چھوٹے سے قد کے ٹیپو سلطان نے کس طرح انگریزوں کے چھکے چھڑائے

حیدر علی کی قبر کی بغل میں دفن
اگلے دن شام کو محل سے ٹیپو سلطان کا جنازہ نکلا۔ ان کے جنازے کو ان کے ذاتی ملازمین نے اٹھایا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ انگریزوں کی چار کمپنیاں بھی چل رہی تھیں۔ برطانیہ کی ‘نیشنل لائبریری آف سکاٹلینڈ’ میں رکھے دستاویزات کے مطابق ‘جرنل آف دا وار وِد ٹیپو’ میں لکھا ہے ‘ان کے جنازے کے ٹھیک پیچھے شہزادہ عبد الخلیق چل رہے تھے۔
ان کے پیچھے دربار کے اہم اہلکار تھے۔ جن سڑکوں سے جنازہ گزرا، ان کے دونوں طرف بھیڑ تھے۔ لوگ زمین پر لیٹ کر جنازے کو خراج عقیدت پیش کر رہے تھے۔ لوگ زور زور سے رو رہے تھے۔ انھیں لال باغ میں ان کے والد حیدر علی کی قبر کے بغل میں دفنایا گیا۔’
اس کے بعد ٹیپو سلطان کے جنازے میں شریک افراد کو پانچ ہزار روپے بانٹے گئے۔ بیٹسن نے لکھا کہ ‘رات ہوتے ہوتے ماحول اور زیادہ غمزدہ ہو گیا جب بادلوں کی گرج کے ساتھ زبردست آندھی چلی۔ اس آندھی میں دو انگریز اہلکار ہلاک ہو گئے اور متعدد زخمی ہو گئے۔’
ٹیپو سلطان کی تلوار
ٹیپو سلطان کے مرنے کے بعد انگریز فوجیوں نے سرنگا پٹم کو بری طرح لوٹا۔
پھر بھی ٹیپو کا تخت، ہاتھی پر بیٹھنے کی چاندی کی سیٹ، سونے اور چاندی سے بنی پلیٹیں جواہرات سے جڑے تالے اور تلواریں، مہنگے قالین، ریشم کے بہترین کپڑے اور جواہرات سے بھرے بیس بکسے عام فوجیوں کے ہاتھ نہیں لگے۔ ٹیپو کی بہترین لائبریری کو بھی کوئی نقصان نہیں پہنچا جس میں تاریخ، سائنس اور احادیث کے بارے میں عربی، فارسی، اردو اور ہندی زبانوں میں دو ہزار سے زیادہ کتابیں تھیں۔
انگریز فوج کی جانب سے ایک ہیرے سے بنا ستارا اور ٹیپو کی تلوار ویلیز لی کو پیش کی گئی۔ میجر ایلکزانڈر ایلن نے اپنی کتاب ‘این اکاوٴنٹ آف دا کیمپین ان میسور’ میں لکھا ہے کہ ہیرس نے ٹیپو کی ایک اور تلوار بیئرڈ کو تحفے میں دے دی اور سلطان کے تخت میں جڑے شیر کے سر کو ونڈسر کاسل کے خزانے میں بھیج دیا گیا۔
ٹیپو سلطان اور موراری راوٴ کی ایک ایک تلواریں لارڈ کارنوالس کے پاس یادگار کے طور پر بھیج دی گئیں۔
تب تک انگریزوں کا سامنا انڈیا میں ٹیپو جیسے بادشاہ سے نہیں ہوا تھا۔ ٹیپو کے بعد انگریزوں کو جنگ میں چیلینج کرنے والا کوئی نہیں بچا تھا۔ ایک انگریز صحافی پیٹ آبیر نے اپنی کتاب ‘رائز اینڈ پروگریس آف برٹش پاور ان انڈیا’ میں لکھا ہے کہ ‘ٹیپو کی شکست کے بعد مشرق کی پوری سلطنت ہمارے قدموں میں آ گری۔’


