بزرگ شہری کسی بھی باوقار معاشرے میں قابل شفقت و قابل احترام طبقہ ہے خاص کر کے اسلام نے سفید ریش بزرگوں کو عزت و احترام سے نوازا اس کی مثال جدید تمدنی معاشرہ پیش کرنے سے قاصر ہیں۔ بڑھاپا وہ حقیقت ہے جو انسان کی زندگی میں آ کر ہی رہتا ہے جہاں توانائی، جوش، ہمت و استقامت لرز کر رہ جاتی ہے۔ بزرگ شہری ہمارے معاشرے میں ماں، باپ، دادا، دادی، نانا، نانی اور دیگر رشتوں کی صورت میں ہمارے گھروں میں موجود ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بچے اگر گھر کی رونق و رحمت ہیں تو بزرگ (ضعیف) والدین سائبان و برکت ہے۔ ان کا خیال رکھنا علاج و معالج کا معقول بندوبست کرنا سعادت مند اولاد کا فریضہ ہے جو کہ مشرقی اور خاص کر کے اسلامی معاشرہ میں اولاد بحسن خوبی بطور سعادت اپنا حق سمجھ کر کرنے کو بھرپور کوشش کرتے ہیں۔
آپ کے علم میں ہوگا کہ ہمارے ملک کے محکمۂ صحت کی ناقص حکمت عملی اور ناکافی وسائل کی وجہ سے نظام صحت خوفناک صورت حال سے دوچار ہے۔ شہریوں کو صحت مند معاشرہ فراہم کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی مثبت حکمت عملی ہے اور نا ہی سنجیدگی سے مرتب کرنے کی کوشش کی ہے۔ (سندھ بالخصوص کراچی کے تعفن زدہ آب و ہوا میں صحت مند معاشرہ محض خواب سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ) جس کی وجہ سے آئے روز مختلف بیماریاں بچوں اور بزرگوں کو لگی رہتی ہیں۔ عام طور پہ ہمارے معاشرے میں 40 / 45 سال کے بعد زندگی کے بقایا ایام دواؤں کے سہارے گزرتی ہے یعنی یوں سمجھے کہ زندگی کی کمائی کا ایک خطیر حصہ صحت و تندرستی کے تعاقب میں دواؤں کے نذر ہوجاتا ہے۔
Read more