نا تجربہ کاری یا نا اہلی
دنیا بھر میں ناتجربہ کار حکمران آتے ہیں اور اس میں کوئی قباحت بھی نہیں ہے۔ کینیڈا فرانس کے موجودہ حکمران اس کی بہترین مثالیں ہیں۔ لیکن جب ناتجربہ کاری کے ساتھ نا اہلی شامل ہو جائے تو یہ لمحہ فکریہ ہے۔ خان صاحب اپنی نا اہلی کو کب تک ناتجربہ کاری کی مد میں چھپاتے رہیں گے۔ بقول ان کے انھوں نے بائیس سال جدوجہد کی اور پچھلے پانچ سال ٹکا کے اپوزیشن کی۔ مگر جو کام کرنے کا تھا وہ نہیں کیا۔ اپنا ہوم ورک کیا ہوتا۔ شیڈو گورنمنٹ بنائی ہوتی۔ آج تجربات کرنے سے بہتر تھا کل کے تجربات سے سیکھا جاتا۔
ان کی حکومت دیکھ کے ابھی بھی یہی محسوس ہوتا ہے کہ کوئی منچلا ڈرائیونگ سیکھ رہا ہے جو کبھی دائیں مارتا ہے تو کبھی بائیں ٹکرا دیتا ہے۔ جو بریک دبانا چاہتا ہے تو اس سے ایکسیلریٹر دب جاتا ہے۔ توجہ سامنے کرتا ہے تو بیک ویو مرر میں دیکھنا بھول جاتا ہے۔
خان صاحب ایک کٹا باندھتے ہیں تو دو تین اور کھل جاتے ہیں۔ بلکہ اب تو ان کی بے بسی اور بیکسی عیاں ہوتی جا رہی ہے۔ بدحواسی دیکھ کے اندازہ ہو رہا ہے کہ خان صاحب تو کمبل کو چھوڑتے ہیں مگر اب کمبل ہی شاید خان صاحب کو نہیں چھوڑ رہا۔ کورونا کے بعد تو اپوزیشن بغلیں بجا رہی ہے کہ اس بار صحیح بندہ قابو آیا۔ جو بیچارہ نہ اگل پا رہا نہ نگل پا رہا۔ نہ پرفارم کر پا رہا ہے نہ اسے پرفارم کرنے دیا جا رہا ہے۔
خان صاحب کے اولیں فیصلوں سے ہی ان کی ان کی نا تجربہ کاری سے زیادہ ان کی غیر سنجیدگی کا اندازہ ہو رہا تھا۔ جب انھوں نے ٹو آئی سی یعنی وزیر اعلیٰ پنجاب کے سنگھاسن کے لیے ایسے شخص کا انتخاب کیا جو بائیس سالہ جدوجہد میں ان کا ہمرکاب ہی نہیں تھا۔ جسے جب یہ خبر سنائی گئی تو اس کا اپنا تراہ نکل گیا۔ خان صاحب کے لیے یہ عہدہ بے شک مذاق ہو گا مگر سب جانتے ہیں کہ وزیراعظم کی کرسی کے بعد اگر کوئی اہم ترین کرسی ہے تو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہے۔ اور جو آدمی اس پہ بٹھایا گیا ہے اس کی حالات حاضرہ پہ نظر نہیں ہے جو بیوروکریسی کے داوپیچ نہیں واقف نہیں ہے۔ جسے مختلف محکموں اور ان کے بنیادی ڈھانچے کی شد بد نہیں تھی۔ اور اس فیصلے پر بغلیں بجانا کہ بزدار تبدیلی کا نام ہے اس نا اہلی کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
اور اس نا اہلی کا مظاہرہ خاص و عام دیکھ چکے۔ بیوروکریسی بے قابو۔ حلیف ناراض۔ محض ڈیڑھ سال میں بیوروکریسی کے تین سو سے زیادہ تبادلے آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی نہیں ہیں؟
یہی کچھ وفاق میں ہو رہا۔ وزارت اطلاعات میں تیسری دفعہ تبدیلی اور پہلی دفعہ معنی خیز تبدیلی آ چکی ہے۔ اور اب کے ذرا زور سے آئی ہے۔ اور اندر کی خبر رکھنے والے ہونٹوں پہ انگلی رکھتے نظر آ رہے ہیں۔
پانچ برس بالخصوص اور بائیس برس بالعموم احتساب کا چورن بیچتے بیچتے خان صاحب جب بیٹنگ کے لیے آئے ہیں تو وہ سنبھل یا سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ کس گیند کو کیسے ہینڈل کرنا ہے۔ حکومت کے لیے کرکٹ کی اصطلاحات متعارف کروانے کا سہرہ بجا طور۔ پر ان کے سر ہح مگر شاید انھیں نہیں پتہ تھا کہ کرکٹ کھیل ہے اور حکومت شاید کھیل نہیں ہے۔
میدان میں گیارہ کھلاڑیوں کو ہینڈل کرنا ہوتا ہے۔ جہاں دو تین بھی اچھا کھیل جائیں تو کام بن جاتا ہے۔ اور یہ بیس کروڑ عوام کا ملک ہے۔ اور تیاری کا یہ عالم ہے کہ جیب گندے انڈوں سے بھری ہوئی ہے۔
اور جن کے بارے بڑے بلند بانگ دعوے فرماے وہ ایک اوور بھی نہ کھیل پائے۔
