لاک ڈاؤن اور ملک کے حالات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

وبائیں بیشتر تباہ کن ہی ہواکرتی ہیں۔ کبھی کبھی انسان کے لئے صرف تباہ کن نہیں ہوتی بلکہ وحشت، خوف اور درد کے ساتھ ساتھ تلخ حقیقتوں پرمشتمل انمٹ داستان چھوڑ جاتی ہیں۔ کرونا وائرس بھی ان عالمی وباوں میں شامل ہے جس نے ترقی کی معراج کے داعی سپر پاور اقوام کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا، لاکھوں انسان اس وبا کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ یہ وہ المیہ ہے جس نے کائنات کو سوگوار کردیا، اس جگرخراش سانحات کے بعد ایسا لگتاہے کہ کرونا اپنا رخت سفر باندھ چکاہے اور انشاء اللہ عن قریب الوداع کہتے ہوئے تاریخ کے اوراق میں جا بسے گا۔

اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں اس وبا کی تباہ کاری دنیا کے دیگر ممالک کے بنسبت کافی کم ہے۔ اس کی وجہ وفاقی حکومت کی تذبذب پہ مبنی حکمت عملی ہے جس سندھ حکومت کی بے جا سختی یا پھر عوام الناس کی اعصابی مضبوطی، یہ ہمارا موضوع سخن نہیں، اب چونکہ کرونا اپنی اختتامی مراحل پہ داخل ہوچکا ہے اور اقوام عالم یہ تسلیم کرچکی ہیں کہ اس وبا کی وجہ سے معیشت کے پہیے کو مزید جام کرنا کسی صورت بھی مناسب نہیں ہوگا، اگر فوراً کوئی ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے گئے تو شاید دنیا میں موجود بہت سی چھوٹی معیشت والے ممالک کا دیوالیہ ہوجائے گا۔ اس طرح دنیا میں ایک اور وبا فاقوں کی صورت میں نازل ہوگی جس کی وجہ سے اقوام عالم کو کرونا سے زیادہ وحشتناک صورتحال کا سامناکرنا پڑے گا۔

دنیا کے وہ ممالک جن کے اوپر کرونا وائرس کسی آفت زدہ بلا کی صورت میں نازل ہوئی ان ممالک نے احتیاطی تدابیر کے ساتھ لاک ڈاؤن کے خاتمے کا اعلان کردیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دنیا کے تمام ممالک ان کی تقلید میں لاک ڈاؤن ختم کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ یہ تو تھی۔ ان ممالک کی داستان جو کرونا وائرس سے ناصرف متاثر تھے بلکہ ان ممالک کی بڑی بڑی دیوہیکل معیشت کے مجسمے زمین بوس ہوچکے ہیں۔

ایسے موقع پر جب اقوام عالم کے تمام چھوٹے بڑے ممالک اپنے اختلافات کو پس پشت رکھتے ہوئے ہنگامی بنیادوں پر عوام کی فلاح و بہبود کے لئے مدبرانہ فیصلے کرنے کی ہماجہت کوششوں میں سرگرداں ہیں۔ وہی ہمارے ملک پاکستان میں وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت میں جاری رسہ کشی اپنے عروج پہ ہے۔ وفاقی حکومت کی پالیسی میں جان نہیں اور سندھ حکومت کی پالیسی میں رحم و امان نہیں، جس کی وجہ سے سندھ کی شہری آبادی کی عوام بلخصوص کراچی کے عوام شدید اصطراب کا شکار ہیں۔

وفاق غربت کی روداد سنائے نہیں تھکتی جب کہ سندھ حکومت فنڈنا ملنے کی، وفاق کے پاس سوائے غیر موثر پالیسی اور تدبیرو تقریر کے کچھ نہیں اور سندھ سائیں کے پاس دھونس، دھمکی اور بے رحیمانہ پالیسی کے سوا کچھ نہیں، ایسا لگتاہے کہ حکومت عوام کے لئے کچھ کرنے کو تیار نہیں خاص کرکے سندھ حکومت کی نالائقی اور کرپشن کی داستانیں ہرزبان زد عام ہے۔ سندھ حکومت نے ایک ارب سات کروڑروپے کے راشن عوام میں تقسیم کیے جو عوام تک پہنچنے سے پہلے ہی غائب ہوگئے، مزے کی بات یہ ہے کہ حکمران شہریوں کو فلاحی اداروں اور این جی او کے رحم و کرم پہ چھوڑ کر اور اداروں کو مساجد و مدارس کے پیچھے لگا کر خوب غفلت کے مزے لے رہی ہے۔

پاکستان کی معیشت بہت اچھی نہیں ہے۔ اوپر سے اربوں ڈالر کے بیرونی قرضوں کے بوجھ نے ملکی معیشت کو تباہی کے دہانے میں لاکھڑا کردیاہے، ملک کی نصف آبادی غربت کے لکیر تلے زندگی بسر کرنے پہ مجبور ہے۔ عوام کی بہت بڑی تعداد روزانہ کی بنیاد پر اجرت پر کام کرتے ہیں۔ اس وقت خودساختہ مہنگائی کی شدت اور ذخیرہ اندوز مافیا کے آگے بے بس عوام برہتے ہوئے جرائم لوٹ مار چھینا چھپٹی جیسے حساس ترین معاملات کی وجہ سے ذہنی اذیت کا شکار ہیں جب کہ حکومت ان جرائم کے سدباب کے لئے کوئی خاطرخواں اقدامات کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔ یہ سب غربت بیروزگاری کے دلدل میں پھنسے عوام کی معاشی استحصال نہیں تو اور کیا ہے؟

ان سب کے باوجود غیرمعینہ مدت تک کے لئے لاک ڈاؤن سمجھ سے بالا تر ہے۔ حقیقت تو یہ ہے۔ کے نظام حکومت کرونا کے سامنے مفلوج نظرآتاہے، کرونا نے حکومت کی بلند و بالا دعوؤں کے مینار کو زمین بوس کردیاہے حکومت کی معیشت کی ٹیم اور ادارہ صحت مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ سیاسی اختلافات کی وجہ سے ادارے مکمل تباہی کی جانب گامزن ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت کوئی مثبت پالیسی مرتب نہیں کی تو لاک ڈاؤن کے بعد معاشی و غذائی بحران کرونا وائرس سے زیادہ تباہ کن ثابت ہوگا، جس کی تمام تر ذمہ داری صرف اور صرف حکومت پر عائد ہوگی عوام کے لئے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔

عن قریب عوام کا قوت برداشت بھی جواب دے چکا ہوگا اس صورت میں غربت سے ستائے عوام بناکسی احتیاطی تدابیر کے اپنی گھروں سے باہر نکل آئے تو حکومت اسے کیسے کنٹرول کرے گی۔ وفاق اور صوبائی حکومت اپنی ذمہ داری کا احساس کریں اور عوام کو بدظن ہونے سے پہلے احسن تدبیروں سے معاملات کو حل کرنے کی معقول کوششیں کریں اور ملک کو فسادات اور انارکی کی اماجگاہ ہونے سے بچائیں۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Leave a Reply