میں نے صلاحیتوں کو نشے کی بھینٹ چڑھتے دیکھا ہے

اس کا تعلق ایک انتہائی غریب گھرانے سے تھا۔ لیکن سچائی، نیکی اور حسن پر کسی کا اجارہ تو نہیں۔ گدڑیوں کو ٹٹولو تو وہاں سے بھی لعل برآمد ہو جاتے ہیں۔ وہ ایک انتہائی ذہین، قابل، محنتی اور باصلاحیت نوجوان تھا۔ اس کا شمار اپنے علاقے کے چند ہونہار ترین لڑکوں میں ہوتا تھا۔ شہر بھر میں اس کی مثالیں دی جاتی تھیں اور والدین اور اساتذہ اپنے بچوں کو اس جیسا بننے کی تلقین کیا کرتے۔

وہ اپنی عمر کے سولہویں سال میں داخل ہو چکا تھا۔ اس کے والدین، اساتذہ اور رشتے دار سب اس کی سعادت مندی و فرماں برداری کے مداح تھے۔ میٹرک کے امتحان میں اس نے ضلعی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی تو اس کے اساتذہ نے اسے لاہور جا کر کسی بڑے تعلیمی ادارے میں ایف ایس سی پری انجینئرنگ کرنے کی ترغیب دی۔ غریب والدین کی آنکھوں میں بھی امید کے دیے روشن ہو گئے۔ انہیں محسوس ہوا کہ کسی نہ کسی طرح اگر یہ پڑھ گیا تو ان کی زندگی بھر کی محرومیوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ اپنی زندگی کے آخری حصے میں انہیں بھی خوشحالی اور آسودگی کی چھاؤں میسر آجائے گی۔

یوں تو مفلس کی جیب، اور فقیر کی کٹیا ہمیشہ خالی ہی رہتے ہیں۔ مگر والدین نے جیسے تیسے کر کے اس کے کالج کی داخلہ فیس، سال بھر کے تعلیمی اخراجات، ہاسٹل کا کرایہ اور جیب خرچی اس کے پلو سے باندھ کر اسے لاہور روانہ کر دیا۔ باپ نے اونے پونے داموں اپنی رہی سہی املاک بیچی، ماں نے کانوں کی بالیاں اتاریں۔ بیٹی کے جہیز کے لیے جمع کی گئی پونجی کو بھی ساتھ ملایا، جسے عام طور پر والدین عزیز ترین متاع کی طرح سینت سینت کر جمع کرتے ہیں۔

خوشبو اور صلاحیت جہاں جاتی ہیں اپنا آپ منوا لیتی ہیں۔ روشنی اور قابلیت کو چھپایا نہیں جاسکتا۔ کالج میں بھی اس کی سعادت مندی اور قابلیت کے سکے نے عروج پانے میں دیر نہیں کی۔ پہلے ماہانہ امتحان میں اس نے ننانوے فی صد نمبر حاصل کر کے اساتذہ سمیت پورے کالج کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔ لیکن قضا و قدر کے فیصلے بھی کچھ عجیب ہی ہوتے ہیں۔ عین وہ وقت جب ہم سعادت اور خوش بختی کے ستاروں کو چھو رہے ہوتے ہیں۔ دور کہیں بد بختی اور بد نصیبی کے مہیب سائے بھی ہماری تاک میں ہوتے ہیں۔

اس نے کبھی سگریٹ کو بھی ہاتھ نہیں لگایا تھا۔ مگر ہاسٹل میں اس کو کچھ ایسے دوست ملے جنہوں نے تین مہینوں میں ہی اس رنگارنگ منشیات کا چسکا لگا دیا۔ تعلیمی میدان کی طرح یہاں بھی وہ امتیازی شان کے ساتھ آگے بڑھتا چلا گیا۔ تین ماہ کے مختصر عرصے میں اس نے سگریٹ، چرس، بھنگ، آئس، شراب، افیون اور ٹیکے تک ہر طرح کے نشے کو اپنا رفیق سفر بنا لیا۔

کہتے ہیں انسان نشے کو نہیں پیتا بلکہ نشہ انسان کو پی جاتا ہے۔ ادھر انسان نشے کو منہ لگاتا ہے اور ادھر اس کی صلاحیتیں، اس کے وسائل، اس کا وقت، اس کی زندگی اور اس کا مال اسباب سب، دیکھتے ہی دیکھتے سب نشے کے پیٹ میں چلا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ پہلے ماہانہ ٹیسٹ کے نناوے فیصد نمبر ششماہی امتحانات میں بمشکل پینتالیس فی صد تک پہنچ پائے۔ پہلے سہ ماہی میں سو فی صد حاضر رہنے والا اب ہفتے میں چاردن کالج سے غیر حاضر رہنے لگا۔ چند ماہ کے اندر ہی اس اپنا سارا زاد راہ نشے کے جہنم میں جھونک دیا۔ ابھی سال ختم ہونے میں سے تین مہینے باقی تھے کہ اس کی جیب اور مستقبل دونوں تاراج ہو چکے تھے۔

یہ نوجوان اب شہر واپس آچکا ہے مگر والدین اور اساتذہ کی تمام تمناؤں، اپنی ساری صلاحیتوں، ماں کے کانوں کی بالیوں اور بہنا کے جہیز کو منشیات فروشوں کی جیب میں دفن کر کے۔ اس کے ہمراہ صرف اور صرف لاشوں کا ایک انبار ہے۔ یہ اب ایک پورا قبرستان ہے جس میں اس کے والد کے ارمانوں کی لاش دفن ہے۔ بہن کے جہیز کی میت دھری ہے۔ ماں کی تمناؤں کی چتا جل رہی ہے۔ اب اس کا صرف ایک ہی کام ہے۔ رات پچھلے پہر کسی مسجد سے جا کر پنکھا یا ٹیوب لائٹ اتارنا یا پھر راستے سے کسی سائن بورڈ کو اکھاڑنا اور پھر اسے کباڑی کے ہاتھ بیچ کر اپنے نشے کی ضرورت پوری کرنا۔

یہ کہانی ہمارے معاشرے کی ایک آفاقی کہانی ہے۔ جو زمان و مکان کی قید سے آزاد ہے۔ یہ واقعہ ایک جگہ پیش آیا ہے، نہ ہی ایک دفعہ پیش آیا ہے۔ یہ ایک مسلسل پیش آنے والا واقعہ ہے۔ یہ وہ افسانہ ہے جسے کاتب تقدیر نے ماضی میں بھی لکھا، حال میں لکھ رہا ہے اور مستقبل میں بھی لکھتا رہے گا۔ یہ کسی ایک نوجوان کی سوانح عمری نہیں بلکہ اگر آپ اپنے گرد و پیش میں نظر دوڑائیں گے تو آپ کو سینکڑوں، ہزاروں ایسی سوانح عمریاں مل جائیں گی۔

آپ کو اس ڈاکٹر کی قبر مل جائے گی جسے اس کے والدین نے اپنا پیٹ کاٹ کر میڈیکل کی تعلیم دلوائی۔ وہ دن میں سینکڑوں لوگوں کی مسیحائی کرتا اور ان میں شفا بانٹتا۔ ماہانہ لاکھوں روپے اپنی ماں کی ہتھیلی پہ رکھ دیتا۔ مگر ایک رات حسب عادت دوستوں کی مجلس میں اس نے شراب کے جام پہ جام لڈھائے۔ واپسی پر گاڑی چلاتے ہوئے اس پر اتنا زیادہ خمار چڑھا کہ عقل ماؤف ہو گئی۔ اس نے اپنی تیز رفتار گاڑی دیوار سے دے ماری اور اپنا قصہ تمام کر دیا۔

آپ کو ماں باپ کا وہ اکلوتا بیٹا مل جائے گا جس نے نشے کی حالت میں موٹر سائیکل چلائی جو ایک کھائی میں جاگری۔ جہاں سے تین دن بعد اس کی تعفن زدہ لاش ملی۔ آپ کو وہ ادھیڑ عمر باپ مل جائے گا جس کی تین بیٹیاں جوانی کی دہلیز پہ قدم رکھنے کو ہیں۔ ان کی عمروں کے ساتھ ان کی ضروریات بھی بڑھ رہی ہیں مگر اسے پاؤڈر نوشی سے فرصت ملے تو تب خانگی امور پر توجہ دے۔ چنانچہ اس کی بچیاں زکٰوۃ اور صدقات پر پل رہی ہیں۔ آپ کو سترہویں گریڈ کا وہ افسر مل جائے گا جسے منشیات کی لت نے افسر ی کی کرسی سے اٹھا کر کوڑا کرکٹ کے اس ڈھیر پر جا پھینکا ہے جہاں وہ اور اس کے ہمنوا استعمال شدہ سرنجیں تلاش کر کے اپنے نشے کی ضرورت پوری کرتے ہیں۔

2013 ء میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ستر لاکھ سے زائد لوگ منشیات کے عادی ہیں۔ یہ سات سال پرانی بات ہے۔ ہمارے روز افزوں سماجی بگاڑ کو آپ بہت بھی بریکیں لگائیں تب بھی یہ عدد آج ڈیڑھ کروڑ سے یقینی طور پر متجاوز ہو چکا ہو گا۔ بیٹھکیں، چوپال، اسکول، کالج، یونیورسٹیاں، ہاسٹل اور مزاروں کے عرس و اجتماعات تک کون سی ایسی جگہ ہے جو منشیات سے محفوظ ہے۔ نوجوانوں اور خاص طور پر باصلاحیت نوجوانوں کی ایک بہت بڑی تعداد اس دلدل میں گھستی چلی جا رہی ہے۔ گھروں کے گھر منشیات کی وجہ سے قبرستان بنتے جا رہے ہیں۔ معراجؔ فیض آبادی نے اسی کی منظر کشی کرتے ہوئے کہا ہے :

مے کدے میں کس نے کتنی پی خدا جانے مگر
مے کدہ تو میری بستی کے کئی گھر پی گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words