جب اکتوبر 2012 میں موصوف مینار پاکستان میں جلسہ فرما رہے تھے اور قوم کو اس وقت کی معیشت کی بدحالی کا بھاشن سنا رہے تھے تب یہی والے حفیظ شیخ وزیر خزانہ تھے۔ یعنی ان سے جان چھڑوانے کا خواب دکھایا گیا۔ ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ حفیظ شیخ نے معیشت کا بیڑا غرق کر دیا۔ اب وہی خان صاحب کے مشیر خزانہ ہیں۔
یہ واحد کپتان ہیں جنھیں فیلڈ کوئی باہر سے سیٹ کر کے دے رہا ہے وزیر خزانہ کوئی لگا کے دے رہا۔ وزیر اطلاعات کا حکم کہیں اور سے آ رہا۔
چینی بحران بالخصوص جہانگیر ترین پر آپ کیسے قابو پا سکتے ہیں۔ سات آٹھ سال اس نے آپ پہ انویسٹ کیا ہے۔ پیسہ پانی کی طرح بہایا۔ اور آپ ایسے عاقبت نا اندیش تھے کہ اس کے جہاز کو رکشے کی طرح دوڑاتے رہے اور لمحہ بھر کو نہیں سوچا کہ آخر یہ اتنا بے لوث اور مہرباں کیوں ہے؟ نا اہل ہونے کے بعد بھی اس کی کرم نوازیوں میں فرق نہیں آیا۔ اب وہ پورے کر رہا ہے تو برداشت کرو۔ یہ وہ ہڈی ہے جسے اگل سکتے آپ نہ نگل سکتے۔ وہ انکوائری رپورٹ کیا ہوئی؟ کدھر گیا احتساب والا چورن؟
انکوائری کروائی داد سمیٹی۔ اب بہانے ڈھونڈے جا رہے ہیں کہ کیسے اس کو شائع کرنے میں تاخیر کی جائے۔ عثمان بزدار، حفیظ شیخ، فردوس عاشق اعوان۔ ندیم افضل چن۔ پھر کہتے ہیں نئی اور ناتجربہ کار ٹیم ہے۔ اس لیے پرفارم نہیں کر رہی۔
اب صاف نظر آرہا کہ وزیراعظم کس قدر بے بسی کا شکار ہیں۔ جو جو کہا۔ ایک ایک بات سے پیچھے ہٹنا پڑ رہا۔ ایک کروڑ نوکریاں۔ پچاس لاکھ گھر۔ تین سو ڈیم۔ اب تو وہ خواب بھی بھول گئے جو کبھی دکھاے گئے تھے۔
لاک ڈاؤن کے معاملے میں یہ بات کھل کر سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم کس قدر قوت فیصلہ سے محروم ہیں۔ جزوی لاک ڈاؤن سے کاروبار بھی ٹھپ ہوگئے۔ معیشت پہ کاری ضرب لگی۔ دوسری طرف لاک ڈاؤن کا جو مقصد تھا وہ بھی پورا نہ ہوا۔ سوشل ڈسٹینسنگ بھی ممکن نہ ہو سکی۔ اور کیسز بڑھتے جا رہے۔
اور ہو سکتا ہے کہ فائنل حل مکمل لاک ڈاؤن ہی ہو۔ اور وہی ہمیں کرنا پڑے۔ یعنی سو جوتے اور سو پیاز والا معاملہ نہ ہو جائے۔
جس طرح بیرون ملک ٹریفک بند ہے۔ اگر ہم شروع میں مکمل لاک ڈاؤن میں چلے جاتے تو آج کیسز کی تعداد ایک تہائی ہوتی۔ جب کرونا سے نمٹنے کا وقت آیا ہمیں غربت یاد آگئی۔
حیران ہوں پہلے ڈیڑھ سال میں سب سے زیادہ کڑا اور بے رحم وقت غریب پہ آیا۔ جب کرونا کا مقابلہ کرنا تھا تو غریب یاد آگئے۔ اگر یہی درد پہلے دن جاگا ہوتا تو مجھے یقین ہے کہ غربت کم ہوتی یا نہ ہوتی مگر غریب مزید مشکلات کا شکار نہ ہوتے۔ جس کے آس پاس فردوس عاشق اعوان، مراد سعید، فیصل پاڈا جیسے تھنک ٹینکس ہوں۔ اس سے ایسے فیصلوں کی ہی توقع کی جا سکتی ہے۔
اقتدار میں آ کر بارہ تیرہ وزیر رکھنے کا دعویٰ کرنے والا ہر جیتے ہوئے کو وزیر اور ہر ہارے ہوئے کو مشیر یا معاون خصوصی بنا چکا ہے۔ کابینہ کی اتنی کرسیاں ہوتی ہیں کہ وزیراعظم کو دوربین سے دیکھنا پڑتا ہے۔ اور اب ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ نا اہلی اپنی۔ گورننس اپنی خراب اور ذمہ اٹھارہویں ترمیم کا۔
وہ جی صوبوں کے اختیارات زیادہ ہیں تو اس وجہ سے مسائل حل نہیں ہورہے۔ لاٹ صاب دو صوبوں میں آپ کی حکومت ہے جب سب سے بڑی سیٹ پر محمود خان اور عثمان بزدارے جیسے سائیں لوگوں کو بٹھائیں گے امید ہے کہ مسائل ویسے ہی دم دبا کے بھاگ جائیں گے۔ حکومت سے پہلے ہی یوٹرن کے ماہر تھے۔ اب حکومت میں آنے کے بعد بھی رفتار نہیں بدلی۔


