میت کے لئے دعائے مغفرت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جزا اور سزا کا دار و مدار انسان کے اپنے اعمال پر ہے۔ ثواب کا دار و مدار تکلیف پر ہے اللہ کے حکم کی تعمیل اور اس کی خوشنودی کے لئے اپنے آپ پر جبر کرنے پر ہے نماز کا وقت ہو گیا سردی کا موسم ہے پھر بھی طہارت غسل یا وضو حسب ضرورت کرنا، کام کا تقاضا ہے پھر بھی اسے مؤخر کرکے پہلے نماز ادا کرنا، یہ وقت کی قربانی ہے یہ جسمانی عبادت ہے اور اس پر اجر عند اللہ ہے۔ 612 گرام چاندی یا 87.5 گرام سونا یا اس کی قیمت کے برابر کی مالیت کا مال و دولت ہو اور اس پر سال گزر جائے تو اس مال کی قیمت کا 2.5 فیصد یعنی ہر سو روپے میں سے ڈھائی روپے بطور زکوٰۃ غریب مسکین اور دوسرے مستحقین کو دینا واجب ہے۔

ظاہر ہے ایک لاکھ ہی اگر ہے تو ڈھائی ہزار اپنی محنت کی کمائی کا کسی کو دینا جبر ہوتا ہے لیکن اللہ کا حکم ہے اس لئے مال کی قربانی گوارا ہے یہ مالی عبادت ہے۔ حج کرنے کی استطاعت ہے ظاہر ہے تقریباً تین چار لاکھ روپے کا صرفہ اور کار و بار چھوڑ کر گھر کے عیش و آرام چھوڑ کر اللہ کے حکم کی تعمیل میں حج کے لئے جانا یہ روپے پیسے اور وقت کی قربانی ہے یہ جانی و مالی عبادت ہے ان پر اجر عنداللہ ہے۔

لیکن جس عبادت میں خود کو جبر نہ ہو اس پر اجر مکافات عمل give and take اور ترغیب و ترہیب کے اصول کے خلاف ہے۔ تندرستی تھی اور وقت پر نماز ادا کرنے کے لائق تھا پھر بھی ادا نہیں کیا اور نہ بعد میں قضاء کیا اور نہ عذر کی بناء پر نماز چھوٹ گئی اس کے لئے اپنی زندگی میں غریبوں کو کھانا کھلایا یا مرنے سے پہلے اس کی ادائیگی کے لئے وصیت کی، صاحب نصاب تھا لیکن مال کی محبت میں زکوٰۃ ادا نہیں کیا، حج کی استطاعت تھی لیکن آرام طلبی اور مال کی محبت کو حج پر ترجیح دیا اب اس کی وفات کے بعد اس کی اولاد حج بدل کراتی ہے زکوٰۃ ادا کرتی ہے نماز کے بدلے مسکینوں کو کھانا یا کپڑا دیتی ہے تو ظاہر ہے مرنے والے کو احساس تو ہوا نہیں اس لئے اس کا پورا پورا اجر اسے ملے گا یا نہیں یہ مختلف فیہ مسئلہ ہے۔ ماں باپ کی وفات کے بعد قرآن خوانی کے نام پر دوسروں سے مغفرت کی دعاء کرانے کے لئے پارٹی کا اہتمام! یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ اس سے کہیں بہتر ہے کہ انسان خود اپنے والدین اولاد اور عزیز واقارب کے لئے فاتحہ پڑھے اور دعاء کرے۔

حدیث نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام مسلم شریف میں درج ہے جس کا مفہوم ہے کہ مرنے کے بعد انسان کا اکاؤنٹ/ کھاتہ بند ہو جاتا ہے اب زندگی میں اس نے جو صدقہ جاریہ کیا ہے اس سے جب جب کوئی مستفید ہوگا وہ کھاتہ کھلے گا اور اس کے اکاؤنٹ میں نیکی لکھی جائے گی۔ یہ صدقہ جاریہ تین قسم کے ہیں : اس نے اپنی زندگی میں (1) اولاد کی صحیح تربیت کی تو ایسی نیک اولاد نے اس کے حق میں دعائے مغفرت کی (2) مسجد مدرسہ مسافر خانہ بنوایا یا پانی کی سبیل لگایا یا مسافروں کی راحت کے لئے شیڈ لگوایا یا درخت لگایا جس کی چھاؤں میں لوگ راحت حاصل کرتے ہیں وغیرہ (3) اس نے دین کی بات دوسروں تک پہنچائی اور یہ سینہ بہ سینہ ایک سے دوسرے تک منتقل ہوتی رہی جاری تو جب جب لوگ اس کی پہنچائی ہوئی بات سے مستفید ہوں گے مرنے والے کے اکاؤنٹ میں ثواب کریڈٹ ہوتا رہے گا۔

بر صغیر ہندوپاک بنگلہ دیش وغیرہ میں والد والدہ وغیرہ میں سے کسی کی وفات کے بعد وہ اولاد جس نے والدین کی زندگی میں ان کا خیال نہیں رکھا گھر میں انہیں بوجھ سمجھتا رہا اور گاہے بگاہے بدسلوکی کرتا رہا وہ اولاد معاشرہ کو یہ بتانے کے لئے کہ وہ مرنے والے کے ساتھ کتنی محبت کرتی تھی ان کا اس دنیا سے رخصت ہونے سے وہ کس قدر سوگوار ہے، سخاوت کا مظاہرہ کرتی ہے اور ان کے نام سے قرآن خوانی چوتھا دسواں چالیسواں یوم سوگ مناتی ہے غریبوں کو کھانا کھلاتی ہے اور رشتے داروں کو بھی قورمہ بریانی کھلا کر فاتحہ کی رسم پورا کرتی ہے۔

نہ اس میں خلوص ہوتاہے اور نہ ہی میت کو ثواب پہنچنا یقینی ہے۔ اس لئے لوگوں کو چاہیے کہ اپنی زندگی میں جس قدر نیکیاں کرنے کی استطاعت ہو خود عبادت کرے اور صدقۃ و خیرات اپنے ہاتھوں سے کرتے ہوئے آخرت کے لئے ذخیرہ بنائے۔ اللہ نے قرآن کریم میں کہا ”ولتنظر نفس ما قدمت لغد“ یعنی ہر شخص کو دیکھنا چاہیے کہ اس نے کل (قیامت کے دن ) کے لئے کیا بھیجا ہے۔

بر صغیر کے مسلمانوں کا یہ المیہ ہے کہ عموماً آخری عمر میں وہ جائیداد ہوتے ہوئے بھی محتاجگی کی زندگی گزارتے ہیں اور اپنے لائق یا نالائق بچوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ آخر وقت تک بچوں کے مستقبل کے لئے فکرمند رہتے ہیں اور جائیداد سے عملاً بچوں کے حق میں دستبردار ہو جاتے ہیں۔

تاہم اس خرابی بسیار کے باوجود مسلمانوں میں بوڑھے ماں باپ کو اولڈ ایج ہوم بھیجنے کا کلچر عام نہیں ہے۔ والدین کے ساتھ حسن سلوک کے حکم پر پوری طرح عمل ہوتا ہے یا نہیں کم از کم بچوں کے دیدوں میں اتنا پانی ہوتا ہے کہ آخر وقت تک والدین کو ساتھ رکھتے ہیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply