کورونا وائرس، رمضان المبارک اور عید

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کورونا کی موجودہ صورتحال میں احتیاطی تدابیر پر مکمل عمل کرنا فرض ہے ضرورت بقاء بھی اورحقوق العباد بھی۔ اس وبائی مرض کی پانچ ماہ کی تاریخ اوراس سے متعلق اعداد وشمار (متاثرہ افراد کی تعداد، ہلاکتیں، صحت یاب افراد کی تعداد وغیرہ ) کا اگر سنجیدگی سے مطالعہ کیا جائے تو صحت کی عالمی تنظیم کے مطابق اس وبا سے بچنے کا واحد راستہ احتیاط ہی ہے۔ انہیں ممالک میں اس بیماری پر قابو پانے میں جزوی یا مکمل کامیابی حاصل ہوسکی ہے جنہوں نے سماجی دوری کے اصولوں کو اپنایا مارکیٹیں مکمل طور پر بند کردی گئیں تعلیمی ادارے، سرکاری و نجی دفاتر بند کردیے گئے اور جن اداروں میں ملازمین کا آنا ناگزیر تھا وہاں معیاری عملی طریقہ کار (ایس او پیز) پر عمل کیا گیا تب ہی اس موذی مرض کی نقصانات کو کم کیا گیا۔

جب وطن عزیز میں اس موذی مرض کے کیسز رپورٹ ہونا شروع ہوئے تو بلاشبہ شروع سے ہی معیاری احتیاطی تدابیر اور بچاؤ کے لئے سرکاری و نجی سطح پر آگاہی مہمات چلائی گئیں جو کسی حد تک کامیاب بھی ہوئیں اور آج ہمارے ملک کے تقریباً ہر شہری کو اس بیماری کے پھیلنے کے خطرات معلوم ہوچکے۔ ہاں! وہ الگ بات ہے کہ اس پر بھی واضح اکثریت اتفاق رائے حاصل کرنے میں حکومت کو کامیابی حاصل نہیں ہوسکی کچھ کی رائے ہے کہ کورونا کچھ بھی نہیں ہے، تو کچھ کہتے ہیں کہ کورونا ہے تو مگر اس کے اثرات مسلمانوں پر نہیں ہیں اور کچھ اس قدر خوفزدہ ہیں کہ وہ تو کہتے ہیں کہ کورونا دراصل دجالی قوتوں کی آمد کی گھنٹی ہے۔

بیماری کی آمد کے ساتھ ہی لاک ڈاؤن اور جزوی لاک ڈاؤن جیسی اصطلاحات کا ذکر ہوا اور اس میں بھی اختلاف رائے پایا گیا دیہاڑی داروں اور چھوٹے تاجروں کو ممکنہ درپیش مسائل کو لے کر ایک بحث کا آغا ز ہوا لیکن یہ مرحلہ بھی دو تین دن کی بحث کے بعد طے پاگیا کہیں حکومت کی جانب سے جزوی لاک ڈاؤن تو کہیں مکمل لاک ڈاؤن کا نفاذ عمل میں لایا گیا جس کے ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں مذہبی نقطہ نظر اتنا شدید اور طاقتور ہے اس لئے رمضان کی آمد سے قبل ہی ایک بحث چھڑ گئی کہ رمضان میں لاک ڈاؤن ہوگا یا نہیں ہوگا مساجد میں اجتماعات ہوں گے یا نہیں ہوں گے ۔ اس بحث میں اپنے اپنے طور پر تقریباً ہر پاکستانی شہری نے اپنی رائے دی ہی ہوگی اور مذہبی نقطہ نظر کے مضبوط اور طاقت ہونے کی وجہ سے بالآخر ایس او پیز وضع کی گئیں اور مساجد میں تراویح کی اجازت بھی مل گئی اور الحمدللہ آج 9 رمضان المبارک تک مساجد میں تراویح کی نماز پڑھائی جارہی ہے اور صورتحال اطمینان بخش بھی ہے۔

ایسے میں مساجد کے امام حضرات نے ہر مسجد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دیں ہیں اور مساجد کی صفائی ستھرائی کا خصوصی خیال رکھا جا رہا ہے۔ رمضان کی برکات اور فضائل سے انکار کفر ہے اور ایسے ہنگامی حالات میں تراویح کی ادائیگی اور پنجگانہ نمازباجماعت ادائیگی ایک چیلنج ضرور ہے لیکن حکومتی آگاہی اور عوام میں شعور کی وجہ سے اب تک کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور امید ہے آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ رمضان صرف بھوکے پیاسہ رہنے یا تراویح ادا کرنے کا نام نہیں رمضان ہمیں تقویٰ کا درس بھی دیتا ہے رمضان المبارک ایسا مہینہ ہے جس میں ہم بھوک و پیاس کا عملی تجربہ کرتے ہیں صبر کا مظاہرہ کرتے ہیں اس سے سبق لینا ضروری ہے کہ اس وبا کی وجہ سے جو لوگ 4 ماہ سے روزے یا فاقے کی حالت میں ہیں ان کا ہم پر حق ہے ان کی مدد چاہے وہ کتنی بھی ہو وہ ہم پر فرض ہے۔

ہمارا دین نے زکواۃ کی مقدار مقرر کی لیکن کسی غریب کو کھانا کھلانے کی مقدار شاید ہی کسی نے سنی ہو کہ بھوکے کو اتنی بوری آٹا ضرور دو یا اس کو بطورخوراک فلاں فلاں دو یعنی بھوکے اور مجبور کی مدد کسی بھی مقدار میں کی جاسکتی ہے آج اگر کوئی کہتا ہے کہ ہم مخیر نہیں تو یہ غلط ہے میری نظر میں موجودہ حالات میں اگرکسی کو صبح کے وقت اپنے شام کے کھانے کی فکر نہیں تو وہ مخیر ہی ہے وہ اپنے کھانے میں سے کسی ایک روزہ دار کو تو افطار کرا ہی سکتا ہوگا۔

اب جبکہ رمضان کا پہلا عشرہ ختم ہوچکا ہے تو تاجرطبقہ میں یہ بے چینی بڑھتی جارہی ہے کہ اگر لاک ڈاؤن میں آسانیاں نہ دی گئیں توان کا کیا ہوگا؟ اسی طرح ہر طبقے کو اپنی عید کی خریداری کی پریشانی لاحق ہے بچے عید پر نئے کپڑے پہن پائینگے یا نہیں؟ خواتین جوکہ موجودہ صورتحال مردوں کی نسبت زیادہ خوفزدہ ضرور ہیں لیکن عید کی شاپنگ اور ملبوسات و دیگر لوازمات کے معاملے میں سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں؟ ایسے میں اگر لاک ڈاؤن میں نرمی کی گئی تو اس کے نتائج کیا ہوں گے ؟

خدانخواستہ کو المیہ جنم لے سکتا اور اس کے امکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ہمارے لوگ کیوں ایسا نہیں سوچتے کہ عید کے موقع پر فضول خرچی اور اصراف سے اس مرتبہ کیونکر گریز نہ کیا جائے اور اس کے بدلے ایسے غرباء اور سفید پوشوں کی مدد کیوں نہ کی جائے جو موجودہ وقت میں شاید اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے سحری اور افطاری کا انتظام تک نہیں کر پارہے۔ اس ضمن میں حکومتی امداد، خیراتی تنظیموں کا اس میں حصہ ڈالنا اور مخیرحضرات کا کردار سب کے سامنے ہے بلاشبہ ہر سطح پر غرباء کی امداد کی جارہی ہے لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ غرباء اور دیہاڑی داروں کی آڑھ میں کچھ لوگ ہمارے ہی ارد گرد ایسے بھی ہیں جو راشن جمع کرکرکے کم قیمت پر فروخت بھی کررہے ہیں۔ خیر! یہ معاشرے کی ساخت کا حصہ ہے کہ معاشرے میں ہر قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں اس کے سدباب کے لئے شاید ہم صرف دعاہی کرسکتے ہیں۔

ہمیں قدرت کی طرف سے ایک موقع ملا ہے کہ ہم یہ ثابت کریں کہ مذہب اسلام کے پیروکار کائنات کے سب سے بہترین مذہب کے پیروکار ہیں آج ہمیں اپنی افطار پارٹیوں میں خرچ کیا جانے والا مال ضرورت مندوں میں بانٹ کر ثابت کرنا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہیں آج عید کے نئے کپڑوں کی بجائے ہمیں کسی دیہاڑی دار یا مزدور طبقہ کے فرد کی اس روزمرہ زندگی کی اجناس دلاکر ثابت کرنا ہے کہ ہم غریب کا درد رکھتے ہیں اس سلسلے میں حکومتی کردار قابل تعریف ہے لیکن ہمارے ملک ایک ترقی پذیر ملک ہے غریب کا گراف بہت زیادہ ہے ہمیں ان کی مدد کرنی ہے۔

اگر آج ہم اس بحث میں پڑ گئے کہ عید کے اجتماعات ہوں گے یا نہیں؟ اور ہوں گے تو ہم مسلمان ہیں ہمیں کورونا سے کچھ نہیں ہوگا تو میرے منہ میں خاک! شاید ہمیں دو ماہ بعد عید الاضحی پر بھی انہیں پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا اگر آج ہم نے حفظ ماتقدم کے اصولوں پر عمل کیا تو انشاء اللہ دو ماہ تک صورتحال کنٹرول میں ہوگی اور 4 سے 6 ماہ تک زندگی نارمل ہوجائے گی۔ معاشی نقصان ضرور ہوا ہے دیہاڑی دار اور مزدور طبقہ کا تو معاش تباہ ہی ہوگیا ہے لیکن ہم نے ان کی مدد کے ساتھ ساتھ اپنے وطن عزیز کو المیہ سے بچانا ہے اس میں ہر فرد اپنا کردار ادا کرے لوگوں میں شعور و آگہی بیدار کرے کہ اس وبائی مرض کا وجود ہے اور اس کا دین، مذہب، رنگ و نسل سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ جان لیوا نہیں لیکن خطرناک ضرور ہے ہم نے احتیاط کرکے ہی اس سے بچنا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply