کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں!


انیسویں صدی عیسوی کے دوران کہ تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والے ابھی اپنے اپنے مسیحا کی راہ تک ہی رہے تھے کہ برصغیر سے ایک ہندوستانی نے مہدی اورمسیح موعود ہونے کا دعویٰ داغ دیا۔ مرزا غلام احمد کا اصرار تھا کہ مسیحؑ وفات پاچکے اور وادی کشمیر میں کہیں مدفون ہیں۔ لہذا عیسائیوں اورمسلمانوں کے لئے کسی مسیحا کا مزید انتظار بے سود ہے۔ مسلمانوں اور عیسائیوں نے بیک وقت اس دعویٰ کورد کردیا۔ لندن میں چرچ نے غلام احمد کے مسیح موعود ہونے کے دعویٰ کو ’ایک احمق ہندوستانی کا لغو پن‘ کہہ کر کسی خاطر میں ہی لانے سے انکار کردیا۔ سیاسی طور پر تاہم ہندوستان میں انگریزوں کو مرزا غلام احمد کا مذہب بہت بھایا کہ جہاد کو یکسر متروک قرار دے کر انگریزی حکومت کی غیرمشروط اطاعت کا درس دیا جا رہا تھا۔

مرزا غلام احمد نے ابتدا میں اسلام کے پرجوش داعی کے طور پردیگر مذاہب بالخصوص مقامی عیسائی پیشواؤں کے ساتھ مناظروں میں خود کو خوب منواتے ہوئے مسلمان علما میں اچھی خاصی پذیرائی حاصل کرلی تھی۔ مسلمانوں کی طرف سے شدید رد عمل اس وقت آیا جب مرزا کی طرف سے ابتدا خود کو مجدّد، اس کے بعد مہدی موعود اور بالآخرایک نبی کے طور پر پیش کر دیا۔ نتیجتاً پورے گروہ کو ارتداد کا مرتکب قرار دے دیا گیا۔ تمام مسلم فکری اور مسلکی عقائد کے اجماع کے مطابق ایک ’مرتد‘ واجب القتل ہے۔

سوال مگر یہ پیدا ہوا کہ اس قدر بڑی تعداد میں مجرموں کے خلاف ایک ایسے ملک میں کہ جہاں غیر اسلامی حکومت کی عملداری ہو، سزا پر عملدرآمد کیوں کر ہو۔ کہا جاتا ہے کہ علامہ اقبال کی تجویز پر بالآخراس مخمصے سے نکلنے کی راہ نکالی گئی کہ جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ معاملہ عدالتوں میں گیا۔ عدالتوں کے اندر ہونے والی طویل قانونی کارروائی تاریخ کا حصہ ہے۔

قیام پاکستان کے بعد احمدیوں کو کافر قرار دیے جا نے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا۔ تحریکیں چلیں کہ جن میں سینکڑوں جانوں کے نذرانے پیش کیے گئے۔ بالآخر 1974 میں ایک طویل پارلیمانی بحث کے بعد ایک آئینی ترمیم کے تحت قادیانیوں کو پاکستان میں ایک ’غیر مسلم اقلیت‘ قرار دے دیا گیا۔ قادیانیوں نے بہت بے دلی سے اس حیثیت کو اس طرح تسلیم کیاکہ وہ اب اسی حیثیت میں ریاست کو ٹیکس دیتے، شہری سہولیات سے مستفیدہوتے، اور سرکاری ملازمتوں کے حصول کے لئے امید وار بنتے ہیں۔

افغان جنگ کے ہنگام جب بوجہ قومی رویوں میں درشتگی، عدم برداشت اورتشدد در آئے تو مسلکی خونریزی کے ہاتھوں لاچار ریاست اقلیتوں کے جان ومال کے تحفظ میں بھی بے بس نظر آنے لگی۔ پر آشوب دور کے عروج میں جب اقلیتوں کی عبادت گاہیں دہشت گردوں کے خصوصی نشانے پر تھیں، تو 2015 میں ایک ایکٹ کے تحت قومی اقلیتی کمیشن کا قیام عمل میں لایا گیا۔ کمیشن کا قیام اقلیتوں کی قومی دھارے میں شمولیت اور ان کے احساس عدم تحفظ کو دور کرنے کی ایک کوشش تھی۔ حال ہی میں متعین مدت گزرنے کے بعد نئی تقرریوں سے قبل کمیشن کی تشکیل نو کے سلسلے میں ایک احمدی ممبر کی شمولیت کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اس حکومتی ارادے سے متعلق خبر نشر ہوتے ہی ایک ایساشدید رد عمل سامنے آیا کہ حکومت کو فوراً سے پیشتر تردید کرتے ہی بنی۔

احمدیوں کو ایک مذہبی اقلیت کی حیثیت ہمارے آئین نے دے رکھی ہے۔ اس مذہب کے ماننے والوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے آئین کے اندر ترمیم ایک ایسی زوردار تحریک کا نتیجہ ہے کہ جس کی قیادت خود جیّد علما کے ہاتھ میں تھی۔ احمدی جماعت کی موجودہ آئینی حیثیت سے انکار نہ تو اس کے اپنے پیرو کاروں اور نہ ہی اندریں حالات ہمارے اختیار میں ہے کہ اسلام ہمیں وعدوں اور معاہدوں کی پاسداری کا حکم دیتا ہے۔ ہم ان اربوں خوش نصیبوں میں شامل ہیں کہ جو اللہ کی خاص رحمت سے مسلمان گھرانوں میں پیدا ہوئے۔ ہمارے علما انبیا کے ورثا ہیں۔ احمدیوں کی موجودہ نسل غیر مسلم ماں باپ کے گھر پیدا ہوئی ہے۔ عبیداللہ سندھی جیسے روشن دماغ ہر روز پیدا نہیں ہوتے۔ اندھیرے میں آنکھ کھولنے والے اللہ کے بھٹکے ہوئے بندوں کو دھتکارنا نہیں، روشنی کی طرف لے کر آنا ہی انبیا کی سنت ہے۔

احمدی مذہب کے ماننے والے جب اقلیتی کمیشن جیسے بیکار معاملات کو بڑھا چڑھا کر دنیا بھر میں واویلا کرتے ہیں تو ان کو بالخصوص مغربی معاشروں میں ایک ایسی مظلوم جماعت کے طور پردیکھا جاتا ہے جسے مسلمان ممالک، خاص طور پر پاکستان میں ریاستی جبر، نفرت اور متشدد روّیوں کا سامنا ہو۔ یہودی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کرنے والے معروف یورپی نژاد اسلامی سکالرعلامہ محمد اسد کے مطابق یورپ کا اسلام مخالف رویہ اس نوجوان کی نفسیات کی مانند ہے کہ جس پر بچپن کی متشدد یادوں نے گہرا اثر چھوڑا ہو۔ گیارویں صدی عیسوی میں پوپ اربن دوم کے شعلہ بار خطابات کی حدّت آج بھی ’عیسائی یورپ‘ کے لاشعور میں موجود ہے۔ آج بھی وہاں صلیبی جنگوں کی ڈراؤنی یادوں کے ساتھ نمو پانے والی نفسیات کے تحت مسلمانوں کو ایک بہیمانہ تشدد پرآمادہ قوم کے طور پر ہی دیکھا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے کچھ حالیہ واقعات نے بھی گہرے زخموں کو کرید کر تازہ کر ڈالا ہے۔

حکمت مومن کی کھوئی ہوئی میراث ہے۔ احمدی جماعت سے حالت طیش اور خوف کے زیر اثرنہیں، حکمت کے ساتھ ہی برتنا ہو گا۔ خاتم النبینﷺ سے لازوال و غیرمشروط محبت کسی ایک مسلک، سیاسی پارٹی یا فرد سے متعلق نہیں بلکہ حب رسول ﷺ ہر اس انسان کے ایمان کی شرط اوّلین ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔ پاکستان میں کسی حکمران، سیاسی جماعت یا گروہ میں جرآت نہیں کہ وہ احمدیوں کی موجودہ حیثیت میں کسی معمولی سی تبدیلی کا سوچ بھی سکے۔ لہٰذا محدودسیاسی، گروہی وشخصی مفادات کو مدّ نظر رکھ کر اس حساس معاملے کے استعمال کا سلسلہ بند ہونا چاہیے۔ جھوٹے نبی کو ماننے والوں کے لئے اپنے ملک کی زمین تنگ کر دینے اور ان کے جان ومال کو نقصان پہنچانے سے دنیا کے دیگر ملکوں میں تو ان کی تعداد میں کمی نہیں آئے گی، ان کی مظلومیت کے تاثراور ان کے لئے عالمی ہمدردی میں اضافہ ضرور ہوگا۔

(عقائد پر مبنی تحریریں اور تبصرے شائع کرنا "ہم سب” کی پالیسی کے خلاف ہے۔ البتہ کسی بھی مذہبی گروہ کے حوالے سے آئینی، قانونی، سیاسی، معاشی اور سماجی نکات پر بات کرنا صحافت کے لئے روا ہے۔ اس زاویے سے بریگیڈیئر فیصل مسعود صاحب کی تحریر میں کچھ عقائد پر اشارات شامل ہیں۔ تاہم چونکہ ان صفحات پر کچھ احمدی احباب کا سیاسی اور دستوری نکتہ نظر شائع کیا جا چکا ہے۔ لہٰذا ایک مفرد استثنیٰ کے طور پر محترم فیصل مسعود صاحب کی تحریر من و عن شائع کی جارہی ہے۔ جملہ احباب سے گزارش ہے کہ کسی بھی موضوع پر اپنی تحریروں کو عقائد کی بحث سے دور رکھیں۔ بین الاقوامی قانون اور پاکستان کے دستور کی شق 20 کی رو سے عقیدہ ہر فرد کا ذاتی استحقاق ہے۔ البتہ کسی شخص کو حق نہیں کہ کسی دوسرے فرد کے عقیدے پر حکم لگائے۔ مدیر: و – مسعود)

Facebook Comments HS