عارضی دل کا عارضہ نہ ہوا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وضاحت لازم :زیر مطالعہ کہانی انسٹاگرام پر #HumansofNY کے ہیش ٹیگ تلے شائع ہوئی اور اسے ہمارے سمیت دنیابھر میں 5,33,327 پسند فرمایا۔ اس لیے اسے ہم نے حقائق اور جذبات کے بنیادی اہتمام کو وفاداری سے نبھاتے ہوئے اپنے رنگ میں لکھا۔ سیف الدین سیف نے کہا تھا

سیف انداز بیاں رنگ بدل دیتا ہے
ورنہ دنیا میں کوئی بات نئی بات نہیں

٭٭٭          ٭٭٭

آئیے آپ کو ان ایام قرنطینہ میں ایک چھوٹی سی، بے ضرر، مگر امید افزا کہانی سنائیں۔

ہمارا نام بھی اس داستان میں کہیں نہ کہیں آجائے گا۔ آپ ہر بات پر پی ٹی آئی سرکار اور جج نثار کی طرح جے آئی ٹی کا کٹا نہ کھولیں۔ ایسی باتوں میں نکلتا کچھ نہیں۔

اس سخت چتاؤنی کے بعد ہم آپ کو کام کی ایک بات بتا دیں۔ ہمارے نزدیک پیار صرف دو ہی اقسام کا سچا ہوتا ہے۔ باقی اقسام کے پیار کو آپ سچا سمجھیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں۔ اب آپ کے دماغ میں وہ سیلی بریٹیز والے افیئر ہیں تو آپ کا اللہ ہی حافظ ہے۔ کیسے آپ کو سمجھایا جائے کہ شسمیتا سین کے درجن بھر جانے مانے معاشقے زبان زد میڈیا رہے ہیں۔ عاشق نمبر آٹھ وسیم اکرم سے تو ان کا پیار انہیں اسلام کے اتنا قریب لے آیا تھا کہ انہوں نے ریورس سؤئنگ کرنا بھی سیکھ لیا تھا۔ بس کوئی لمحہ جاتا تھا کہ وہ عبایا اور حجاب پہن کر لاہور موو کرجاتیں۔ انہوں نے اس چکر میں امیتاز کھتری اور مدثر نامی دو پرانے مسلمان بوائے فرینڈ زکی خطاؤں کو بھی معاف کردیا تھا۔ نصر من اللہ فتح قریب تو وہ کپتان کی چندہ مہم میں لاہور میں پڑھتی تھیں۔

کپتان ان دنوں کسی کے حبالہ ءنکاح سے دوبارہ نہ بندھے تھے۔ ممکن ہے سوچتی ہوں گی کہ کیا پتہ دوران ٹیلی تھان ہی اللہ کی مدد آجائے۔ چندہ ہسپتال کا کپتان میرا۔ کیا پتہ اللہ کب کسی کا دل پھیر دے۔ انسان کا دل اور دن پھرنے میں کتنے دن لگتے ہیں۔ یہ نہ ہوا تو وسیم کی رفاقت میں سورہ اخلاص یاد کرنا شروع کر دیا۔ آدھی یاد ہوگئی تھی تو وسیم بھائی کپڑے دھونے کے صابن کے چکر میں پڑ کر آسٹریلیا نکل گئے۔

پوری سورہ انہوں نے عاشق نمبر بارہ روحان شال کی رفاقت میں ایک لائیو ویڈیو میں سنائی۔ اب اس قدر اآوک جاوک والے افئیر نہیں سنبھلتے اور اس کی جگہ اداکارہ تبو اور ناگر جنا اورسلمان اور ایشوریا رائے والا پیار دماغ میں کدکڑے مارتا ہے تو ان کا انجام بھی آپ کے سامنے ہے۔ اسے بس طول ہوس سمجھیں۔

