افسانہ: رنڈی کی اولاد
ایک دن میں حسب معمول سارا دن مزار پر گزار کر چاچا کے پاس آن کر بیٹھا ہی تھا کہ مولوی چلا آیا۔ آتے ساتھ ہی مجھ سے پوچھنے لگا کہ تم مسجد کیوں نہیں آتے ہو۔ چاچا اس وقت گراہک کے ساتھ مصروف تھا اس لئے مولوی کی بات نہ سن سکا۔ مولوی نے میرا ڈر بھانپ لیا اور دھمکی آمیز لہجے میں کہنے لگا کہ وہ طبعیت کی ناسازی کی بنا پر کل مسجد نہیں جائے گا، چونکہ میرا پہلے ہی کافی حرج ہو چکا ہے اس لئے مجھے کل ہی مسجد سے متصل اس کے مکان میں آ کر اسے سبق سنانا ہو گا۔ میں نے بڑی مشکل سے چاچا کے ڈر کے پیش نظر مولوی کے کہے مطابق کل اس کے مکان پر آنے کے وعدے کے ساتھ اسے وہاں سے رخصت کیا۔
میں سوچتا ہوں کہ کاش اس دن چاچا مولوی کی بات سن لیتا یا میں خود ہمت کر کے مولوی کو وہیں انکار کر دیتا تو آج میری زندگی کا احوال کچھ مختلف ہوتا۔ مگر خیر قسمت کا لکھا بھی تو ٹالے نہیں ٹلتا۔ بالکل اسی طرح اگلے دن نہ چاہتے ہوئے بھی میں مقررہ وقت پر مولوی کے مکان کے باہر دق الباب کر رہا تھا۔ چند ساعتوں کے بعد مولوی نے دروازہ کھول دیا۔ عموماً مولوی کے مکان میں اس کے گھر والے ہوتے تھے مگر اس روز شاید وہ سب لوگ کہیں گئے ہوئے تھے۔
میں نے حسب معمول آنگن میں لگے نلکے سے وضو کیا اور سپارہ لئے کونے میں لگے سکھ چین کے پیڑ کے نیچے بیٹھ کر سبق دہرانے لگا۔ مولوی مجھے تنہا چھوڑ کر کمرے میں جا چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد مولوی نے مجھے اندر آنے کو کہا۔ میں نے سپارہ وہیں تخت پوش پر رکھا اور کمرے میں چلا گیا۔ جیسے ہی میں کمرے میں داخل ہوا مولوی نے پشت سے مجھے اپنے آہنی ہاتھوں میں دبوچ لیا۔ وہ زبردستی میرے لبوں کو چومنے لگا اور میرے کپڑے اتارنے لگا۔ میں چیختا رہا۔ چلاتا تھا۔ مگر وہاں میری آہ و بکا سننے والا کوئی نہ تھا۔
جب میں مولوی کے مکان سے نکلا تو رات کے سائے گہرے ہو چلے تھے۔ میں پررونق گلیاں چھوڑ کر اندھیرے گلیاروں سے گرتا پڑتا اپنی کوٹھری میں پہنچ گیا۔ میں شدید نڈھال تھا اور درد کی وجہ سے پشت پر سونا ممکن نہ تھا۔ میں الٹا لیٹ گیا اور رات کے کسی پہر نیند کی دیوی مجھ پر مہربان ہو گئی۔
اگلے روز اپنے ارد گرد کسی انجانے شور پر میری آنکھ کھلی۔ آنکھ کھلنے پر میں نے دیکھا کہ اماں کوٹھری کے کونے میں بیٹھی رو رہی ہے اور کوٹھے کا تقریباً ہر فرد میری کوٹھری کے باہر موجود ہے۔ رات کے کسی پہر کوئی ماما میری کوٹھری میں چلی آئی تھی اور میری خون آلود شلوار دیکھی تو گھبرا کر اس نے میری ماں کو جا اطلاع کی۔ میرے ارد گرد اب نظر سوالیہ تھی۔ مجھے بیدار ہوتے دیکھ چاچا نے مجھے سہارا دے کر بٹھایا۔ ماں دوڑ کر میرے پاس چلی آئی اور آ کر مجھے سینے سے بھینچ لیا۔ زندگی میں پہلی مرتبہ ماں کا لمس اور خوشبو محسوس ہونے پر میری آنکھوں کے تمام بند ٹوٹ گئے۔ میں ہچکیوں لے لے رونے لگا۔ میں نے روتے ہوئے چاچا اور اماں کو اپنے اوپر بیتی افتاد کی روداد سنائی۔
سب کچھ سننے کے بعد چاچا نے مجھے گود میں اٹھایا، ماں اور کوٹھے کے چند اور لوگوں کے ساتھ مسجد کی راہ لی۔ مسجد کے باہر پہنچ کر چاچا نے مولوی کو آواز لگائی۔ تھوڑی دہر بعد مولوی باہر چلا آیا۔ باہر آ کر اس نے یوں تاثر دیا کہ جیسے اسے کچھ معلوم ہی نہ ہو۔ وہ الٹا ہمدردی دکھانے لگا کہ میرے ساتھ ناجانے کس نے ایسا گھناؤنا کام کیا ہے۔ مولوی کی اس دیدہ دلیری پر میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا اور میں ہیسٹریائی انداز میں چیخ چیخ کر سب کو مولوی کے کرتوت بتانے لگا۔
لوگوں کو میری باتوں کی جانب متوجہ ہوتے دیکھ مولوی زور زور سے چلانے لگا۔ اس نے الٹا ہم پر الزام دھر دیا کہ لوگو دیکھو یہ رنڈی اور اس کی اولاد کیسے مجھ عزت دار آدمی پر کیچڑ اچھال رہی ہے۔ پتہ نہیں اس کا بیٹا کہاں سے منہ کالا کروا کر آیا ہے اور اب یہ اس کا الزام میرے سر دھر کر پیسے وصولنے کے چکر میں ہے۔
ہمارے معاشرے میں چونکہ مولوی کی بات ایک سند کی حثیت رکھتی ہے تو ایسے میں ایک رنڈی کی بھلا کون سنتا! مولوی نے ہمیں وہاں سے دھکے دے کر نکلوا دیا اور ہم تینوں چپ چاپ اپنے کوٹھے پر واپس چلے آئے۔
اس دن کے بعد سے میری زندگی میں سب کچھ اتھل پتھل ہو گیا۔ مجھے ماں کی ہمدردی اور قرب تو میسر آ گیا تھا مگر دنیا سے میں کٹ کر رہ گیا۔ سارا سارا دن کوٹھری میں پڑا دیواروں کو تاکتا رہتا۔ جی جب زیادہ ہی گھبراتا تو ماں کے کمرے میں جھانک لیتا۔ ماں تب تک میری دلجوئی کرتی رہتی جب تک کہ نائکہ آ کر اسے ڈانٹ نہ دیتی۔ کوٹھے کے ماحول سے بیزار ہو کر اگر کبھی بھولے سے بھی باہر کا رخ کر لیتا تو ٹکسالی کے لڑکے بالے اوچھے اوچھے اشارے کرتے اور طنزیہ قفرے کستے۔
چند ایک نے تو مجھے مفعول کہنا شروع کر دیا تھا۔ بس حالات کی اس ستم ظریفی کے پیش نظر میں نے کوٹھری سے نکلنا ترک کر دیا۔ سارا سارا دن اپنی جھلنگا چارپائی پر لیٹا چھت کو تاکتا رہتا۔ شب و روز ہونہی گزرتے رہے۔ اور میں نے عمر کے بیسویں برس میں قدم رکھا۔ زندگی کی بیس بہاریں دیکھ چکنے کے باوجود اب تک میری حقیقی زندگی میں بہار کا دور دور تک شائبہ نہیں تھا۔
ایک دن یونہی کوٹھری میں چت لیٹا چھت کو گھور رہا تھا کہ ماں کا بلاوا آ گیا۔ میں جلدی جلدی سیڑھیاں چڑھ کر ماں کے کمرے میں پہنچا تو یہ دیکھ کر ٹھٹھک گیا کہ نائکہ وہاں پہلے سے ہی موجود تھی۔ یہ اب تک کا پہلا موقعہ تھا کہ جب اماں نے نائکہ سے ڈرے بغیر اس کی موجودگی میں مجھ سے ملاقات کی۔ خیر میں اماں کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ اس تمام عرصے میں نائکہ اماں کے کان میں کچھ کھسر پھسر کرتی رہی اور میرے بیٹھتے ہیں ایک نظر مجھ پر ڈال کر کمرے سے باہر نکل گئی۔
اب کمرے میں صرف میں اور اماں تنہا رہ گئے۔ اماں کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی پھر گویا ہوئی۔ ’میرے بیٹے آب وقت آ گیا ہے کہ تو اس بات کو سمجھ لے تو ایک رنڈی کی اولاد ہے۔ اور رنڈی کے اولادیں کوئی سونے کا چمچ منہ میں لے کر پیدا نہیں ہوتیں۔ بدلتے وقت کا تقاضا ہے کہ جن کوٹھوں کی شمعیں روشن دن کو بھی فروزاں رہا کرتی تھیں آج وہاں ویرانیوں کے ڈیرے ہیں۔ تیری ماں کی بھی اب عمر ڈھلنے لگی ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ تو بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھ۔ اور وہ کام کر کہ جس کے لئے تو اس دنیا میں آیا ہے‘ ۔ یہ کہہ کر ماں خاموش ہو گئی۔
میں نے ناسمجھنے والی نگاہوں سے ماں کی جانب دیکھا۔ ماں پھر گویا ہوئی۔ ’مجھ جیسی حرماں نصیب رنڈی کے یہاں جب کوئی لڑکا پیدا ہوتا ہے تو اس کی زندگی کا مقصد پہلے سے ہی طے ہوتا ہے۔ میرے بچے تیری زندگی کا مقصد بھی وہی ہے۔ توں ایک رنڈی کی اولاد ہے اور ایک رنڈی کی اولاد کو ایک نہ ایک دن دلال بننا ہی ہوتا ہے۔‘
اس روز میں اپنی ماں کے پہلو سے اٹھا۔ مجھے اس کے لئے پہلا گراہک لانا تھا۔ میرا ذہن سائیں سائیں کر رہا تھا۔ مجھے اپنے ارد گرد کا ہوش نہ تھا۔ میرے اٹھے قدم خودبخود کسی انجان منزل کی جانب گامزن ہو گئے۔ کبھی واپس نہ لوٹنے کے لئے۔
اس دن کے بعد سے آج تک میں ہر راہ چلتے بندے کو روک کر پوچھتا ہوں۔ اوپر چلو گے؟ میری ماں انتظار کر رہی ہے۔ اور ہر بندہ مجھے رنڈی کی اولاد کہہ کر جھڑک دیتا ہے۔ مجھے یہ الفاظ سن کر عجیب طمانیت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک طرح کا دلی سکون حاصل ہے اور اسی سکون کی تلاش میں، آج زندگی کی ساٹھ خزائیں دیکھنے کے باوجود بھی میں اس عمل کو دہرائے چلے جا رہا ہوں۔
مجھے نہیں معلوم کہ میرے یوں چلے آنے کے بعد میری ماں کا کیا حال ہوا ہو گا اور وہ کب تلک زندہ رہی ہو گی۔ مگر مجھے یقین ہے وہ جب تک بھی زندہ رہی ہو گی۔ کبھی کبھی یہ سوچ کر ضرور مسکرا دیتی ہو گی کہ واقعی کسی رنڈی کی اولاد تھا۔

