آئین کے غدار؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستان کے آئین میں غیر مسلم کی تعریف آرٹیکل 260 بی (II) کے تحت درج ذیل ہے۔

”غیر مسلم سے مراد ایسا شخص ہے جو مسلمان نہیں اور ایسا شخص عیسائی۔ ہندو۔ سکھ۔ بدھسٹ یا پارسی کمیونٹی سے تعلق رکھتا ہو۔ قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھنے والا شخص ﴿جو خود کو احمدی یا کسی بھی نام سے پکارتے ہیں ﴾ یا بہائی اور کوئی شخص جو شیڈولڈ کاسٹ کا فرد ہو۔“

اس تعریف کے مطابق مذہب کا تعلق نہ صرف عقیدہ سے بلکہ ذات پات سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ اور شیڈولڈ کاسٹ سے تعلق رکھنے والے افراد کو ان کی ذات کے حوالے سے غیر مسلم قرار دے دیا گیاہے۔ یہ منفرد تعریف غالباً دنیا کے کسی اور آئین میں موجود نہیں۔

شیڈولڈ کاسٹ ہیں کیاِ؟ اس بات کو سمجھنے کے لیے ہندو مذہب میں ذات پات کے مسئلے کو سمجھنا ضروری ہے۔

جب آریائی حملہ آوروں نے بھارت پر قدم جمانے شروع کیے تو اس سے قبل دریائے سندھ کی تہذیب نے بڑے بڑے شہر اور آبادیاں آباد کیں۔ جن کی ثقافت اعلیٰ درجہ کی مہذب تھی۔ موئنجودڑو اور ہڑپہ دور کے آثار بتاتے ہیں کہ یہ لوگ بہت ترقی یافتہ تھے۔ پکی اینٹوں کے گھر بناتے، کنوئیں کھودتے۔ زراعت ان کا ذریعہ معاش تھا اور چونکہ جنگ وجدل سے نا آشنا تھے اس لیے قلعہ بندیوں سے بھی ناواقف تھے۔ چنانچہ جب جنگ جو آریائیوں نے جنوب کی طرف رخ کیا تو انہیں باآسانی زیر کر کے ان کا سارا علاقہ قبضہ میں لے لیا۔ انتھروپالوجی میں دریائے سندھ کی تہذیب کے باسیوں کو دراوڑ کے نام سے پکارا جاتا ہے اور ان کے زبانیں دراوڑی کہلاتی ہیں۔ جب میں تامل، ملیالم، کناڈا وغیرہ شامل ہیں۔ پاکستان کی مقامی زبانوں میں بلوچستان میں بولی جانے والی براھوی زبان بھی اسی گروپ سے تعلق رکھتی ہے۔

آریاوٴں نے ان لوگوں کو زیر نگیں کرنے کے بعد آہستہ آہستہ ہندو مت کے قوانین متعارف کروانے شروع کیے جس میں ذات پات کا تصور دیا گیا ہے۔ ان ذاتوں میں سب سے اعلیٰ ذات برہمن ہے، پھر کشتری جو جنگجو لوگ تھے اور آج کے راجپوت اسی نسل کے ہیں۔ تیسرا درجہ ویش کا آتا ہے جو کاروباری لوگ سوداگر اور دکاندار وغیرہ ہیں۔ اور ان سے نچلا درجہ شودر کا ہے جو ہاتھ سے محنت کرنے والے لوگ تھے۔ آج بھی ہمارے ہاں ان کے پیشوں کے اعتبار سے ان کی ذاتیں شمار کی جاتی ہیں۔ مثلاً نائی، دھوبی، لوہار، کمہار، سنیار، موچی، ترکھان، جولاہا وغیرہ۔

ہمارے پنجاب میں آج بھی انہیں کمّی کہا جاتا ہے ۔ اور یہ لفظ نخوت سے، کم تر درجہ کے لیے بولا جاتا ہے ۔ حالانکہ کمّی کا مطلب ہے کام کرنے والا ایک حدیث کے مطابق ان کا درجہ اونچا ہونا چاہیے تھا۔ حدیث کے الفاظ یہ ہیں

الکاسب حبیب اللہ۔ یعنی ہاتھ سے کام کرنے والا اللہ کا پیاراہوتا ہے۔
اگر یہ کمّی یعنی کام کرنے والے ہیں تو ان کے علاوہ دیگر لوگوں کو یقیناً نکمّی کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔

ایک گروہ شودروں سے بھی کم تر درجے کا شمار ہوتا ہے جسے دلت یا اچھوت کہتے ہیں۔ اور انہیں چھونا بھی منع ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو صفائی وغیرہ کا کام کرتے ہیں۔ عجیب بات یہ ہے کہ جو گند پھیلائے وہ اعلیٰ ذات کا ہو اورجو صفائی کرے اسے کم تر درجے کا شمار کیا جائے۔

پاکستان میں شیڈولڈ کاسٹ کے جو افراد ہیں وہ اسی کمیونٹی سے تعلق رکھتے ہیں جیسے، کوہلی، بھیل اور میگھواڑ وغیرہ اور آئین کے مطابق یہ اپنی ذات کی وجہ سے مسلمان ہو ہی نہیں سکتے۔

آج کل پاکستان میں ایک مسئلہ یہ ہے کہ شیڈولڈ کاسٹ کی چودہ پندرہ سال کی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کرکے ان سے شادی کر لی جاتی ہے اور پھر تمام معاشرہ اس بات پر سراپا احتجاج بن جاتا ہے کہ یہ لڑکی اب اپنے والدین کے گھر نہیں جاسکتی حالانکہ اس کا مذہب تبدیل کرنے والے مبلغین کا مبلغ علم صرف اس سے شادی کر لینے کی حد تک ہی محدود ہوتا ہے۔

قطع نظر ان حالات کے جن میں ایسی شادیاں کی جاتی ہیں کیا ایک شیڈولڈ کاسٹ کا فرد آئین کے آرٹیکل 260 بی (II) کی موجودگی میں مسلمان کہلا سکتاہے؟ اور کیا یہ آئین سے انحراف نہیں کہلائے گا؟

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply