وفاقی حکومت نے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا
وفاقی حکومت نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے مالیاتی سکینڈل کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔ آئی پی پی پیز سکینڈل کی رپورٹ پبلک کرنے کا فیصلہ واپس لے لیا گیا ہے جبکہ کابینہ نے انکوائری کمیشن کے قیام کو بھی دو مہینے کیلئے موخر کرنے کی منظوری دے دی ہے ۔
نجی ٹی وی 92 نیوز کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے 21 اپریل کو باضابطہ منظوری دی تھی کہ ملکی تاریخ کے اس بہت بڑے سکینڈل کی مزید تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن کا قیام بھی ناگزیر ہے اور یہ منظوری بھی دی گئی تھی کہ اس کی رپورٹ کو پبلک کیا جائے گا۔
21 اپریل کو اسدعمر نے بھی پریس بریفنگ کے دوران یہ اعلان کیا تھا کہ رپورٹ پبلک کی جائے گی اور انکوائری کمیشن بھی بنایا جائے گا لیکن اب چند وزراء کی جانب سے اس معاملے پر حکومت کی توجہ دلائی گئی ہے کہ ممکنہ طور پر اس سے ایک دوست ملک کی ناراضگی بھی سامنے آسکتی ہے۔ اس کے علاوہ آئی پی پی پیز مالکان سے مذاکراتی عمل جاری ہے لہذا ابھی انکوائری کمیشن نہیں بنانا چاہیے۔ انکوائری کمیشن بنانے کا مقصد یہ تھا کہ لوگوں جن لوگوں نے قومی خزانے کونقصان پہنچایا ان کے خلاف کارروائی کی راہ ہموار ہو سکے ۔
اب اس معاملے کو دوماہ کے لئے موخر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔ دو ماہ کے بعد صورتحال کا دوبارہ جائزہ لینے کے بعد حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔


