نستعلیق فونٹ بھی شہباز شریف کے ساتھ نہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہم ابھی اداکارہ میرا کے انکشافات کو سہارنے کی کوشش کر رہے تھے کہ اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف نے انکشافات کی بھرمار کر دی۔ ایک بڑے نجی چینل کو انٹریو دیتے ہوئے انھوں نے سب سے اہم یہ انکشاف کیا ہے کہ انھیں کئی بار وزارت عظمیٰ کی پیش کش ہوئی جسے انھوں نے ”وسیع تر خاندانی مفادات“ میں ٹھکرا دیا۔

ان کے بقول پہلی مرتبہ 1993ءمیں جب سابق صدر غلام اسحاق خان اور بھائی صاحب کے درمیان رسہ کشی شروع ہوئی تو غلام اسحاق خان نے انھیں یاد فرمایا (واضح رہے کہ یاد فرمانے کا لفظ کالم نگار کا اضافہ نہیں انھوں نے یہی لفظ استعمال کیا ہے) اور وہ ان کا، فرمودہ سماعت فرمانے حاضر ہوئے تو انھوں نے فرمایا کہ شہبازشریف تم وزیر اعظم بن جاؤ اور بھائی صاحب کو پارٹی کا صدر بنا دو تاکہ وہ ”پارٹی معاملات پر توجہ دے سکیں“ ۔ لیکن میں نے کہا کہ ہماری کچھ چھوٹی موٹی خاندانی روایات ہیں، میں ایسا نہیں کر سکتا۔

دوسری مرتبہ اکتوبر 99ء میں جنرل پرویز مشرف نے مجھے بلایا (واضح رہے مشرف صاحب نے یاد نہیں فرمایا) اور کہا کہ ہم نواز شریف کے ساتھ نہیں چل سکتے، سو تم وزرات عظمیٰ سنبھالو، ہم تعاون کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن میں نے ان سے بھی یہی عرض کی کہ ہماری کچھ چھوٹی موٹی خاندانی روایات ہیں، سو میں ایسا نہیں کر سکتا۔ ہاں میں آپ دونوں میں صلح صفائی کرا سکتا ہوں۔ جسے انھوں قبول کر لیا اور کہا کہ سری لنکا سے واپسی پر اس حوالے سے مزید بات ہوگی۔ (آگے والے سین کی انھوں نے کوئی وضاحت نہیں کی۔ )

تیسری اور آخری مرتبہ 2017ء میں جب بھائی صاحب پانامے کے بجائے اس کے قافیے اقامے پر نا اہل ہوئے تو انھوں نے مجھے چھانگلہ گلی بلا کر خود آفر کی۔ میں نے عرض کی کہ مجھے پنجاب میں جاری منصوبوں کے لیے وہیں رہنے دیں اور میں چھانگلہ گلی کی سیر کر کے واپس لاہور آگیا۔

جب میزبان نے سوال کیا کہ کیا موجودہ سیٹ اپ کی طرف سے بھی اس حوالے سے کوئی آفر ہوئی تو وہ دوسروں کے ”عیبوں“ کی ”پردہ پوشی“ کے لیے کنی کترا گئے۔ جب میزبان نے ایک معاصر اخبار میں شائع ہونے والے ایک سینیرکالم نگار کے کالم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ کون سے دو ”فرشتے“ ہیں جو ”پیغام“ لے کر آئے تھے تو انھوں ”برملا“ کہا کہ اگر مشرف خود 99ء والی آفر کا تذکرہ ایک ٹی وی انٹرویومیں نہ کرتے تو میں کبھی اس کا ذکر نہ کرتا اور یہ راز میرے ساتھ میری قبر میں جاتا، یہ کہتے ہوئے انھوں نے مشرف کی درازیِ عمر کے لیے دعا بھی کی تاکہ وہ کوئی اور ”راز“ نہ اگل دیں۔ لیکن پوچھنے والے نے یہ نہیں پوچھا کہ انھوں نے غلام اسحاق خان مرحوم کا راز، جسے مرحوم اپنے ساتھ قبر میں لے کر چلے گئے، کیوں افشا کر دیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ غلام اسحاق خان اورپرویز مشرف دونوں کی آفرز قبول کرنے میں ان کی چھوٹی موٹی خاندانی روایات آڑے آئیں لیکن بھائی صاحب کی آفر رد کرتے ہوئے انھیں ان ”چھوٹی موٹی خاندانی روایات“ کا دھیان تک نہیں آیا۔ شاید انھیں یقین ہو چلا تھا کہ اگر انھوں نے یہ آفر ایک ایسے وقت میں، جب پارٹی پر ”پیغمبری وقت“ آپڑا ہے، قبول کر لی تو ”خاندان کی بڑی بڑی روایات“ آڑے آسکتیں ہیں۔ جس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ انھوں نے بھائی صاحب کی کرم نوازی کا اتنی بار ذکر کیا اور پارٹی کے لیے ان کی خدمات کا اتنی بار اعادہ کیا کہ اگر اسے تکرار سمجھ کر ایڈٹ کر دیا جاتا تو پچاس منٹ کا یہ انٹرویو نصف رہ جاتا۔