میں بتاتا ہوں کہ اصلی پیار ماں کا اپنی اولاد کے ساتھ ہوتا ہے۔ جو اکثر یک طرفہ ہوتا ہے۔ ماں دنیا سے رخصت ہوجاتی ہے تو اولاد انگلش والی گڈی گڈی بن جاتی ہے۔ اس سے ہٹ کر بیوی والا پیار ذرا بھرپور ہوتا ہے، ۔ یہ پیار کم یاب توہے، نایاب نہیں۔

اصل میں محبت کو ایک اچھی فلم کی طرح بہت سے سیٹ، لوکیشن، میوزک اور واقعات درکار ہوتے ہیں۔ ایک کہانی کا تھریڈ درکار ہوتا ہے جس میں پیار کی مالا کے کلچرڈ پرلز پروئے جاسکیں۔ آپ اگرسچی مچی عورت ہیں تو یہاں میں آپ کو ایک کام کی ٹپ دے دیں۔ ویسے ہمیں قسم سے نہیں پتہ کہ آپ کا جینڈر کون سا ہے۔

فیس بک اور نادرا میں پاکستانی زیادہ تر اپنے آپ کو صرف Binary انداز میں رجسٹر کرتے ہیں۔ مذکر یا مونث۔ ایسے میں جو ٹرانس جینڈر ہوتے ہیں وہ بھی سرکار کی رعایت اور عورتوں کی غفلت کا فائدہ اٹھا کر خود کو زویا سلائی والی باجی، عنبر پارلر والی باجی، مہک باجی اور باجی گڈ۔ ٹائم فیصل آباد والی کے طور پر رجسٹر کراتے ہیں۔

ارے ہاں وہ ٹپ جو ہم نے آپ کو عورت مان کر دینی تھی۔ وہ یہ ہے کہ ہم مرد لوگ جب جسم کی پیاس بجھ جائے تو ایسے ظالم ہیں کہ انجلینا جولی، مڈونا، اور پریانکا چوپڑہ تک کو بھول جاتے ہیں۔ آپ کس گمان میں ہیں۔ وہ اگلا موڑ جدائی کا جسے آنا ہے جو کہ آئے گا، وہ جب آنے والا ہوتا تو ہم کم بخت مردوئے ناصر کاظمی کے دیوان سے فال نکالتے ہیں اور وہاں سے ایک ہی شعر بطور یقین دہانی برآمد ہوتا ہے۔

یہ کیا کہ اک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

آئیں کہانی کی طرف بڑھتے ہیں۔ میرا ارادہ پیار کا مینول لکھنے کا نہیں۔

کلیئر (Claire) سے میری ملاقات کالج کے ابتدائی برسوں میں ہوئی۔ وہ پہلی لڑکی تھی جسے میں ڈیٹ پر لے گیا تھا۔ اس سے پہلے بھی مجھے کچھ لڑکیاں اچھی لگی تھیں۔ ان سے پینگیں بڑھانے کی میری محنت اس لیے رائیگاں گئی کہ مجھ میں کوئی ایسی بات نہ تھی جس کو کوئی لڑکی پسند کرتی۔ لکس بھی زین ملک اور ڈینزل واشنگٹن جیسے نہ تھے۔ نہ ہی میں کالج میں کھلاڑی کے طور پر پہچانا جاتا تھا کہ ٹیم ایونٹس میں کوئی موقع ملتا۔ نہ بطور آرٹسٹ یا بینڈ گروپ کے ممبر کے طور پر میری کہیں کوئی انٹری تھی۔ بس لے دے کر میں پڑھنے لکھنے میں ذرا ہشیار تھا۔

کلیئر (Claire) کی مجھ میں جوابی دلچسپی میرے خود کے لیے بھی باعث حیرت تھی۔ ہمارے ملک امریکہ اور کینیڈا میں بھی اسکولوں میں ایک پروگرام ہوتا ہے جسے ہم  Advanced Placement (AP) کہتے ہیں۔ اس کی وجہ سے کالج میں چند اہم مضامین کے لیے تیاری میں آسانی ہوتی ہے۔ سچ پوچھیں تو میں نے A+ کی طرف بھی کوئی دھیان نہیں دیا۔ مجھے یقین نہ تھا مگر اللہ کا کرنا کیا ہوا کہ میرا نتیجہ بہت اچھا آیا۔

میری محنت کا نتیجہ یہ نکلا کہ مجھے ایک بہترین لاء کالج میں داخلہ مل گیا۔ مجھے اس دن لگا کہ میں ایک کامیاب انسان ہوں۔ بس دنیا کا میرا اب تک سلوک اچھا نہ تھا۔ کلئیر سے میری شادی ہوگئی۔ ہم دونوں ایک دوسرے کو پا کر بہت خوش تھے مگر شاید تقدیر کو ہماری یہ خوشیاں منظور نہ تھیں۔ ایک دن کلئیر نے ضد کی کہ لانگ ویک اینڈ پہ چلو، امی ابو سے مل کر آ جائیں۔ ایک مصروف ہائی وے پر چلے جاتے تھے کہ اچانک ہمارے ساتھ کچھ ہوا اور ہمارا ایکسیڈنٹ ہوگیا۔ بہت برا ایکسیڈنٹ۔ مجھے ہوش آیا تو لگا بتایا گیا کہ دماغ پر چوٹ آئی ہے۔ ایک ٹیومر بن گیا ہے۔ آپریشن ہوگا۔ ڈاکٹر نے بہت آہستگی سے بتایا کہ ممکن ہے صحت یاب ہونے پر یادداشت کے کچھ حصے سے مجھے محروم ہونا پڑے۔ آپریشن کے بعد مجھے لگا معاملہ زیادہ گمبھیر ہے۔ کمپیوٹر کی طرح میرا برین بھی ہینگ ہوجاتا ہے۔ ایک ہی سوال میں کئی مرتبہ کرتا ہوں۔ مجھے ایک دن پہلے کا مکالمہ یاد نہیں رہتا۔ میرا حال یہ ہوا کہ بار کے امتحانات میں میں جو بھی پڑھتا وہ بھول بھول جاتا تھا۔ دکھ ہوتا کیوں کہ یہ سب مجھے آتا بھی تھا میں اسے بہت محنت سے یاد بھی کرتا تھا۔ سات سال سے مجھے خودکو یہ باور کرانے میں میرا حشر ہوگیا کہ میرے ساتھ نہ صرف ایک بھیانک حادثہ تو ہوا ہی ہے۔ میں زندگی کے کئی معاملات میں بہت حد تک سست رفتار بھی ہوگیا ہوں مگر ویسے میں بہت نارمل ہوں، میری ذہانت بدستور پہلے جیسی ہی ہے۔ اللہ نے وہ دن دکھایا کہ میری جدوجہد رنگ لائی اور بالآخر میں نے وکالت کا امتحان پاس کرلیا

کلئیر نے اس دوران ایک فرشتے کا روپ دھار لیا۔ میں جب جب میں ہمت ہار جاتا تھا تو وہ مجھے قائل کرتی تھی کہ کوئی بھی انسان پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اس پرفیکشن کی ضرورت بھی نہیں۔ ہماری خامیاں ہی اصل میں ہماری زندگی کی اصل رونق ہیں۔ وہ ہمیں جینے کا جواز، جدوجہد اور مقصد فراہم کرتی ہیں۔ آپ کو شاید علم نہ ہو کہ جب آپ کسی ناگہانی حادثے کا شکار ہوتے ہیں اور آپ کی زندگی کا مقصد الجھ جاتا ہے تو ہم خود ہی اپنے سب سے بڑے دشمن بن جاتے ہیں۔ انکار ذات اور خود ترسی ہر وقت آپ پر ایک آسیب کی طرح طاری ہوتی ہے۔ ہم یہ سوچتے ہیں کہ جب خالق ہی نے اس بیماری یا حادثے کے ذریعے ہم سے اتنی بڑی زیادتی کی تو اس کو کیوں اتنا سینت سنبھال کر رکھیں۔ ہم بھی احمد فراز کے لفظوں میں

زندگی تیری عطا ہے تو یہ جانے والا
تیری بخشش تیری دہلیز پر دھر جائے گا

اسے آپ غیرعلانیہ، سست رو خود کشی کی کوشش سمجھیں۔

جب کبھی میں نے ایسا سوچا کہ میں ایک ناکام شخص ہوں، اب میرے لیے جینے میں کوئی دل چسپی نہیں کلئیر نے ہی مجھے سمجھایا کہ زندگی کا مطلب means and averages نہیں۔ ریاضی کا یہ کلیہ زندگی کے معاملات میں لاگو نہیں ہوتا۔ ہم اوسط اور کم ترین نتائج کی بنیاد پر زندگی نہیں جیتے۔ زندگی اس سے بہت بڑا نظریہ ہے۔ یہ اوزان کا کھیل نہیں بلکہ ایک جہد مسلسل ہے۔ اس کا اصل چیلنج نہ دکھائی دینے والے خوابوں کو حقیقت کا روپ دینا ہے۔ وہ جتاتی رہتی تھی کہ مجھ سے وہ اس لیے قریب نہیں کہ میں ذہنی طور پر عام مردوں سے بہتر ہوں یا میں ایک وکیل ہوں بلکہ وہ مجھے اس لیے چاہتی ہے کہ میں ایک اچھا انسان ہوں۔ ایک اچھا باپ ہوں۔ ان ہی وجوہات کی بنیاد پر وہ مجھے پیار کرتی ہے۔ ہم آٹھ سال سے رشتہء ازدواج میں جڑے ہیں۔ آج ہماری شادی کی سالگرہ ہے۔ اس کا خیال ہے کہ یہ کہانی لکھ کر ہم دنیا کو اپنی خوشیوں میں شریک کر سکتے ہیں۔ وہ لوگ جو میری طرح کسی آفت ناگہانی کی وجہ سے زندگی کی دوڑ میں کسی اور ٹریک پر چلے گئے انہیں میں بتاؤں کہ کس طرح دماغ کی سرجری کے بعد میں نے قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کا پیشہ اپنا یا۔ اس کا خیال ہے کہ یہ سب شئیر کرنے سے یہ جو ایک بوجھل، بے یقین سا عرصہ تنہائی آسیب بن کر دنیا پر مسلط ہے اس میں محبت کا ایک ماہ منور کچھ دیر کو چہرہ کراتا ہے تو آنے والے دنوں سے ایک امید سی بندھ جاتی ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اقبال دیوان

محمد اقبال دیوان نے جوناگڑھ سے آنے والے ایک میمن گھرانے میں آنکھ کھولی۔ نام کی سخن سازی اور کار سرکار سے وابستگی کا دوگونہ بھرم رکھنے کے لیے محمد اقبال نے شہر کے سنگ و خشت سے تعلق جوڑا۔ کچھ طبیعتیں سرکاری منصب کے بوجھ سے گراں بار ہو جاتی ہیں۔ اقبال دیوان نےاس تہمت کا جشن منایا کہ ساری ملازمت رقص بسمل میں گزاری۔ اس سیاحی میں جو کنکر موتی ہاتھ آئے، انہیں چار کتابوں میں سمو دیا۔ افسانوں کا ایک مجموعہ زیر طبع ہے۔ زندگی کو گلے لگا کر جئیے اور رنگ و بو پہ ایک نگہ، جو بظاہر نگاہ سے کم ہے، رکھی۔ تحریر انگریزی اور اردو ادب کا ایک سموچا ہوا لطف دیتی ہے۔ نثر میں رچی ہوئی شوخی کی لٹک ایسی کارگر ہے کہ پڑھنے والا کشاں کشاں محمد اقبال دیوان کی دنیا میں کھنچا چلا جاتا ہے۔

iqbal-diwan has 21 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *