شادی ہر مسئلے کا حل یا مزید مسائل کی وجہ ؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے معاشرے میں ہر مسئلے کا ایک ہی حل ہے، شادی۔ اگر آپ کا بیٹا بری صحبت کا شکار ہو گیا ہے۔ کام نہیں کرتا۔ نشے کا عادی ہے۔ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ والدین کی بات نہیں مانتا۔ تو ان سب مسائل کا ایک حل ہے کہ اس کی شادی کر دی جائے۔ جب بیوی آئے گی تو ٹھیک ہو جائے گا۔ ایک آدھ بچہ ہو گیا تو مکمل ٹھیک ہو جائے گا۔ بچی نے دس جماعتیں پڑھ لیں۔ بس تعلیم مکمل ہو گئی۔ اب اس کا رشتہ تلاش کریں۔ بچی امتحان میں فیل ہو گئی۔ بس شادی کر کے اپنے گھر کی کریں۔

بچی پڑھنا چاہتی ہے۔ زندگی کو لے کر اس نے کچھ خواب سجائے ہیں۔ اسے خواب سجانے کا حق نہیں۔ اتنا پڑھ لکھ کے کیا کرنا ہے۔ کرنا تو ہانڈی چولہا ہی ہے ناں۔ بچے ہی پالنے ہیں۔ سسرال کی خدمت کرنی ہے۔ شوہر کی اطاعت کرتے مر جانا ہے۔ بس یہی زندگی ہے۔ دونوں جانب نہ تو شادی سے پہلے ذہنی تربیت کی جاتی ہے۔ نہ ہی شادی کے حوالے سے کاؤنسلنگ کا رواج ہے۔ بس بیٹا ہے تو کھیلنے کے لیے بیوی کی صورت کھلونا لا دو۔ بیٹی ہے تو سر سے بوجھ اتارو۔ نہ ذہنی ہم آہنگی نہ ایک دوسرے سے کوئی کمفرٹ لیول سیٹ ہوتا ہے۔ اور شادی ہو جاتی ہے۔

دوسری جانب مرد ہے یا عورت۔ محبت ہو گئی ہے۔ اینڈ یہ ہوتا ہے کہ شادی کر لیتے ہیں۔ پھر شادی کے بعد جب ہر وقت ساتھ رہنا پڑتا ہے تو پتہ چلتا ہے کہ ہمارے تو ذہن ہی آپس میں نہیں ملتے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کے بعد بڑے بڑے اختلافات اور پھر انہی چپقلشوں میں بچے پہ بچہ پیدا ہوتا جاتا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ چاہے ارینجڈ میرج ہو یا لو میرج، ذہنی ہم آہنگی ہونے میں یا تو وقت کے ساتھ بہتری آ جاتی ہے، یا پھر اس حد تک دوری کہ بس ساتھ رہنا اس لیے گوارا کر لیا جائے کہ بچے ڈسٹرب نہ ہوں۔ اور یوں سرد جنگ کے ماحول میں محبت کب دفن ہوتی ہے کسی کو بھی پتہ نہیں چلتا۔

ہمارا معاشرہ چونکہ پدرسری معاشرہ ہے۔ یہاں مرد کو عورت سے دو گنا زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔ اگر کمپرومائز کرنا پڑے تو زیادہ تر بوجھ عورت پہ ڈالا جاتا ہے۔ وہ چونکہ عورت ہے۔ معاشرے میں اس کا الگ کوئی مقام نہیں۔ وہ بوجھ ہے۔ تو اسے بوجھ لاد لاد کے ہلکان کر دیا جاتا ہے۔ تب تک جب تک وہ دنیا سے چلی نہ جائے۔ عورت کی معاشی خودمختاری کا تصور بہت کم لوگوں میں ہے۔

لڑکی جوان ہو رہی ہے۔ تو سمجھو اس کے لیے پابندیوں کے سیلاب آ گئے ہیں۔ یوں مت کھاؤ۔ یہ مت کرو۔ باہر اکیلے مت جاؤ۔ ایسے کپڑے مت پہنو۔ بھائی کی عزت کرو۔ مرد کے سامنے زبان مت چلاؤ۔ اب وہ مرد چاہے بھائی ہے باپ ہے خاوند ہے یا بیٹا ہے۔ عورت کو حق نہیں کہ وہ سوال کر سکے۔ اگر لڑکی کوئی بھی کام کرنا چاہے۔ کوئی فیشن کرنا چاہے اسے کہا جاتا ہے کہ اپنے گھر جا کے کرنا۔ اپنے ہی جگر گوشوں کو پال پوس کے اپنے ہی گھر پرایا مال کہنا ہمارا ہی وتیرہ ہے۔

ایسی ہی نشئی، ذہنی مریض ناکارہ و نکٹھو بیٹے کو بیوی پہ حکم چلانے کی ترغیب دی جاتی ہے۔ سالن گرم چاہیے۔ اپنی بیوی آئے گی تو اسے یہ نخرے دکھانا۔ پھر وہی نکٹھو بیوی کو کھلونا ہی سمجھتا ہے۔ مار پیٹ گالم گلوچ اور میریٹل ریپ۔ اس کے نتیجے میں آتے بچے اور پھر بچے بھی وکٹم بنتے ہیں۔

آخر کیا وجہ ہے کہ ہم شادی کو ہر مسئلے کا حل تو سمجھتے ہیں مگر شادی کر کے رہنا کیسے ہے یہ اپنے بچوں کو نہیں سکھاتے۔ ہم یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ ہم صرف شادی کر کے ہی ایک دوسرے کے ساتھ مخلص رہ سکتے ہیں۔ اس معاملے میں ہم فوراً مغرب کی مثالیں دینے پہ آ جاتے ہیں کہ جی وہاں تو بہت بے حیائی ہے۔ لوگ بنا شادی ساتھ رہتے ہیں۔ بچے بھی پیدا کر لیتے ہیں۔ مگر شادی نہیں کرتے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ شادی نہیں کرتے؟ وجہ یہ ہے کہ وہ شادی کو ایک مکمل ذمہ داری کے طور پہ لیتے ہیں۔

دوسری بات یہ کہ وہاں شادی کر کے عورت مرد کی آدھی پراپرٹی کی مالک بن جاتی ہے۔ طلاق کی صورت مرد کو اپنی آدھی اور بعض صورتوں میں ساری جائیداد کھونی پڑ سکتی ہے۔ ہمارے یہاں طلاق یا خلع کی صورت عورت اپنے بچوں کے دودھ تک کے لیے محتاج ہوتی ہے۔ زیور شادی کے کچھ عرصے میں یا تو سسرال والے ہتھیا لیتے ہیں یا پھر شوہر۔ یہاں چند فیصد ان خواتین کو نکال لیجئیے۔ جن کی شوہر پہ اجارہ داری چل گئی۔ پھر خاوند اور سسرال کیا بیٹے بہوئیں داماد سب پہ انہی کی چلتی ہے۔ خیر یہ تو الگ موضوع ہے۔ اس پہ پھر بات کریں گے۔

میں یہاں ہرگز یہ نہیں کہہ رہی کہ آپ اپنے بچوں کو بنا شادی کے رہنے دیں یا بچے پیدا کرنے دیں۔ جنہوں نے ایسا کرنا ہو۔ وہ پوچھ کے تھوڑی کرتے ہیں۔ بہرحال اگر آپ نے اپنے بچے بچی کی شادی کر دی ہے۔ تو ان کو پرسنل سپیس دینا سیکھیں۔ شادی کے بعد لڑکے اپنے والدین بہن بھائیوں سے شرماتے بیوی کے ساتھ بیٹھنے پہ شرمندہ شرمندہ پھرتے ہیں۔ اگر کہیں ماں نے یا بہن نے ہنسی مذاق کرتے دیکھ لیا۔ تو نیا ڈرامہ شروع ہو جاتا ہے کہ تم لوگوں کے دیدوں کا پانی مر گیا ہے، کوئی شرم حیا نہیں رہی۔ حیرت تو یہ ہے کہ شادی بھی خود ہی کی ہوتی ہے۔ شادی کا مطلب بھی سمجھتے ہیں۔ مگر میاں بیوی کے تعلق کو بہن بھائی والا تعلق دیکھنا چاہتے ہیں۔ تو بھئی شادی کیوں کی اگلوں کی۔

والدین اولاد کو ملکیت سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شادی کے بعد زوجین کے آپسی تعلقات پہ تنقید کرتے نظر آتے ہیں۔ جوائنٹ فیملی سسٹم میں دلہن لائی ہی اس لیے جاتی ہے۔ کہ مفت میں جتنا کام بیاہ کے آنے والی لڑکی سے کروایا جاتا ہے۔ اتنے کام ماسیوں کو ہزاروں دے کر بھی نہیں ہوتے۔ پھر حکم چلانے کو ایک مفت بندہ ملا ہے۔ تو کون کم بخت جانے دے گا۔ دن بھر کی تھکی ہاری عورت کو جب مرد کی جانب سے بھی توجہ نہ ملے تو نتیجہ چڑچڑے پن سے ہوتے ہوئے جھگڑوں اور پھر طلاق یا ساری عمر سرد جنگ میں زندگی گزارنے پہ نکلتا ہے۔

ملکیت کا تصور والدین کے بعد میاں بیوی میں بھی پوری شدت سے ہوتا ہے۔ عورت نے چونکہ بچپن سے یہ سنا ہے۔ کہ کوئی فرمائش کرنی ہے تو اپنے گھر جا کے کرنا۔ اپنے خاوند سے کہنا۔ تو وہاں عورت کی نفسیات میں یہ بات بیٹھ جاتی ہے کہ جس کے ساتھ وہ بیاہ کے آئی ہے، اب وہ اس کی ملکیت ہے۔ مرد چونکہ پدرسری معاشرے کا مرد ہے جسے بچپن سے اپنی اہمیت کا اندازہ کروا کے بڑا کیا جاتا ہے۔ وہ خود پہ تو کسی کو حکومت نہیں کرنے دیتا۔ ہاں بیوی کو وہ اپنی ملکیت سمجھتا ہے تو پھر وہ اپنی ملکیت جتاتا ہے۔ اس ملکیت کی لڑائی میں کبھی ایک فریق جیت جاتا۔ کبھی دوسرا۔ اور کبھی الگ ہونے پہ کہانی ختم ہو جاتی ہے۔

میں یہ سمجھتی ہوں اور چاہتی ہوں کہ ایسا ہو۔ شادی سے پہلے باقاعدہ لڑکا لڑکی کی کاؤنسلنگ کروائی جائے۔ جوائنٹ فیملی میں جوڑوں کو نہ ذہنی آزادی ملتی ہے نہ جسمانی۔ سو شادی کر کے بچوں کو الگ کر دیا جائے۔ اس سے ایک تو ان پہ ذمہ داری کا احساس بڑھتا ہے۔ دوسرا ایک دوسرے کو سمجھنے کا وقت ملتا ہے۔ بچے پیدا کرنے کا پریشر ڈالنا بہت غلط چیز ہے جب تک دونوں کی ذہنی ہم آہنگی نہ ہو بچہ مت پیدا کریں۔ کیونکہ بچے کی ذمہ داری بہت بڑی ذمہ داری ہے۔

ایک دوسرے کو وقت دیں۔ پرسنل سپیس کا احترام سیکھیں۔ کمیونیکیشن گیپ مت آنے دیں۔ صحت مند معاشرے و صحت مند نسل کے لیے ایک دوسرے کو سمجھنا ضروری ہے۔ ایک دوسرے سے اختلاف یا مختلف نظریے و سوچ کا احترام کریں۔ اور اگر ساتھ چل نہیں سکتے تو ایک دوسرے سے سلیقے سے الگ ہو جائیں۔ ضروری نہیں ہوتا کہ ہم ہر تعلق کو گالی دے کر ہی ختم کریں۔ دنیا نے تماشا دیکھنا ہوتا ہے۔ کیونکہ آپ تماشا دکھا رہے ہوتے ہیں۔ تعلقات میں اخلاقیات کا بہت ہاتھ ہوتا ہے۔ اخلاقیات سیکھنی چاہئیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments