رشوت لینے والوں کا طریقہ واردات


یہ بات تو سب جانتے ہیں کہ رشوت خور بڑی مہارت سے آپ کی مجبوری، مقام اور پوزیشن کا اندازہ لگاتے ہوئے آپ کے جائز کام کو کرنے کے لئے آپ سے معاشی فوائد حاصل کرتا ہے۔ حالانکہ وہ جس سیٹ پر بیٹھا ہے، وہاں اسے آپ کا کام کرنے کی تنخواہ بھی ملتی ہے اور یہ اس کا فرض بھی ہے۔ لیکن وہ حیلے بہانوں سے آپ کے سادہ سے کام کو پیچیدہ بنا دے گا یا کم از کم یہ ظاہر کرے گا کہ کام اتنا آسان نہیں۔ وہ آپ کی اُس وقت تک عزت نہیں کرے گا جب تک اسے اس بات کا یقین نہ ہوجائے کہ اسے آپ رشوت دینے لگے ہیں۔

کچھ سال پہلے مجھے جنوبی پنجاب کے ایک شہر میں ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفس جانا تھا۔ رمضان المبارک کا مہینہ تھا۔ اسسٹنٹ اکاؤنٹس افسر کو اپنے آنے کا مقصد بتایا۔ موصوف کوئی چالیس کے ہوں گے ۔ ان کی توند دیکھ کر اندازہ ہوا کہ ماشا اللّہ کھانے پینے کے شوقین ہیں۔ فرمانے لگے کہ پہلے فلاں ڈاکو منٹ لے کر آئیں۔ میں نے رکشہ کروایا اور دوسرے ادارے میں کلرک سے مطلوبہ کاغذ لے کر دوبارہ ان کے سامنے پیش ہوگیا۔ انہوں نے اتنی جلدی واپس آنے پر کچھ ناگواری کا اظہار کیا۔ پھر بولے کہ اب فلاں فلاں اور فلاں کاغذ لے آئیں۔ یہ کام چونکہ مشکل تھا اس لئے ان کا خیال تھاکہ میں جلد ہی ”راہ راست“ پر آ جاؤں گا۔ مگر میں نے پھر رکشہ کیا اور دو گھنٹے کی تلاش بسیار کے بعد مطلوبہ کاغذات لے کر پھر ان کے سامنے تھا۔ اب کی بار انہیں اور بھی غصہ آیا۔

روزے کی وجہ سے اس بھاگ دوڑ میں مجھے بھی شدید پیاس لگ چکی تھی کہ اس دوران انہوں نے ایک اور کام بتا دیا۔ میرا حوصلہ جواب دے چکا تھا لیکن پھر بھی میں نے ان سے نرم مگر سنجیدہ لہجے میں کہا۔ ”ایک بات پوچھ سکتا ہوں؟“

بولے ”فرمائیے۔“
”آپ کا روزہ ہے؟“
”جی الحمدُ للّٰہ“ انہوں نے بشاشت سے کہا۔

” تو آپ کے خیال میں میرا روزہ نہیں ہے؟ آپ مجھے پچھلے تین گھنٹوں سے روزے کی حالت میں بلاوجہ بھگا رہے ہیں، کیا آپ کو اس بات کا ذرا بھی احساس نہیں ہے؟“ میری آواز بلند ہونے لگی۔

اس پر وہ بولے ”تو آپ بھی ہمارا احساس کریں ناں“

اور پھر مجھے نہیں یاد کہ میں نے کیا کچھ کہا انہیں۔ بس اتنا یاد ہے کہ ان کے دفتر کا سارا عملہ مجھے ٹھنڈا کرنے میں مصروف تھا جبکہ وہ صاحب بھاگ کر اکاؤنٹس افسر صاحب سے میرے مطلوبہ کاغذ پر دستخط کروا لائے اورمجھے اپنا ”بھائی“ بنا کر رخصت کیا۔

کہنے کا مقصد یہ ہے کہ رشوت خور جس قدر خبیث ہوتا ہے اتنا ہی بزدل بھی ہوتا ہے۔ وہ صرف یہ دیکھتا ہے کہ اس کا وار کس پر چل سکتا ہے۔ لیکن زیادہ تر دیکھا گیا ہے کہ لوگ رشوت خوروں سے الجھنے سے گھبراتے ہیں کیونکہ بعض اوقات رشوت خور رشوت نہ ملنے پر کام پر ایسی قدغن لگا تے ہیں کہ لوگ اس کا خمیازہ ساری زندگی بھگتتے بھگتتے قبروں میں جا لیٹتے ہیں۔ جیسے کہ کسی کی پنشن یا تنخواہ کا حساب غلط بنا دینا، کسی کی ترقی نہ ہونے دینا۔ صحیح لوگوں کا حق مار کر غلط لوگوں کو آگے لے آنا وغیرہ۔

آپ نے اکثر دفتروں میں دیکھا ہوگا کہ بڑا افسر، ہیڈ کلرک یا دوسرے کلرکوں کے ذریعے رشوت لیتا ہے۔ دفتری اوقات کے بعد بڑی بے شرمی سے سارے دن کی کمائی بڑی ”ایمانداری“ سے ایک جگہ ڈھیر کی جاتی ہے اور پھر اپنے اپنے کاماور کوشش کے حساب سے حصے بانٹے جاتے ہیں۔ رشوت خوروں کا یہ ٹاؤٹ سسٹم بڑے منظم طریقے سے کام کرتا ہے۔

ایک بار میرے والد صاحب، میری والدہ کی پنشن کے سلسلے میں ایک دفتر میں گئے تو چوکیدار بڑی مستعدی سے انہیں لے کر متعلقہ ہیڈ کلرک کے پاس گیا۔ متعلقہ ہیڈ کلرک نے والد صاحب کو بیٹھنے کو کہا اور آنکھ کے مخصوص اشارے سے چپڑاسی سے کچھ پوچھا جیسے کہہ رہا ہو ”کچھ دیا ہے اِنہوں نے؟“

چپڑاسی نے بھی خففیف سا اشارہ کیا اور گردن گھمائی۔ مطلب ”کچھ نہیں دیا۔“

بس اس پر ہیڈ کلرک صاحب کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہو گئی اور انہوں نے فرمایا کہ یہ کام تو اُسی شہر سے ہوسکتا ہے جہاں آپ کبھی رہتے تھے۔ اس لئے سات سو کلومیٹر دور جائیں اور وہیں سے یہ کام کروائیں۔ والد صاحب انتہائی مایوس ہوکر واپس آگئے۔ وہ تو بھلا ہو میرے کچھ مہربان دوستوں کا جنہوں نے ہیڈ کلرک موصوف کا سافٹ وئیر اپڈیٹ کیا تب جا کے انہوں نے کام کیا۔

پنجاب سیکریٹیریٹ میں کام پڑ جائے تو جان عذاب میں آجاتی ہے۔ میں اپنے بچوں سے مذاقاً کہتا ہوں کہ ایک زمانے میں سیکریٹیریٹ کے لگائے ہوئے بیشمار چکروں کی وجہ سے میرے گھِسے ہوئے جوتوں کو میوزیم میں رکھنا چاہیے۔

رشوت خوروں کا دل سخت ہو جاتا ہے۔ در حقیقت یہ عقل اور ضمیر دونوں کا اندھا پن ہے۔ رشوت خور کی عقابی نگاہیں مجبور کو تلاش کرتی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں یہ کام اور زور پکڑ جاتا ہے اور ایسے میں ”عید آ رہی ہے“ جیسی اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ رشوت خوروں میں صلہ رحمی مفقود ہو جاتی ہے۔ جبھی تو یہ سب سے زیادہ سادہ و معصوم لوگوں، بیواؤں اور یتیموں کو لوٹتے ہیں۔ سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہوتی ہے کہ بعض لوگ ”کتے کو ہڈی ڈالنا جائز ہے، ورنہ وہ آپ کو کاٹ لے گا“ جیسے فتوؤں کو مدنظر رکھ کر ان حرام خوروں کو پیسے دے بھی دیتے ہیں لیکن وہ پھر بھی آپ کا کام نہیں کرتے یا ہوتے ہوئے کام کو روک کر مزید رقم کا مطالبہ کرنے لگتے ہیں۔

میں سوچتا ہوں کہ یہ اگر کسی بھی حالت میں خدا کے عذاب کی پکڑ میں آ بھی جائیں تو کیا نہیں سوچتے ہوں گے ۔ یقیناً ان کے ساتھ بھی اندوہ ناک واقعات پیش آتے ہوں گے ۔ مگر شاید منہ کو خون لگا ہوتا ہے اس لئے سر جھٹک کر پھرسے آمادہ ہو جاتے ہیں۔

کاش وطنِ عزیز میں ایسی نسل پروان چڑھے جسے اس طرح کے کاموں سے نفرت ہو اور وہ اپنا محاسبہ خود کرنے والی ہو۔

Facebook Comments HS