ان کے پاس ایک جاندار سندھ حکومت ہے جس کے اوپر مرکز کی طرف سے ایک ناتجربہ کار اور غیر سنجیدہ گورنر مسلط ہے جس کا ایسے کارکن کی طرح کا کردار ہے جس کا جب جی چاہے وہ سوشل میڈیا پر ایک بیان داغ دے یا کسی مخالف بیان پر ایک آدھ کمنٹ فائر کردے، اور ان دونوں صورتوں میں کسی خاص دلیل کا تکلف بھی نہ کرے۔ ۔ ۔ کیوں لگتا ہے پہلے ہی ”قومی حکومت“ ہے، نہیں تو بن جائے گی؟

کوروناکنڈیشن خوفناک صورتحال اختیار کرچکا ہے، ٹیسٹ سسٹم ہمارا ناکارہ، اسپتالوں میں ڈاکٹر تک لقمہ اجل بن رہے ہیں، ضرورت اس امر کی تھی کہ بلدیاتی حکومتیں ہوتیں اور اختیارات و ذمہ داری سے کام کرتیں مگر یہاں مرکز ایک صوبے کے پیچھے پڑا ہے جس کے اس وبائی کام کی قومی و بین الاقوامی سطح تک پذیرائی ہے۔ ہاں، بلاول نے گر استعفیٰ کی بھی بات کر ہی دی ہے، تو آپ بڑے بنیں، نہ دیں استعفیٰ مگر اسٹیٹس مین کا تاثر تو دیں!
پھر کہتے ہیں بلاول۔ ۔ ۔ ۔

Facebook Comments HS