کولڈ ڈرنک کی بوتل کب ہلائی جائے گی؟


بعض اوقات مجھے یہ بات سمجھ میں آکر ہی نہیں دیتی کہ ہم بحیثیت قوم ہیں کیا۔ ایک ایسی قوم جس کے پاس دین بھی ہے اور ایمان بھی لیکن قوم کا اپنا نہ کوئی دین ہے اور نہ ایمان۔ یہی نہیں بلکہ دنیوی اعتبار سے بھی مجھے یہ بات سمجھ میں آج تک نہیں آ سکی کہ آیا ہمارا قومی مزاج جمہوری ہے یا ہم ڈنڈا پیر کے مرید ہیں۔

سننے والوں کو یہ بات کتنی عجیب لگے گی کہ کسی قدم کے پاس دین بھی ہو اور ایمان بھی لیکن میرے جیسا کوئی یہ کہہ رہا ہو کہ بحیثیت قوم، قوم کا نہ تو کوئی دین ہے نہ ایمان۔ بظاہر دونوں باتوں میں کھلا تضاد سہی لیکن اس کا کیا کیاجائے کہ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جسے کہے اور قبول کیے بغیر کوئی چارہ بھی نہیں۔

یہ دین اور ایمان ہی کی قوت تھی جس نے دو درندوں، ہندو اور انگریز، کے جبڑوں سے اپنے لئے ایک خطہ زمین چھین لیا اور لاکھوں افراد نے جان، مال، عزت اور آبرو کی پرواہ کیے بغیر ایک ایسی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں انگریز کو بر صغیر ہند و پاک چھوڑ کر بھاگنا پڑا اور ہندو کو پسپائی کا منھ دیکھنا پڑا لیکن بقول میرے، قوم کا اپنا کوئی نہ تو دین ہے اور نہ ایمان، اس لئے آزادی کے بعد اس بات ہی کو بھلادیا گیا کہ پاکستان آخر بنایا کیوں گیا تھا۔

سیاسی اعتبار سے بھی ہمارا مزاج دنیا کی دیگر اقوام کے مقابلے میں بہت عجیب سا ہے۔ ایک تو سیاسی معاملات میں ہمارے منھ کا ذائقہ اتنا تلون مزاج ہے کہ خدا کی پناہ۔ جب ہم پر سفید کالر والے حکومت کر رہے ہوتے ہیں تو نہ جانے بوٹ پر رگڑ کھائی پالش کی مہک ہمیں مشک و عنبر سے بھی زیادہ کیوں بھلی لگتی ہے اور جب بوٹ اقتدار کی کرسی پر آ دھمکتے ہیں تو کچھ عرصے بعد ہمیں بے داغ کالر شرٹ والے چور ڈاکو زردار اور شریف کیوں لگنے لگتے ہیں۔

آج کل ایک اور چنگاری شعلہ جوالہ بنتی نظر آ رہی ہے۔ ماضی میں بھی اس چنگاری نے نہ جانے کتنے ہنستے بستے گھروں اور پھول سے چہروں کو پھونک کر رکھ دیا تھا اور اب بھی اس بات کا اندیشہ ہے کہ یہی دبی چنگاری کہیں آگ کے الاؤ نہ دہکا دے۔ بے شک ہمارا کوئی دین و ایمان ہو یا نہ ہو لیکن ہمارے پاس دین بھی ہے اور ایمان بھی مگر ہمارا یہ دین اور ایمان ایک ایسا وقتی جذبہ ہے جو اٹھتا تو سمندری طوفان کی طرح ہے لیکن کولڈ ڈرنک کے جھاگ کی مانند بیٹھتا چلا جاتا ہے۔

جس طرح کولڈ ڈرنک کو ہلانے سے جوش پیدا ہوتا ہے اور ڈھکنے کا منھ کھلتے ہی جھاگ کا ایک طوفان بے قابو ہوکر بوتل سے باہر ابل پڑتا ہے بالکل اسی طرح کوئی بھی مذہبی جذبہ ہمیں وقتی طور پر اتنا بے قابو کر دیتا ہے کہ ہم اندھے، گونگے اور بہرے ہو کر رہ جاتے ہیں اور پھر یہ سننے، دیکھنے اور سمجھنے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتے کہ ہمارے فرائض میں کسی شخصیت کو تحفظ دینا ہے یا اسے گولیوں سے چھلنی کر دینا ہے۔ کسی معصوم اور غریب جوڑے کی غلطیوں سے صرف نظر کرنا ہے یا اسے دہکتے ہوئے اینٹوں کے بھٹے میں جھونک دینا ہے یا کسی ہستی بستی، بستی کو مذہبی اختلاف کی بنیاد پر راکھ کا ڈھیر بنا دینا ہے۔

یہ اور اسی طرح کے نہ جانے کتنے بڑے بڑے کام ہیں جس سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے۔ دین و ایمان کی یہ نعمتیں اپنی جگہ لیکن حیرت اور افسوس کی بات یہ ہے کہ صدیوں سے نہ تو دین کو ہم اپنے اندر داخل ہونے دیتے ہیں اور نہ ہی ایمان کو جگہ بنانے کی اجازت دینے کے لئے تیار ہیں جس کی وجہ سے ہوتا یہی چلا آیا ہے کہ تاریخ میں ہمارے کارناموں کی ایک طویل فہرست ہونے کے باوجود، فتوحات کا حاصل کچھ بھی نہیں۔

پاکستان بن گیا، مقصد وجود ابھی تک حاصل نہیں ہوا، سویلین نے نامساعد حالات کے باوجود دستور تو بنا دیا لیکن وہ آج تک نافذ العمل نہ ہوسکا، بوٹ نے پورے ملک پر حکمرانیاں کیں لیکن مختلف اکائیوں کے درمیان محبتیں پروان نہ چڑھا سکا، سویلین ملک پر حکمرانی ضرور کرتے رہے لیکن وہ بھی قوم کو نوچتے اور گھسوٹتے رہے۔ مذہب کے نام پر تحریکیں اٹھیں اور ڈنڈا پیر سے بات چیت کرکے سب کو حیران و پریشان چھوڑ کر چلتی بنیں۔

ان ہی ساری باتوں کو سامنے رکھ کر یہ کہنا کہ ہمارے پاس دین بھی ہے اور ایمان بھی لیکن بحیثت قوم ہمارا کوئی بھی دین و ایمان نہیں، ذرا بھی بے جا نہیں ورنہ جن معاملات پر سلمان تاثیر اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل کرایا جاسکتا ہے اسی معاملے کی سنگینی پر موجودہ مسند اقتدار پر بیٹھا کوئی ایک وزیر و مشیر بھی ایسا نہیں جس کی بوٹیاں بوٹیاں نہ کردی جائیں لیکن جب تک کولڈڈرنک کی بوتل کو ہلایا نہ جائے اس میں جوش پیدا ہونا ممکن ہی نہیں۔ وہ ہاتھ جو ہر معاملے میں بوتل ہلاتے دیکھے گئے ہیں اس مرتبہ ان کی مرضی و منشا کچھ اور ہی دکھائی دیتی ہے لہٰذا قوم ”کورونا“ کا عذر تراش کر گوشہ نشین ہی رہے تو زیادہ بہتر ہے۔

Facebook Comments HS