ویسے یہ راز اب کوئی راز نہیں سب اہل ”سیاست“ جان چکے ہیں کہ ن لیگ اسم بامسمیٰ ہے کہ کوئی جو مرضی ہے کر لے ووٹ صرف نواز شریف ہی کا ہے۔

ولی دکنی کے ایک معاصر شاعر تھے ناصر علی۔ اگرچہ ناصر علی بس مناسب سے ہی شاعر تھے اور ولی کے مقابلے میں آج ان کی کوئی خاص ادبی حیثیت نظر نہیں آتی لیکن اپنے زمانے میں وہ ایک استاد شاعر کے طور پر جانے جاتے تھے۔ ولی دکنی اور ان کے درمیاں معاصرانہ چشمک تھی۔ ایک دن ولی دکنی کی شامت آئی تو انھوں نے برسرِ مشاعرہ یہ شعر پڑھا:

اچھل کر جا پڑے جوں مصرعِ برق
اگر مطلع لکھوں ناصر علی کوں

ناصر علی نے برجستہ کہا اور کیا خوب کہا:

بہ اعجازِ سخن گر اڑے چلے تُو
ولی ہر گز نہ پہنچے گا علی کوں

سو شہباز جتنا مرضی ہے پرواز کرلیں، جتنا مرضی ہے ”دلوں کے راز“ جان لیں اور انھیں بر سرِ میڈیا افشا کر لیں۔ پنجاب بھر میں ترقیاتی کاموں کا جال بچھا دیں، سیلابوں میں فوجی بوٹ پہن تصویریں کھنچوا لیں۔ مقتدر قوتوں کی آنکھ کا تارہ بن جائیں (اس طرف انھوں نے اپنے انٹرویو میں اشارہ بھی دیا ہے کہ وہ ”وسیع تر قومی مفادات“ میں ان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ) ن لیگ میں ووٹ بینک نواز شریف ہی کا ہے اور ان کے مرتے دم تک انھی کا رہے گا۔ خواہ وہ رائے ونڈ رہیں، جیل میں رہیں یا ایون فیلڈ میں۔ یہاں تک کہ اگر نیب انھیں گوانتا موابے بھی بھیج دے تو سردست ان کا ووٹ بینک ٹوٹتا نظر نہیں آتا کہ اس حوالے سے قسمت نواز شریف پر بہت مہربان ہے۔ جب کہ شہباز شریف کی بدقسمتی ملاحظہ فرمائیں کہ ان پیج کے ادارے نے اپنا جو ان پیج نستعلیق فونٹ تیار کیا ہے، اس میں ان کا نام ہی نہیں لکھا جا سکتا۔ جوں ہی کوئی شخص اس فونٹ میں شہباز لکھتا ہے اور سپیس دیتا ہے سکرین پر شہناز ابھر آتا ہے۔ یقین نہیں آتا تو ٹائپ کر کے دیکھ لیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply